صحافیوں کے تحفظ کیلئے میڈیا کمیشن بنانے کا اعلان

صحافیوں کے تحفظ کیلئے میڈیا کمیشن بنانے کا اعلان
صحافیوں کے تحفظ کیلئے میڈیا کمیشن بنانے کا اعلان

  

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم محمد نوازشریف نے صحافیوں کے تحفظ کیلئے میڈیا کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ اعلان انہوں نے صحافیوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی عالمی تنظیم (سی پی جے) کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا ہے اور کہا ہے کہ صحافی معاشرے کا اہم ترین حصہ ہیں اور انہیں آزادی سے کام کرنے کیلئے محفوظ ماحول فراہم کرنے حکومت کی ذمہ داری ہے ۔بین لاقوامی اخبارات کے مطابق پاکستان صحافیوں کیلئے غیر محفوظ ترین ملکوں میں شامل ہے اور نواز شریف نے صحافیوں کے تحفظ کیلئے کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔اس کمیشن میں میڈیا ، سرکاری افسر اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت صحافیوں کو قتل کرنے والے دہشت گردوں اور مجرموں کو گرفتار کرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم صرف مقامی ہی نہیں غیر ملکی صھافیوں کو بھی مکمل تحفط فراہم کرنا چاہتے ہیں ۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق بدھ کو کیٹی مارٹن کی قیادت میں صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ کے وفد سے ملاقات میں وزیراعظم نے کہاکہ صحافی پاکستانی معاشرے کا متحرک جز ہیں اور ا±نھیں فرائض کی انجام دہی کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اسی ضمن میں صحافیوں کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں اہم شخصیات اور سرکاری عہدیدار شامل ہوں گے۔یہ کمیشن صحافیوں کے تحفظ کے لیے تجاویز حکومت کو دے گا، وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو نا صرف مقامی بلکہ غیر ملکی صحافیوں کے لیے بھی ایسا ملک بنایا جائے جہاں وہ اپنی صحافتی ذمہ داریاں با آسانی نبھا سکیں۔انہوں نے بتایا کہ مجوزہ کمیشن صحافیوں کے خلاف جرائم کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کو موثر بنانے کے بارے میں تجاویز بھی حکومت کو دے گا، حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی کہ صحافیوں کے قتل میں ملوث دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔نیو یارک میں قائم صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس یعنی (سی پی جے) کے علاوہ مقامی تنظیمیں بھی یہ کہتی آئی ہیں کہ پاکستان میں اب بھی صحافت سے وابستہ افراد کے لیے بہت سے چیلنجز ہیں۔حکام کے مطابق دہشت گردی نے جہاں معاشرے کے دیگر طبقوں کو متاثر کیا، اس کے اثرات سے صحافی بھی نہ بچ سکے۔صحافیوں کی مقامی نمائندہ تنظیمیں ملک کے شورش زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو ضروری تربیت فراہم کرنے کے مضوبوں پر زور دیتی آئی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایسی تربیت کا مقصد خطرات سے بچتے ہوئے صحافیوں کو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار کرنا ہے۔

مزید : قومی /Headlines