حکومتی اور فوج قیادت کا طالبان کے ساتھ مزاکراتی عمل آگے بڑھانے پر اتفاق

حکومتی اور فوج قیادت کا طالبان کے ساتھ مزاکراتی عمل آگے بڑھانے پر اتفاق ...

                                                       اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک+اے این این ) قومی سلامتی پالیسی پر علمدرآمد شروع کردیا گیا ہے اور اس حوالے سے متعدد اہم فیصلے کئے گئے ہیں جبکہ وزیر اعظم نواز شریف نے ضروری احکام بھی جاری کردیئے ہیں۔ اس حوالے سے منگل کو اسلام آباد میں وزیر اعظم کے زیر صدارت ایک اجلاس ہوا جس میں انہوں نے صوبوں کے اتفاق رائے نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے (نیکٹا) کے تحت کام کرے گا اور صوبوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں سے متعلق ہر قسم کی معلومات بر وقت فراہم کرے گا، وزیر اعظم نے کہا کہ نئے قوانین کے اطلاق سے ویڈیو لنک کے ذریعے بیانات ریکارڈ کرنے اور مقدمات دوسرے صوبوں کو منتقل کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے ، نئی قومی سلامتی پالیسی کے تحت الیکٹرانک شواہد کے قابل قبول ہونے اور ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی سماعت کی اجازت ہوگی جبکہ گواہوں ججوں اور استغاثہ کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اجلاس میں حکومتی اور فوجی قیادت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ترجمان وزیراعظم ہاﺅس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق منگل کو وزیراعظم نوازشریف کے زیر صدارت امن وامان سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ ا نسپکٹر جنزل پالیسی وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان اوردیگروفاقی وزرائ،آرمی چیف جنرل راحیل شریف،چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم،ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام اوردیگرشخصیات نے شرکت کی ۔اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ اور ڈی جی آئی ایس آئی نے ملک کی داخلی سلامتی ، اندرونی و بیرونی صورتحال اور سرحدی امور کے بارے میں بریفنگ دی ۔اجلاس میں تحفظ پاکستان آرڈیننس کے اطلاق اور قانون نافذ کرنیوالے وفاقی و صوبائی اداروں کی کارکردگی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں طالبان کی جانب سے پیش کردہ قیدیوں کی فہرست پر بھی غور کیا گیا۔جبکہ سیاسی وعسکری قیادت نے طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پراتفاق کیا ۔ترجمان کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف نے صوبوں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کے لئے نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے قیام اور وفاقی و صوبائی سطح پر نئی سریع الحرکت فورس قائم کرنے کی منظوری دی۔انہوں نے ہدایت کی کہ سریح الحرکت فورس میں تربیت یافتہ اور قابل افراد کو شامل کیا جائے ، نیا ڈائریکٹوریٹ نیکٹا کے تحت کام کرے گا اور صوبوں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کا مربوط نظام بنائے گا ۔وزیراعظم نے صوبائی حکومتوںکوہدایت کی کہ دہشت گردی کے مقدمات نمٹانے کے لئے تحفظ پاکستان آرڈیننس سے استفادہ کیا جائے ، یہ آرڈیننس جرائم کی تحقیقات کے لئے تحفظ موثراور مفید ثابت ہو گا ۔انہوں نے کہاکہ نئے قوانین میں گواہوں ، ججوں اور استغاثہ کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں ، نئے قانون میں غےر ملکی دشمنوں کو حراستی مراکز میں لے جانے کی اجازت ہے ، صوبے سنگین مقدمات کی بروقت سماعت کے لئے استغاثہ اور شواہد کو قابل قبول بنائیں، تحفظ پاکستان آرڈیننس کے تحت الیکٹرانک شواہد قابل قبول اور ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی سماعت کی اجازت ہے ، مقدمات اور قیدیوں کو دوسروں صوبوںمیں منتقل کیا جاسکتا ہے ۔وزیراعظم نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں ججوں کی فوری تعیناتی کا حکمدیا اور یہ بھی کہا کہ تمام صوبوں میں نئی اورمحفوظ جیلیں قائم کی جائیں ، تمام ادارے وفاقی و صوبائی حکومتیں ملکی سلامتی یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدام کریں ، نواز شریف نے کہاکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہمیں مل کر کام کرنا ہو گا اور مل جل کر وسائل کو بروئے کار لانا ہو گا ، پاکستان کی اقتصادی خوشحالی امن و سلامتی اور استحکام سے وابستہ ہے ۔ حکومت دہشتگردی کے خاتمے کےلئے مذاکرات کوترجیح دے رہی ہے اور اس ضمن میں سنجیدہ ہے ،مذاکرات کی کامیابی کےلئے تمام اقدامات کئے جائیں گے ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے دھماکہ خیز مواد تلاش کرنے اور اسے ناکارہ بنانے کے لئے چین سے خریدی گئی چار جدید گاڑیاں بھی وزرائے اعلیٰ کے سپرد کیں اور ہدایت کی کہ چین سے مزید 56گاڑیاں منگوا کر صوبوں کے حوالے کی جائیں جن کی خریداری کا معاہدہ پہلے ہی ہو چکا ہے ۔

مزید : صفحہ اول