صنعتی علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی زہر قاتل بن گئی

صنعتی علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی زہر قاتل بن گئی
 صنعتی علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی زہر قاتل بن گئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 شیخوپورہ(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور اورگردونواح میں ماحولیاتی آلودگی خاموش قاتل بن گئی، فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں کے باعث پورا علاقہ راکھ کی برسات کی زد میں آگیا،گیس کی لوڈشیڈنگ کے بعد لاہور ،شیخوپورہ روڈ پر واقع بیشتر فیکٹریوں میں دھان کے بھوسے سے صنعتی پیداواری عمل جاری ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق شیخوپورہ کے صنعتی علاقے میں ٹیکسٹائل ، پیپر ، سٹیل، کیمیکلز اور دیگر شعبوں کے بڑے چھوٹے تقریباً اڑھائی ہزار کارخانے چل رہے ہیں اور فیکٹری مالکان کی اکثریت 350 روپے فی من خریدے گئے دھان کے بھوسے کو بڑے پیمانے پر ایندھن کے طور پر جلا رہی ہے۔ ہزاروں مزدور تو فاسفورس اور کاربن ملے دھوئیں کے براہ راست نشانے پر ہیں اورپورے علاقے میں اس راکھ کے آثار بھی جگہ جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔قلعہ ستار شاہ، منڈھیالی، خان پور، نبی پورہ اور گارڈن ٹاو¿ن سمیت ضلع شیخوپورہ کے ملحقہ علاقے ’راکھ باری ‘سے شدید متاثر ہیں۔ پنجاب ماحولیات آلودگی ایکٹ 2012ءکے مطابق اس جرم کے مرتکب افراد کے لئے 50 ہزار سے 50 لاکھ روپے تک جرمانے اور دوسال تک قید کی سزا مقرر ہے مگر کبھی کسی کو قید کی سزا نہیں ہوئی۔

مزید : ماحولیات