لاپتہ افراد آج پیش نہ کئے گئے تو وزیراعظم اور وزیر اعلٰی خیبر پختون خواہ کو نوٹس جاری ہونگے،سپریم کورٹ

لاپتہ افراد آج پیش نہ کئے گئے تو وزیراعظم اور وزیر اعلٰی خیبر پختون خواہ کو ...

                                      اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) سپریم کورٹ نے پینتیس لاپتہ افراد کو پیش کرنے کے لئے حکومت کو ایک اور دن دیدیا ہے اور کہا ہے کہا گر یہ معاملہ بدھ کے روز (آج) بھی حل نہ ہوا تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کئے جائیں گے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت منگل کے روز بھی اسلام آباد میں جاری رکھی، اس موقع پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ سے کیس پر پیشرفت کے بارے میں استفسار کیا اور اب تک کئے جانے والے حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا وزیراعظم نواز شریف اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے خلاف نوٹس جاری کئے جانے چاہئیں؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریٹائرڈ جسٹس میاں محمد اجمل کی سربراہی میں ایک کمیشن بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے مزید مہلت مانگی تاکہ کمشن لاپتہ افراد کے معاملے کا جائزہ لے سکے۔اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے اب تک لاپتہ افراد کیس کی چونتیس سماعتیں ہوچکی ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ کیا کمشنوں کی تشکیل روزانہ کی بنیاد پر جاری رہے گی یا کوئی لاپتہ شخص عدالت میں پیش بھی کیا جائے گا، فاضل جسٹس نے کہا کہ حکومت کو اپنے پچھلے بیان کے مطابق لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کرنا چاہیئے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر یہ معاملہ بدھ (آج) تک حل نہ کیا گیا تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کئے جائیں گے۔ عدالت نے حکومت کو ایک دن کی مہلت دیتے ہوئے سماعت آج پر ملتوی کردی۔

مزید : صفحہ اول