وفاق المد ارس العر بیہ کے قومی سلامتی پالیسی پر تحفظات ،مدارس سے متعلق شقیں مسترد

وفاق المد ارس العر بیہ کے قومی سلامتی پالیسی پر تحفظات ،مدارس سے متعلق شقیں ...

                       مانسہرہ(اے این این ) وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے قومی سلامتی پالیسی پرشدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس بل میں موجود دینی مدارس سے متعلق شقوں کو مسترد کردیا اور اس پالیسی کی آڑ میں دینی مدارس کے نصاب اور نظام تعلیم میں کسی ممکنہ حکومتی مداخلت ، امریکہ و مغرب کی جانب اسلامی شقوں سے متعلق پاکستانی قوانین میں تبدیلی کے مطالبے کو استعماری سازش قرار دیتے ہوئے دینی اداروں کی خود مختاری، اسلامی اقدا ر اور دینی تشخص کا ہر قیمت پر تحفظ کرنے کا اعلان کردیا ۔ مولانا سعید الرحمن اوگی کے زیر صدارت منعقدہ تحفظ مدارس دینیہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی مجلس عاملہ کے رکن اور سابق رکن صوبائی اسمبلی مفتی کفایت اللہ ، مولانا سید ہدایت اللہ شاہ، مولانا فیض الباری ، مولانا خلیل الرحمن ، مولانا ناصر محمود، مفتی وقار الحق عثمان ، مولانا عبدالقدوس، مولانا نور عالم شاہ، مولانا تاج محمود، مولانا محمود الحسن شاہ، قاضی محمد اسرائیل گڑنگی ، مولانا فخر السلام ، پروفیسر محمد جاوید ، قاضی شفیق الرحمن اور دیگر نے خبردار کیا کہ قومی سلامتی پالیسی کی آڑ میں دینی مدارس کو کنٹرول کرنے اور آئین میں موجود اسلامی شقوں کے خاتمے کے مطالبے جیسے عالمی ایجنڈے کی بھر پور مزاحمت کی جائے گی ۔ اور اس سلسلے میں ہر قسم کا بیرونی دباﺅ کو مسترد کرتے ہوئے رائے عامہ کی منظم قوت کے ساتھ مقابلے کا اعلان کیا۔ مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ پاکستان کے اسلامی تشخص دینی اصطلاحات اور دینی تعلیم کے مراکز کو عالمی استعمار کی ناجائز خواہشات کے بھینٹ نہیں چڑھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دینی قیادت میں شروع ہی سے تصادم کے بجائے مفاہمت اور مذاکرات کی راہ اختیار کی ہے کیونکہ دینی مدارس امن و سلامتی کا پیغام دیتے ہیں لیکن حکمران بیرونی دباﺅ پر مسلمانوںکو ذہنی اذیت پہنچانے اور نت نئے ہتھکنڈوں کے ذریعے مسلمانوں کو مرعوب کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں۔ مولانا سید ہدایت اللہ شاہ نے کہا کہ قومی افق پر امریکہ اور یورپ کے گماشتے اور قومی مجرم اپنا تسلط جمانے اور ملک کو لادینیت کی راہ پر ڈالنے کی منظم سازش کر رہے ہیں ۔ لیکن سامراجی قوتوں کے مذموم عزائم خاک میں مل جائیں گے ۔ مولانا خلیل الرحمن نے کہا کہ دینی مدارس کا نصاب تعلیم جامع اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے عسکریت پسندی سے مدارس کا کوئی تعلق نہیں۔ بیرونی اشاروں پر مدارس کے نصاب اور نظام تعلیم پر کسی قسم کی ڈکٹیشن قبول نہیں۔ مولانا ناصر محمود نے کہا کہ مغرب کی ہمہ جہت یلغار اور تہذیبی حملوں کے مقابلے میں دینی قوتوں کو متحد ہو کر ہر میدان میں مستعد کردار اور مو¿ثر حکمت عملی کیلئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا کر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ مولانا شاہ عبدالعزیز نے کہا کہ دینی مدارس پہلے ہی قومی دھارے میںموجود ہیں مدارس کے بجائے طبقاتی نظام تعلیم پر مشتمل عمومی تعلیمی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے ۔مولانا فیض الباری نے کہا کہ مدارس ملک میں فروغ تعلیم کا ذریعہ ہیں اور شرح خواندگی میں اضافہ کرکے قومی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ لیکن ایک سازش کے تحت انتہا پسندی اور دہشت گردی کاالزام لگا کر مدارس کے قومی کردار کو مشکوک بنایا جارہا ہے۔ مقرر ین نے کہا مدارس کی قومی اور دینی خدمات کو اجاگر کرنے ان کے خلاف ہونے والی ملکی اور بین الاقوامی سازشوں سے آگاہ کرنے کیلئے ملک بھر کی طرح پشاور میں 27 مارچ کو منعقد ہونے والی تحفظ مدارس دینیہ اور پیغام امن کانفرنس میں بھر پور شرکت کا اعلان کیا۔ مقررین نے کہا کہ مغرب کی دین اور مذہب کشن پالیسیاں جہاں پاکستانی سیاست میں سرایت کر گئی ہیں وہاں پاکستانی قومی کی روحانیت کو کچلنے اور قوم کی ذہنیت کو تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان حالات میں علماءان سازشی اقدامات کے خلاف قومی کی راہنمائی کو اپنا فریضہ سمجھتی ہے۔

پالیسی پر تحفظات

مزید : صفحہ آخر