حکمران شریعت نافذ کر دیتے تو طالبان بندوق کی طرف نہ آ تے، عبدالغفور حیدری

حکمران شریعت نافذ کر دیتے تو طالبان بندوق کی طرف نہ آ تے، عبدالغفور حیدری

کامرہ کینٹ (آئی این پی ) وزیر مملکت جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ ہم طالبان کی شریعت نہیں مانتے تاہم حکمران شریعت نافذ کر دیتے تو طالبان بندوق کی طرف نہ آ تے،شریعت پر عمل نہیں ہوتا تو طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ۔ جے یو آئی پر طالبان نواز ہونے کا الزام لگانے والے حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں جے یو آئی نے ہمیشہ عوام کے مفاد کی بات کی ہے جو نام نہاد سیکولر ازم کا پرچار کرنے والوں کو کبھی ہضم نہیں ہوئی ۔ وہ یہاں مسجد عثمان غنی کامراں کلاں میںتحفظ مدارس دینیہ کانفرنس سے خطاب کے بعد میڈیا سے بات چیت کررہے تھے اس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قاری عتیق الرحمن ، ضلعی امیر مولانا شیر زمان بھی اس موقع پر موجودتھے ، وزیر مملکت مولاناسینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جے یو آئی ہمیشہ سے مذاکرات کے حق میں رہی ہے۔ جے یو آئی نے طالبا ن سے مذکرات کے سلسلہ میںراہ ہموار کرنے کے لیے قبائلی علاقوں میں وہاں کی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا کیونکہ قبائل کے یہ ملک اور مشیران ہمارے لیے بہت مفید ثابت ہوئے ہیں اور یہ لوگ قبائل کے رسم و رواج سے بھی آشنا ہے ۔ انہوں نے کہا مذاکرات کے لیے تشکیل کر دہ کمیٹی کی ہم نے بھر پور حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر با عث تشویش ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں آج اسلام کے نام لیوا دینی مدارس کے تحفظ کے جلسے کرتے پھر رہے ہیں اس ملک میں بھی مدارس اور مساجد کو خطر ہ ہے پاکستان مسلمانوں کا ملک اور یہاں کے رہنے والوں کی اکثریت بھی مسلمان ہے۔مولاناسینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد 1971تک وطن عزیز جرنیلوں کی آمریت اور جمہوری حکومتوں پر شب خون مارنے والوں کی شکار گاہ بنا رہا۔ 70 ءکے الیکشن میں ہمارے اکابرین منتخب ہوئے تو ان کی کاوشوں سے 1973میں پاکستان کا پہلا اور متفقہ آئین بنا جس میں نظام شریعت کو تحفظ دیا گیا نظریاتی کونسل کے حوالہ سے ادارہ تشکیل دیا گیا اسلامی نظریاتی کونسل اور آئین پاکستان کے تحت نیک ، پرہیز گار، کرپشن نہ کرنے والا ، صالح ، با کردار،اسلامی طریقہ کار پر عمل کرنے والا جو گناہ کبیرہ کا مرتکب نہ ہو اس کے لیے آئین کی دفعہ 62 اور 63 بنائی گئی ۔ صحافیوں کے مختلف سوالات کے جواب میں مولاناسینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے شریعت کی تشریح کرتے ہوئے دوسری شادی کے بارے میں وضاحت کی کہ اسلام میں دوسری شادی کی کوئی ممانیت نہیں صرف تمام حقوق دینے کو کہا گیا ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل نے یہ وضاحت بھی کی کہ شریعت میں شادی کے لیے عمر کی کوئی آخری حد مقرر نہیںا س پر نام نہاد سول سوسائٹی اب نظریاتی کونسل کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ جے یو آئی نے طالبا ن سے مذکرات کے سلسلہ میںراہ ہموار کرنے کے لیے قبائلی علاقوں میں وہاں کی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا کیونکہ قبائل کے یہ ملک اور مشیران ہمارے لیے بہت مفید ثابت ہوئے ہیں اور یہ لوگ قبائل کے رسم و رواج سے بھی آشنا ہے ۔

عبدالغفور حیدری

‰œŸŽ  “Ž¤˜„  š œŽ ‹¤„¥ „¢ –ž‚  ‚ ‹¢› œ¤ –Žš  ¦ ³ „¥í ˜‚‹ž™š¢Ž ‰¤‹Ž¤

œŸŽ¦ œ¤ … âÈ£¤ ¤  ƒ¤ á ¢¤Ž ŸŸžœ„ ‡Ÿ˜¤„ ˜žŸ£¥ ’žŸ âšá Ÿ¢ž  ˜‚‹ž™š¢Ž ‰¤‹Ž¤  ¥ œ¦ ¦¥ œ¦ ¦Ÿ –ž‚  œ¤ “Ž¤˜„  ¦¤¡ Ÿ „¥ „¦Ÿ ‰œŸŽ  “Ž¤˜„  š œŽ ‹¤„¥ „¢ –ž‚  ‚ ‹¢› œ¤ –Žš  ¦ ³ „¥í“Ž¤˜„ ƒŽ ˜Ÿž  ¦¤¡ ¦¢„ „¢ –ž‚  œ¥ ’„§ ¦¢ ¥ ¢ž¥ ŸœŽ„ œ œ¢£¤ š£‹¦  ¦¤¡ ó ‡¥ ¤¢ ³£¤ ƒŽ –ž‚   ¢ ¦¢ ¥ œ žŸ ž ¥ ¢ž¥ ‰›£› ’¥  —Ž¤¡ ˆŽ Ž¦¥ ¦¤¡ ‡¥ ¤¢ ³£¤  ¥ ¦Ÿ¤“¦ ˜¢Ÿ œ¥ Ÿš‹ œ¤ ‚„ œ¤ ¦¥ ‡¢  Ÿ  ¦‹ ’¤œ¢žŽ Ÿ œ ƒŽˆŽ œŽ ¥ ¢ž¢¡ œ¢ œ‚§¤ ¦•Ÿ  ¦¤¡ ¦¢£¤ ó ¢¦ ¤¦¡ Ÿ’‡‹ ˜†Ÿ  ™ ¤ œŸŽ¡ œž¡ Ÿ¤¡„‰š— Ÿ‹Ž’ ‹¤ ¤¦ œ šŽ ’ ’¥ Š–‚ œ¥ ‚˜‹ Ÿ¤Œ¤ ’¥ ‚„ ˆ¤„ œŽŽ¦¥ „§¥ ’ Ÿ¢›˜ ƒŽ ”¢‚£¤ ‡ Žž ’¤œŽ…Ž¤ Œœ…Ž ›Ž¤ ˜„¤› žŽ‰Ÿ  í •ž˜¤ Ÿ¤Ž Ÿ¢ž  “¤Ž Ÿ  ‚§¤ ’ Ÿ¢›˜ ƒŽ Ÿ¢‡¢‹„§¥ í ¢¤Ž ŸŸžœ„ Ÿ¢ž ’¤ ¤…Ž ˜‚‹ž™š¢Ž ‰¤‹Ž¤  ¥ œ¦ œ¦ ‡¥ ¤¢ ³£¤ ¦Ÿ¤“¦ ’¥ ŸœŽ„ œ¥ ‰› Ÿ¤¡ Ž¦¤ ¦¥ó ‡¥ ¤¢ ³£¤  ¥ –ž‚   ’¥ ŸœŽ„ œ¥ ’ž’ž¦ Ÿ¤¡Ž¦ ¦Ÿ¢Ž œŽ ¥ œ¥ ž¤¥ ›‚£ž¤ ˜ž›¢¡ Ÿ¤¡ ¢¦¡ œ¤ ›¤‹„ œ¢ ¤œ ƒž¤… šŽŸ ƒŽ œ…§ œ¤ œ¤¢ œ¦ ›‚£ž œ¥ ¤¦ Ÿžœ ¢Ž Ÿ“¤Ž  ¦ŸŽ¥ ž¤¥ ‚¦„ Ÿš¤‹ †‚„ ¦¢£¥ ¦¤¡ ¢Ž ¤¦ ž¢ ›‚£ž œ¥ Ž’Ÿ ¢ Ž¢‡ ’¥ ‚§¤ ³“  ¦¥ ó  ¦¢¡  ¥ œ¦ ŸœŽ„ œ¥ ž¤¥ „“œ¤ž œŽ ‹¦ œŸ¤…¤ œ¤ ¦Ÿ  ¥ ‚§Ž ƒ¢Ž ‰Ÿ¤„ œ¤ ¦¥ó  ¦¢¡  ¥ œ¦ œ¦ ¤¦ ŸŽ ‚ ˜† „“¢¤“ ¦¥ œ¦ ’žŸ œ¥  Ÿ ƒŽ ‚  ¥ ¢ž¥ Ÿžœ Ÿ¤¡ ³‡ ’žŸ œ¥  Ÿ ž¤¢ ‹¤ ¤ Ÿ‹Ž’ œ¥ „‰š— œ¥ ‡ž’¥ œŽ„¥ ƒ§Ž Ž¦¥ ¦¤¡ ’ Ÿžœ Ÿ¤¡ ‚§¤ Ÿ‹Ž’ ¢Ž Ÿ’‡‹ œ¢ Š–Ž ¦ ¦¥ ƒœ’„  Ÿ’žŸ ¢¡ œ Ÿžœ ¢Ž ¤¦¡ œ¥ Ž¦ ¥ ¢ž¢¡ œ¤ œ†Ž¤„ ‚§¤ Ÿ’žŸ  ¦¥óŸ¢ž ’¤ ¤…Ž ˜‚‹ž™š¢Ž ‰¤‹Ž¤  ¥ œ¦ œ¦ ›¤Ÿ ƒœ’„  œ¥ ‚˜‹ 1971„œ ¢–  ˜¤ ‡Ž ¤ž¢¡ œ¤ ³ŸŽ¤„ ¢Ž ‡Ÿ¦¢Ž¤ ‰œ¢Ÿ„¢¡ ƒŽ “‚ Š¢  ŸŽ ¥ ¢ž¢¡ œ¤ “œŽ ¦ ‚  Ž¦ó 70 £ œ¥ ž¤œ“  Ÿ¤¡ ¦ŸŽ¥ œ‚Ž¤  Ÿ „Š‚ ¦¢£¥ „¢   œ¤ œ¢“¢¡ ’¥ 1973Ÿ¤¡ ƒœ’„  œ ƒ¦ž ¢Ž Ÿ„š›¦ ³£¤  ‚  ‡’ Ÿ¤¡  —Ÿ “Ž¤˜„ œ¢ „‰š— ‹¤ ¤  —Ž¤„¤ œ¢ ’ž œ¥ ‰¢ž¦ ’¥ ‹Ž¦ „“œ¤ž ‹¤ ¤ ’žŸ¤  —Ž¤„¤ œ¢ ’ž ¢Ž ³£¤  ƒœ’„  œ¥ „‰„  ¤œ í ƒŽ¦¤ Ží œŽƒ“   ¦ œŽ ¥ ¢ž í ”ž‰ í ‚ œŽ‹Ží’žŸ¤ –Ž¤›¦ œŽ ƒŽ ˜Ÿž œŽ ¥ ¢ž ‡¢  ¦ œ‚¤Ž¦ œ ŸŽ„œ‚  ¦ ¦¢ ’ œ¥ ž¤¥ ³£¤  œ¤ ‹š˜¦ 62 ¢Ž 63 ‚ £¤ £¤ ó ”‰š¤¢¡ œ¥ ŸŠ„žš ’¢ž„ œ¥ ‡¢‚ Ÿ¤¡ Ÿ¢ž ’¤ ¤…Ž ˜‚‹ž™š¢Ž ‰¤‹Ž¤  ¥ œ¦ œ¦ ’žŸ¤  —Ž¤„¤ œ¢ ’ž  ¥ “Ž¤˜„ œ¤ „“Ž¤‰ œŽ„¥ ¦¢£¥ ‹¢’Ž¤ “‹¤ œ¥ ‚Ž¥ Ÿ¤¡ ¢•‰„ œ¤ œ¦ ’žŸ Ÿ¤¡ ‹¢’Ž¤ “‹¤ œ¤ œ¢£¤ ŸŸ ¤„  ¦¤¡ ”Žš „ŸŸ ‰›¢› ‹¤ ¥ œ¢ œ¦ ¤ ¦¥ ¢Ž ’žŸ¤  —Ž¤„¤ œ¢ ’ž  ¥ ¤¦ ¢•‰„ ‚§¤ œ¤ œ¦ “Ž¤˜„ Ÿ¤¡ “‹¤ œ¥ ž¤¥ ˜ŸŽ œ¤ œ¢£¤ ³ŠŽ¤ ‰‹ Ÿ›ŽŽ  ¦¤¡ ’ ƒŽ  Ÿ  ¦‹ ’¢ž ’¢’£…¤ ‚  —Ž¤„¤ œ¢ ’ž œ¢ Š„Ÿ œŽ ¥ œ¤ œ¢““ œŽ Ž¦¤ ¦¥ ó ‡¥ ¤¢ ³£¤  ¥ –ž‚   ’¥ ŸœŽ„ œ¥ ’ž’ž¦ Ÿ¤¡Ž¦ ¦Ÿ¢Ž œŽ ¥ œ¥ ž¤¥ ›‚£ž¤ ˜ž›¢¡ Ÿ¤¡ ¢¦¡ œ¤ ›¤‹„ œ¢ ¤œ ƒž¤… šŽŸ ƒŽ œ…§ œ¤ œ¤¢ œ¦ ›‚£ž œ¥ ¤¦ Ÿžœ ¢Ž Ÿ“¤Ž  ¦ŸŽ¥ ž¤¥ ‚¦„ Ÿš¤‹ †‚„ ¦¢£¥ ¦¤¡ ¢Ž ¤¦ ž¢ ›‚£ž œ¥ Ž’Ÿ ¢ Ž¢‡ ’¥ ‚§¤ ³“  ¦¥ ó

˜‚‹ž™š¢Ž ‰¤‹Ž¤

مزید : صفحہ آخر