حکومت نے ابھی تک طالبان کے مطالبات کو باضابظہ طور پر مسترد نہیں کیا،سمیع الحق

حکومت نے ابھی تک طالبان کے مطالبات کو باضابظہ طور پر مسترد نہیں کیا،سمیع ...

اسلام آباد ( آئی این پی ) جمعیت علماء اسلام (س) اور طالبان مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ حکومت نے ابھی تک طالبان کے مطالبات کو باضابطہ طور پر مسترد نہیں کیا ، فری امن زون کے قیام کیلئے بھی حکومت سے بات چیت چل رہی ہے ، ہر کوئی وزیردفاع خواجہ آصف بننے کی کوشش نہ کرے ،بھانت بھانت کی بولیوں سے مذاکرات عمل کو نقصان ہوگا ، خواجہ آصف سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ خود بولنے کی بجائے معاملات مذاکراتی کمیٹیوں پر چھوڑ دیں ، حکومت کی ترجمانی کیلئے حکومتی مذاکراتی کمیٹی موجود ہے ، سعودی حکمران بھی پاکستان میں قیام امن کیلئے طالبان سے بات چیت کی کامیابی کیلئے دعا گو ہیں ، حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کے درمیان ایک دو روز میں ملاقات ہوگی ۔ وہ منگل کو یہاں ایک مقامی ہوٹل میں سعودی عرب کے نائب وزیر مذہبی امور کے اعزاز میں تقریب کے بعد میڈیا سے بات چیت کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک حکومت کی جانب سے طالبان کے مطالبات کو یکسر مسترد نہیں کیا گیا بلکہ بات چیت کا عمل مختلف سطحوں پر جاری ہے ، ہماری خواہش ہے کہ مذاکرات کیلئے ماحول ساز گار بنایا جائے جہاں طالبان اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان آسانی سے آ اور جا سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ فری امن زون کیلئے ایک دو جگہیں زیر غور ہیں ، جلد حکومتی مشاورت سے جگہ کا تعین ہوجائے گا ۔ طالبان کی جانب سے عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کی رہائی کے مطالبے بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خود وزیراعظم نواز شریف مجھ سے وعدہ کرچکے ہیں کہ اگر بے گناہ لوگ جیلوں میں ہوئے تو انہیں جلد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا جائے گا ۔ ہم نے فہرست حکومت کے حوالے کی ہے جس پرکام جاری ہے ۔ حکومت نے طالبان کے پاس قیدیوں کی کوئی فہرست نہیں دی، ضرور ان کے پاس بھی قیدی ہوں گے اس لئے قیدیوں کی رہائی دوطرفہ ہونی چاہیے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے دیئے گئے بیان کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خود وزیر اعظم نے وزراء کو طالبان مذاکراتی عمل بارے سے روکا تھا ۔ وزیر دفاع خواجہ آصف میرے لئے قابل احترام ہیں میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مذاکرات بارے بیان بازی کا کام مذاکراتی کمیٹیوں پر چھوڑ دیں۔ حکومتی کمیٹی بھی موجود ہے۔ وزراء اور حکومتی عہدیدار صبر سے کام لیں اگر سب اپنے اپنے بیان دیں گے تو ملک و قوم کیلئے اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان بات چیت ایک دو روز میں ہو گی۔ طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود خود کش حملوں بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طالبان واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ ان گروپوں کو نہیں جانتے اور ان کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 
پتہ چلنے پر حکومت کو آگاہ کریں گے۔ مختلف قوتیں ہیں جو مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ غیر ملکیوں کے آلہ کار بھی موجود ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات بارے قبل از وقت اندازے نہ لگائے جائیں۔ ہر کوئی خواجہ آصف بننے کی کوشش نہ کرے۔ اس سے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات ناکام نہیں ہوں گے بلکہ قوم کیدعاؤں سے ضرور کامیاب ہوں گے۔ اگر مذاکرات کا عمل ناکام بھی ہو گیا تو دوبارہ آغاز کیا جائے گا کیونکہ آپریشن مسئلے کا حل نہیں جو لوگ مذاکرات کی جگہ آپریشن کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ محب وطن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور سیاسی قیادت ایک صفحے پر ہے وہ بھی مذاکرات کی کامیابی چاہتے ہیں۔ سعودی عرب کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے حکمران پاکستان کے بیہی خواہ اور محبت کرنے والے ہیں ۔ وہ بھی پاکستان میں قیام امن کے لئے مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔

مزید : علاقائی