صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال پر اپوزیشن کا واک آﺅٹ احاطے میں احتجاج

صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال پر اپوزیشن کا واک آﺅٹ احاطے میں احتجاج

                                  لاہور( سپیشل رپورٹر) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں صوبے میںامن و امان کی خراب صورتحال پر اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی کاروائی سے واک آﺅٹ کر کے اسمبلی کے احاطے میں احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف مستعفی ہو کر قومی اسمبلی کاالیکشن لڑ کر وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھال لیں اور اپنے بیٹے میاں حمزہ شہباز شریف کو پنجاب اسمبلی کی نشست پر منتخب کر واکر وزیر اعلیٰ پنجاب کا عہدہ دیدیں ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی کی صدارت میں مقررہ وقت دس بجے کی بجائے ایک گھنٹہ دس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا تو اجلاس کے آغاز پر قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کے بارے میں میڈیا میں آنے والی رپورٹس دےکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے ابھی آمنہ کی خود سوزی کی وجہ سے پنجاب میں سوگ کی کیفیت تھی کہ بیس خواتین کے اغواء،چنیوٹ میں ونی کی گئی عورت سے پانچ دن تک اجتماعی بد اخلا قی کے بعد برہنہ درخت سے باندھ دینے اورشیخوپورہ میں خاتون کے پولیس تشدد سے ہلاکت کے واقعات سامنے آ گئے جبکہ روزانہ کروڑوں روپے کی ڈکیتی کی وارداتیں ہو رہی ہیں حوا کی بیٹی کی جتنی بے حرمتی موجودہ حکومت کے دور میں ہو رہی ہے اس سے پنجاب کی گڈ گورننس اور تھانہ کلچر کی تبدیلی کے ثبوت سامنے آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پہلے تو ایف آئی آر ہی درج نہیں ہوتی اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو پولیس خود ہی ملزموں کو بے گناہ قرار دے دیتی ہے پنجاب میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر ہے وزیراعلی شہباز شریف مرکز کے معاملات سے باہر آ جائیں یہ دس کروڑ عوام کا صوبہ ہے یہاں ظلم بربریت کی داستانیں زبان زد عام ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب اس وقت آمنہ کے گھر گئے اور پانچ لاکھ روپے کی امداد دی جب وہ اس دنیا میں نہیں رہی کیا اس سے آمنہ وا پس آ جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو سالانہ اربوں روپے دئیے جاتے ہیں لیکن لاءاینڈ آرڈر کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اس پراپوزیشن نے ایوان کی کارروائی سے پانچ منٹ کا واک آﺅٹ کرتے ہوئے اسمبلی احاطے میں احتجاج کیا ۔ ا ےوان سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمود الرشید نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے ایوان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے وزیر اعلیٰ پنجاب صوبے کے معاملات دیکھنے کی بجائے کبھی چین اور کبھی ترکی روانہ ہو جاتے ہیں۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سردار شہاب الدین نے کہا کہ صوبے میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے اور گورننس نام کی کوئی چیز نہیں پولیس کو سالانہ 77ارب روپے کے فنڈز دئیے جاتے ہیں لیکن نتیجہ صفر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی ےہ رائے ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف مستعفی ہو جائیںاور رکن قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑ کر وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھا ل لیں جبکہ اپنے بیٹے حمزہ شہباز شریف کو صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب کروالیں اور وزارت اعلیٰ کی ذمہ داریاں سونپ دی جائیں اور پانچ منٹ کے بعد اپوزیشن واک آﺅٹ ختم کر کے ایوان میں واپس آ گئی ۔

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ آخر