غیر معیاری ادویات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کیوں نہیں کی گئی ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

غیر معیاری ادویات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کیوں نہیں کی گئی ۔چیف جسٹس ...

                       لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال نے ڈینگی کی روک تھام کے لئے پنجاب حکومت کی پیش کی گئی رپورٹ پرعدم اطمینان کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ غیر معیاری ادویات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کیوں نہیں کی گئی جبکہ پولیو ویکسئین بھی ناقص نکلی تھی۔فاضل جج نے کیس کی سماعت 8اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت جاری کردی۔درخواست گزار نوشاب اے خان نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کی ناقص حکمت عملی سے ڈینگی وباءپرقابو پانے میں مکمل ناکام رہی جس کی وجہ سے ہزاروں شہری اس موذی مرض میں مبتلا ہوئے اور درجنوں ہلاکتیں ہوئیں۔سرکاری وکیل نے محکمہ صحت پنجاب کا جواب داخل کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ڈینگی ادویات کی خریداری طریقہ کار کے مطابق کی گئی۔جس پر عدالت نے ڈینگی روک تھام کے لئے پنجاب حکومت کی پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کر دیا۔

غیر معیاری ادویات

مزید : صفحہ آخر