مولاناسمیع الحق نے پرانی تجویز نئے انداز میں پیش کردی!

مولاناسمیع الحق نے پرانی تجویز نئے انداز میں پیش کردی!

تجزیہ چودھری خادم حسین

کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ امن کے لئے مذاکرات کا سلسلہ زیادہ سنجیدہ صورت اختیار کرگیا اور مذاکرات کے حامی حضرات نے توقعات بھی بڑھالی ہیں، کہا جارہا ہے کہ وزیر اعظم میاں نوازشریف ہر صورت ان مذاکرات کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیںتا ہم وہ ساتھ ہی ساتھ آئین پاکستان کو اول و آخر مقدم رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جمعیت علماءاسلام (س) کے سربراہ اور طالبان مذاکراتی بلکہ رابطہ کمیٹی کے چیف مولانا سمیع الحق کی پرانی تجویز پر غور شروع کردیا گیا جو نئے انداز میں پیش کی گئی، جسے میٹھی گولی بھی کہا جاسکتا ہے۔ مولانا سمیع الحق نے ابتدائی طور پر کالعدم تحریک طالبان کے حوالے سے یہ مطالبہ کردیا تھا کہ طالبان کے لئے شمالی وزیرستان کا ایک حصہ مخصوص کیا جائے ،جہاں وہ آزادی سے آجاسکیں کہ موجودہ صورت حال میں ان کی آزادانہ نقل وحمل میں مشکلات ہیں، اس وقت اس تجویزیا مطالبے کو ناپسندکیا گیا تھا کہ یہ ریاست کے اندر ریاست کا تصور ہے، لیکن اب اس کا انداز تبدیل کردیا گیا اور مولانا سمیع الحق نے دلائل دئیے کہ کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لئے جو سرکاری کمیٹی سے ہونا مقصود ہیں ایک ایسا مقام ہونا چاہئے جہاں وہ آزادی سے آجاسکیں اور ان کو رکاوٹ پیش نہ آئے تاکہ مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوسکیں۔ اسے ”آزادامن زون“کہا گیا ہے، اگرچہ بات پرانی ہی ہے لیکن انداز نیا ہے۔ شاید حکمرانوں کو بھی یہ بری نہیں لگی کہ بہرحال کسی جگہ مذاکرات تو ہونا ہیں، چنانچہ اب غور کیا جارہا ہے کہ فاٹا میں کسی مقام کا تعین کر لیا جائے جہاں کالعدم تحریک طالبان کے نمائندے سرکاری کمیٹی کے روبرو بیٹھ کر بات کرسکیں۔

جہاں تک خدشات کا تعلق ہے تو دونوں طرف سے ایک دوسرے بارے میں بہت ہی کم رہ گئے بلکہ معدوم ہوچکے ہیں کہ حکومت یا سیکیورٹی اداروں کی طرف سے ٹارگیٹیڈ آپریشن بند ہے اور بقول مولانا سمیع الحق طالبان کی طرف سے جنگ بندی ہے۔ اب تو اس میں لشکرِ جھنگوی اور جنداللہ بھی شامل ہوگئے ہیںجبکہ احرار الہند کے حوالے سے کالعدم تحریک طالبان نے نہ صرف لاتعلقی کا اعلان کیا بلکہ امن تنظیم والوں کو تلاش کرنے کی حامی بھی بھری اور اس پر بھی رضا مندی ظاہر کردی گئی کہ اگر کوئی گروہ دہشت گردی جیسی شرارت کرے تو اسے مل کر سبق سکھایا جائے، بہرحال متضاد دعوﺅں کے باوجود طالبان کی رابطہ کمیٹی والوں کو یقین ہے کہ مذاکرات کے لئے جگہ اور ماحول کا تعین ایک آدھ روز میں ہوگا اور پھر آمنے سامنے بات ہوگی اب تک جو بھی سامنے آیا وہ طالبان رابطہ کمیٹی کے حوالے سے ہے اور جواب بھی بیانات ہی کی صورت میں ہے، بلکہ ترجمان شاہد اللہ شاہد تو وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کا برا بھی منا گئے ہیں، بہرحال اب بھی انتظار ہی بہتر ہے ،نتائج سامنے آنے پر اچھی یا تنقیدی بات ہوسکتی ہے، فی الحال جو پُر امید ہیں ان کی توقعات پر اعتراض سے گریز بہتر ہے۔

دوسری طرف وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا ایک بامعنی اجلاس ہوا، سرکاری اور عسکری حکام کے ساتھ چاروں صوبائی وزراءاعلیٰ بھی شریک ہوئے،وزیراعظم نے وفاق کی طرف سے چاروں صوبوں کو ایک ایک جدید گاڑی دی جو بم ناکارہ بنانے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔ وزیر اعظم نے وزیر داخلہ کی بریفنگ کی روشنی میں ملک کو پُر امن بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور صوبائی حکومتوں کو مشورہ دیا کہ وہ قومی سلامتی کے آرڈی ننس پر بھر پور طریقے سے عمل کرائیں، تاکہ شرپسند عناصر کا سراغ لگا کر ان کو قرار واقعی سزائیں بھی دلائی جاسکیں، ان کا موقف یہی ہے کہ امن ہی سے استحکام آئے گا اور ملک ترقی کرے گا۔ آج کی بات یہیں تک رکھتے ہیں کہ قومی سلامتی کی کمیٹی کے اس اجلاس میں امن ہی کی بات ہوئی اور امن کے لئے دعا کرنا چاہئے ۔

مزید : صفحہ اول