حلقہ بندیوں کا اختیارالیکشن کمیشن کو مل گیا، 15نومبرتک بلدیاتی انتخابات کرادیں : سپریم کورٹ

حلقہ بندیوں کا اختیارالیکشن کمیشن کو مل گیا، 15نومبرتک بلدیاتی انتخابات ...
حلقہ بندیوں کا اختیارالیکشن کمیشن کو مل گیا، 15نومبرتک بلدیاتی انتخابات کرادیں : سپریم کورٹ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سپریم کورٹ نے بلدیاتی حلقہ بندیوں کا تمام تراختیار الیکشن کمیشن کو دیتے ہوئے سندھ ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کو 15 نومبر تک بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دے دیا اور ہدایت کی کہ وفاق و صوبائی حکومتیں 5 ماہ کے اندر بلدیاتی نظام کے سلسلے میں قانون سازی کریں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق متفرق درخواستوں کی سماعت کی۔ عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہاہے کہ آرٹیکل 140اے کے تحت آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہے، اس لئے بلدیاتی حلقہ بندیوں کا اختیار بھی الیکشن کمیشن کو دیاجائے، 9سال سے زائد عرصے سے انتخابات نہ کروانا آئین کی خلاف ورزی ہے ۔عدالت عظمیٰ نے قراردیاہے کہ انتخابی حلقہ بندیوں کا اختیار صوبوں کو دینا آئین کی خلاف ورزی ہے ،خودوفاق اور صوبائی حکومتیں 5 ماہ بلدیاتی نظام کے سلسلے میں قانون سازی کریں اور 15 نومبر تک بلدیاتی انتخابات کرادیئے جائیں۔قبل ازیں سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مصطفیٰ رمدے نے رپورٹ پیش کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ صوبے میں حلقہ بندیوں سے متعلق قانونی مسودے کی تیاری میں 25 روز لگیں گے، وزارت قانون اور صوبائی کابینہ سے منظوری میں سات روز لگیں گے جس کے بعد کم از کم 5 روز میں صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے گا جس کی منظوری کے بعد گورنر سے منظوری میں 15 لگ جائیں گے۔ ان تمام مراحل کی تکمیل کے بعد بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہوگا اور یہ انتخابات 10 مراحل میں مکمل ہوں گے اور اس سارے عمل میں 4 ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ عدالت نے سماعت مکمل کرتے ہوئے کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیاجو کچھ دیر بعد سنادیاگیا۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں