بھارتی آئی ٹی ماہرنے لاپتہ طیارہ ہندوستان میں ہونے کادعویٰ کردیا

بھارتی آئی ٹی ماہرنے لاپتہ طیارہ ہندوستان میں ہونے کادعویٰ کردیا
بھارتی آئی ٹی ماہرنے لاپتہ طیارہ ہندوستان میں ہونے کادعویٰ کردیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حیدر آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ممکن ہے کہ جو معمہ دنیا بھر کی تحقیقاتی ٹیمیں نہیں سلجھا سکیں، بھارتی حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے آئی ٹی کے ماہر ایک نوجوان نے اس کے حل میں ایک قیمتی اشارہ فراہم کردیا ہے۔ انوپ مارتھو نامی نوجوان بھی ان لاکھوں افراد میں شامل ہیں ڈیجیٹل گلوب نامی کمپنی کا سیٹلائٹ ڈیٹا کئی دن سے کھنگال رہے ہیں، اس کمپنی نے چند روز قبل اپنی ڈیٹا بیس عوام کے لئے کھول دی تھی اور لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ گمشدہ ملائیشین طیارے کی تلاش میں ان کی مدد کریں۔ 29 سالہ آئی ٹی تجزیہ کار انوپ مارتھو کا کہنا ہے اس نے سیٹلائٹ کیوبی 02 کے ڈیٹا میں سے ایک تصویر ڈھونڈی ہے جس کے بارے میں اسے یقین ہے کہ یہ ملائیشین ایئرلائن کے گمشدہ طیارے کی تصویر ہے۔ اس کے مطابق یہ تصویر اندمان جزیروں کے قریب شب پور کے علاقے میں ایک جنگل کے اوپر پرواز کرتے طیارے کی تصویر ہے۔ یہ جگہ صرف دفاعی فورسز استعمال کرتی ہیں اور سویلین جہازوں کو اس علاقے میں پرواز کی اجازت نہیں۔ دوسرا یہ کہ اس تصویر میں جہاز کی پرواز اس قدر نیچے ہے کہ بادل بھی اس سے اوپر تیر رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ ایسا ریڈار سے بچنے کے لئے کیا گیا ہو۔ مزید یہ کہ تصویر کے سکیل کے حساب سے اس جہاز کا سائز بھی گمشدہ جہاز جتنا ہی ہے، اس نوجوان نے تحقیقاتی ٹیموں سے سی این این کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اپنے کالم میں اس پہلو کو بھی تفتیش میں شامل کرنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب تفتیشی ٹیموں کا کہنا ہے کہ پائلٹ کے گڈبائے کہنے سے 12 منٹ قبل ہی جہاز اپنا رخ تبدیل کرچکا تھا اور کوپائلٹ کے آخری الفاظ بھی ان الفاظ سے مختلف تھے جو عموماً استعمال کئے جاتے ہیں، لہٰذا اب یہ خیال تقویت پکڑتا جارہا ہے کہ جہاز سمندر میں گر کر تباہ نہیں ہوا بلکہ اس کا راستہ تبدیل کردیا گیا۔ ایسا کیوں کیا گیا یا کس نے کیا ؟ تحقیقاتی ٹیمیں اس حوالے سے اب تک کوئی بھی حتمی جواب دینے سے قاصر ہیں۔ جبکہ تائیوان کے ایک نوجوان نے بھی اسی قسم کا دعویٰ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ طیارہ بحر ہند میں ہوسکتا ہے اُس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس بھی ایک ایسی تصویر ہے جس سے لگتا ہے کہ جہاز بھارتی سمندری حدود میں ہے۔ دوسری جانب ملائیشین حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بحر ہند کے جنوب میں طیارے کی تلاش کا کام جاری ہے اور یہ تلاش انڈونیشیا کے مغربی ساحلوں سے لے کر آسٹریلیا تک کی جارہی ہے۔

مزید : بین الاقوامی