دوست ملک نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال بہتر کرنے کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر دیئے ،احسن اقبال

دوست ملک نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال بہتر کرنے کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر دیئے ...

                   لاہور(کامرس رپورٹر) پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ دوست ملک نے پاکستان کی اقتصادی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے ڈیڑہ ارب ڈالر دیئے اب ایسے سوال پوچھنا کہ کیوں دیئے گئے ہیں کتنا معیوب لگتا ہے۔ گزشتہ روز تیسری ساﺅتھ ایشیائی گروتھ کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت ماضی کی حکومت کی طرح صرف کھوکھلے نعرے نہیں لگا رہی بلکہ عملی اقداما ت اٹھا رہی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ یورپین ممالک بھی پاکستان میں سرمایہ کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بجلی کا مسلہ اتنا آسان نہیں کہ رات و رات حل ہو جائے کسی بھی بڑے منصوبے کو مکمل ہوتے ہوئے تین سے چار برس لگتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ بجلی ان دنوں نیشنل گریڈ میں آ گئی ہے 2200میگاواٹ کے منصوبوں کے لیے چین سے معاہدے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ امید کی جاتی ہے کہ گزشتہ ادوار سے کم لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور گرمیوں میں بھی لوڈ شیدنگ کم کی جائے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ میڈیا کی وساطت سے تھر پار سے پانی کی کمی کے حوالے سے دیکھائے جانے والے مناظر سے لگتا ہے کہ اگر پانی کے مسلے کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو یہ مستقبل میں پاکستان میں توانائی سے بڑا مسلہ بن جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پانی کے مسلے کو حل کرنے کے لیے بڑے ڈیمز کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیا میر بھاشا ڈیم پر گزشتہ ادوار میں آنے والے تین وزرا ءاعظم افتتاحی تختیاں لگا چکے ہیں لیکن عملی طور پر ابھی تک اس کے لیے زمین بھی نہیں خریدی جا سکی۔ احسن اقبال نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے آتے ہی زمین کے خریدنے کے عمل کو تیز کر دیا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ اس پر بہت جلد کام شروع ہو جائے گا۔ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وفاق صوبوں کی اکائی ہے لہذا کسی متنازعہ ڈیم کو نہیں چھیڑنا چاہیے بلکہ اتفاق رائے سے پانی ذخیرہ کرنے کے بڑے منصوبوں پر عمل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان نرملائزیشن کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے لہذا ہمسایہ ملک بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے لیے تیزی دیکھائے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں بھارتی پروگرامز دیکھائے جاتے ہیں جب کہ بھارت میں پاکستانی پروگراموں پر پابندی ہے لہذا بھارت کو چاہیے کہ وہ یہ پابندی ختم کرے تاکہ وہاں کے ناظرین پاکستانی ڈراموں سے لطف اندوز ہو سکیں۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے توانائی بحران کو ختم کرنے کے لیے صرف وعدے کیے اور جب وہ عام انتخابات میں گئے تو ان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا لیکن موجودہ حکومت جس طرح عملی اقدامات اٹھا رہی ہے اس کو 2018میں ہونے والے عام انتخابات میں عوام کے پاس جاتے ہوئے شرمندگی نہیں ہو گی۔ڈالر کی قیمت میں کمی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈالر نیچے آ جائے تو پاکستان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو شور مچا دیتا ہے حالانکہ ڈالر کی قیمت میں کمی پر اس طبقے کو خوشی کا اظہار کرنا چاہیے کہ پاکستانی معیشت مضبوط ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت میں کمی کے اثرات ایک دو ماہ تک عوام تک پہنچے گے جب پٹرول سمیت دوسری اشیاءکی قیمتوں میں کمی کے ساتھ مہنگائی بھی کم ہو گی۔انہوں نے کہا ہے کہ ڈالر کی قیمت نیچے ہونے سے پاکستان کے بیرونی قرضوں کے ہجم میں800ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔تقریب سے ہمسایہ ممالک سمیت یورپین ممالک سے آئے ہوئے مقررین نے بھی خطاب کیا اور اپنے تجربات کی روشنی میں پاکستان میں جاری توانائی کے بحران سے نمٹنے کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔تقریب کے تین سیشن ہوئے دوسرے سیشن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین طارق باجوہ نے سربراہی کی۔

مزید : صفحہ آخر