فوج بلانے کے مطالبات سنتے ہیں ، کراچی میں امن کیلئے نظام کو درست کرناہوگا، کاغذ کے ٹکڑے سے اختیارات نہیں مل سکتے :ڈائریکٹرجنرل سندھ رینجرز رضوان اختر

فوج بلانے کے مطالبات سنتے ہیں ، کراچی میں امن کیلئے نظام کو درست کرناہوگا، ...

رینجرز کے پاس صرف تلاشی لینے اور گرفتاری کے محدود اختیارات ہیں،گواہان کے تحفظ کی سخت ضرورت ہے: کمانڈر سندھ رینجرز

فوج بلانے کے مطالبات سنتے ہیں ، کراچی میں امن کیلئے نظام کو درست کرناہوگا، کاغذ کے ٹکڑے سے اختیارات نہیں مل سکتے :ڈائریکٹرجنرل سندھ رینجرز رضوان اختر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل رضوان اختر نے کہاہے کہ کراچی میں امن کیلئے نظام کو درست کرناپڑے گا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لوگ یہ سمجھنے لگے کہ رینجرز کے پاس اختیار آگیا لیکن کاغذ کے ٹکڑے سے ہمارے پاس اختیارات نہیں آسکتے، فوج کے بلانے کے مطالبات کیے جاتے ہیں ، جو مرضی کرلیں ، نظام کی تبدیلی تک معاملات نہیں سلجھ سکتے ، ہمیں اور میڈیا کو سچ بولنا ہوگا۔اُنہوں نے کہاکہ رینجرز کی تعداد بھی کم ہے اور ہمارے پاس صرف تلاشی لینے اور گرفتاری کے محدود اختیارات ہیں، گرفتاری کے بعد کسی ملزم کو اپنی تحویل میں نہیں رکھ سکتے، پولیس کے حوالے کرناہوتاہے،مجرم کو جرم کی سزا ملنی چاہیئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہم کسی مجرم سے شرافت سے اعتراف جرم نہیں کراسکتے، ہم خود فرانزک تحقیقات شروع کرتے ہیں تو گواہ بولتے نہیں، اس لئے گواہوں کو تحفظ دیئے جانے کی سخت ضرورت ہے۔اُن کاکہناتھاکہ مہاجرین کی آ مد ورفت ، کچی آبادیاں، انتہائی منظم لینڈ مافیا، پانی کی غیر قانونی ترسیل کا کاروبار اور سمگلنگ وہ بنیادی معاملات ہیں جو شہر میں امان و امان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔فیڈرل بی انڈسٹریل ایریامیں کمانڈ اینڈکنٹرول سنٹر کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے ڈی جی سندھ رینجرز کاکہناتھاکہ کراچی میں چاہے فوج کو بھی بلالیں امن کے لئے پہلے نظام درست کرنا پڑے گا، اگر لاہور پاکستان کادل ہے تو کراچی اس ملک کی شہ رگ ہے، اس شہر میں اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود بھی زندگی موجود ہے،رینجرز کئی برسوں سے کراچی میں موجود ہے اور شہر میں امن و امان کے قیام کی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔اُنہوں نے کہاکہ وہ تنقید کو ہمیشہ مثبت انداز سے دیکھتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ تمام ادارے مربوط طریقے سے کام کریں تو مسائل حل ہوسکتے ہیں، شہر میں امن و امان کے لئے فوج بلانے کی بات کی جاتی ہے، اس سلسلے میں کوئی بھی آئے لیکن نظام ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہمیں کراچی اور پاکستان کو مستحکم رکھنا ہے تو پھر یہاں کی کاروباری برادری کو بھی ٹھیک کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو صرف لیاری میں ہی مسئلہ نہیں، کراچی کے اور بھی علاقوں میں مسائل ہیں۔ڈی جی رینجرز نے کہا کہ 24 اگست 2011 کو سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی از خود نوٹس کا فیصلہ سنایا، عدالت عظمٰی نے ہم سے پوچھا کہ جب ہمارے پاس اختیارات ہیں تو امن قائم کیوں نہیں ہورہا، جس پر ہم نے اپنا موقف عدالت میں پیش کیا اور سپریم کورٹ نے رینجرز کو اضافی اختیارات دلوائے ، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لوگ یہ سمجھنے لگے کہ رینجرز کے پاس اختیار آگیا لیکن کاغذ کے ٹکڑے سے ہمارے پاس اختیارات نہیں آسکتے۔ اس سلسلے میں ہمیں اور میڈیا کو سچ بولنا ہوگا۔ ہمارے پاس صرف تلاشی لینے اور گرفتاری کے محدود اختیارات ہیں، گرفتاری کے بعد کسی ملزم کو اپنی تحویل میں نہیں رکھ سکتے ہمیں اسے پولیس کے حوالے کرنا ہوتا ہے۔مجرم کو اس کے کئے کی سزا ملنی چاہیئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہم کسی مجرم سے شرافت سے اعتراف جرم نہیں کراسکتے۔ عدالت کی نظر میں تحقیقات میں ملزم کا بیان لکھنے کی عدالت میں کوئی حیثیت نہیں ہے، اگرکہیں ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے تو ہم وہاں موجود نہیں ہوتے اس سلسلے میں ہم خود فرانزک تحقیقات شروع کرتے ہیں تو گواہ بولتے نہیں، گواہوں کو تحفظ دیئے جانے کی سخت ضرورت ہے۔میجر جنرل رضوان اختر کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی آ مد ورفت پر نظر نہ رکھنا، کچی آبادیاں، انتہائی منظم لینڈ مافیا، پانی کی غیر قانونی ترسیل کا کاروبار اورسمگلنگ وہ بنیادی معاملات ہیں جو شہر میں امان و امان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور ہماری جانب سے یہ معاملات ہر جگہ اٹھائے جاتے ہیں، ہماری ذمہ داری نہ ہونے کے باوجود ہم نے ان معاملات پر قابو پانے کے لئے سفارشات بھیجی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حب، سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے شہر میں آمدورفت کے باقاعدہ راستے ہیں، اگر ان تینوں راستوں پر موثر نگرانی نہیں تو کسی بھی غیر قانونی کام کے لئے سب کچھ آسان ہوجاتا ہے، ایک تنظیم کی تجویز دی ہے جس میں اے این ایف، کسٹمز، پولیس اور رینجرز کے اہلکار شامل ہوں، رینجرز پر وہاں تعینات اہلکاروں کی سیکیورٹی کی ذمہ دار ہوگی لیکن یہ نظام اب تک رائج نہیں ہوسکا،داخلہ راستوں کی نگرانی کے لئے خصوصی اسکینرز مانگے ہیں جو اب تک نہیں ملے لیکن پھر بھی سپر ہائی اور کسی حد تک حب میں نگرانی کی ذمہ داری لے رکھی ہے۔اُنہوں نے کہاکہ سندھ اوربلوچستان کی سرحد پر واقع ٹول پلازہ پر چیکنگ جاری ہے لیکن حب دریانالی میں بدل چکاہے جہاں سے کوئی بھی پیدل گزر سکتا ہے، ماضی میں وہاں نگرانی کے لئے 10 چوکیاں بنائی گئیں تھیں جو خالی پڑی ہیں، مالی مشکلات کی وجہ سے رینجرز اہلکاروں کو بھی وہاں تعینات نہیں کیا جاسکتا تاہم وہاں ہمارا گشت جاری رہتاہے۔ایک سوال کے جوا ب میں اُنہوں نے کہاکہ زمینوں پر قبضے کا معاملہ اورسٹریٹ کرائم کا خاتمہ بھی ممکن ہے لیکن ہمارے پاس اتنی افرادی قوت نہیں۔

مزید : کراچی /اہم خبریں