حکمران اگر فوج کو بیرون ملک جانے کا حکم دیں تو وہ ایسا حکم ماننے سے انکار کر دے،الطاف حسین

حکمران اگر فوج کو بیرون ملک جانے کا حکم دیں تو وہ ایسا حکم ماننے سے انکار کر ...

                                                                         لند ن ،کراچی(آئی این پی ) ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ ملک میں کرپٹ سسٹم کو تبدیل کرنے کوئی آیاہے توفوج سے ہی آیاہے،پاک فوج حکمرانوں کے کسی ایسے حکم کونہ مانے جوملک کی بدنامی کاسبب بنے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ بغاوت ہے تو مجھ پربغاوت کا مقدمہ بنادیں، جہاں ایک غداری کا مقدمہ ہے وہاں دو بنادو۔متحدہ قومی موومنٹ کے30ویں یوم تاسیس کے موقع پرملک کے35سے زائد شہروں میں بیک وقت ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ افواج پاکستان سے کہتاہوں کہ حکمران اگریہ کہیں کہ کسی ملک میں اپنی فوج بھیج دیں تویہ نہ مانیں،کرپٹ سسٹم کوتبدیل کرنے کوئی آیاہے توفوج سے ہی آیاہے۔پاک فوج حکمرانوں کے ایسے حکم نہ مانیں جوملک کی بدنامی کاسبب بنے۔الطاف حسین نے کہا کہ جس ملک میں جاگیردارانہ،وڈیرانہ،ظالمانہ نظام ہوگاوہاں جمہوریت آہی نہیں سکتی، لڑکیوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا جارہا ہے۔ایم کیوایم کے قائد کا کہنا تھاکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلیے آج تک جگہ کاتعین نہیں ہوسکا،ملکی بقاوسلامتی کویقینی بنانے کیلیے دہشت گردی کامکمل خاتمہ کرناوقت کی ضرورت ہے۔الطاف حسین نے کہا کہ سچی تحریکوں کو معاشرے کے پسے ہوئے طبقے ہی جنم دیا کرتے ہیں، شہیدوں کا خون تحریکوں کی آبیاری کرتا ہے۔ انقلاب لاناراتوں رات کی بات نہیں بلکہ آگ اورخون کے دریا عبور کرنے پڑتے ہیں۔الطاف حسین نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی بقا وسلامتی اور ترقی وخوشحالی کی آخری امید ہے اور ایم کیو ایم کی حق پرستانہ جدوجہد دنیا بھر کے مظلوم ومحروم عوام کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگی۔ایم کیو ایم کے 30ویں یوم تاسیس کے موقع پر ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو میں رابطہ کمیٹی کے ارکان، منتخب عوامی نمائندوں اور مختلف شعبہ جات کے ارکان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ 30 سالہ تحریکی جدوجہد میں خوشی اور غم کے لمحات آتے رہے لیکن اس جدوجہد میں خوشیوں کے مقابلے میں غم، دکھوں، پریشانیوں اور جانی ومالی قربانیوں کا سلسلہ بہت زیادہ رہا، حق پرستی کی تحریک آگ اور خون کے دریا عبورکرتی رہی، تحریک کے پرعزم اور مخلص ساتھی، خاردار راہوں پر چلتے ہوئے اپنے پیروں اور بدن کو زخمی کرتے رہے اور حق پرستانہ جدوجہد کی پاداش میں ہر قسم کی قربانی حتیٰ کہ جانوں کی بھی قربانیاں دیتے رہے جس کے نتیجے میں ایم کیو ایم آج ایک تناور درخت کی شکل اختیارکرچکی ہے۔الطاف حسین نے کہا کہ نظریاتی تحریکوں کی جدوجہد پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کی باڑ ثابت ہوتی ہے، اس راہ پر چلنے والوں کو انگنت آزمائشوں اور امتحانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور راہ حق پر چلنے والے اپنے پیر اور بدن کو لہولہان کرتے ہوئے منزل پر پہنچا کرتے ہیں لیکن حق پرستی کی راہ میں آنے والے امتحانات کا جو ثابت قدمی سے سامنا کرتا ہے وہی کامیابی پاتا ہے اور جو دلبرداشتہ ہوکر مایوس ہوجائے یا بددل ہوکر گھر بیٹھ جائے تو منزل بھی ایسے لوگوں کا ساتھ چھوڑ جایا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کی حق پرستانہ جدوجہد ہزارہا مخالفتوں کے باوجود ترقی، خوشحالی اور مقبولیت کی جانب گامزن ہے اور ملک بھر کے مظلوم عوام تیزی سے ایم کیو ایم کا حق پرستانہ پیغام سمجھ کر اس میں شمولیت اختیار کررہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اب ملک بھر کے عوام کو یہ یقین ہوتا جارہا ہے کہ پاکستان کی بقا وسلامتی اور ترقی وخوشحالی کے لئے ایم کیو ایم آخری امید ہے

مزید : صفحہ اول