اسمبلی کو ایک کالم ہضم نہ ہوسکا

اسمبلی کو ایک کالم ہضم نہ ہوسکا
اسمبلی کو ایک کالم ہضم نہ ہوسکا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور ( سپیشل رپورٹر )پنجاب اسمبلی میں ایک کالم نویس کیخلاف تحریکِ استحقاق پر دلچسپ جملوں میں بحث تو ہوئی لیکن محرک اسے کمیٹی کو منتقل کرانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ حکومتی رکن شیخ علاﺅ الدین نے ایک کالم نویس کی طرف سے اراکان اسمبلی کے کردار کو منفی انداز میں  پیش کرنے پر تحریک استحقاق پیش کی تو وزیر قانون راناثنا اللہ خان نے کہا کہ شیخ علاﺅ الدین نے اس کالم کو اتنی اہمیت دیدی ہے کہ آج ہر کوئی یہ کالم ڈھونڈ رہا ہے اور پتہ نہیں شیخ علاﺅ الدین نے ایسا کرکے کالم نویس  یا ہماری خدمت کی ہے؟ میں یقین دلاتا ہوں کہ اس معاملے کو استحقاق کمیٹی کے سپرد کرنے یا اس پرمقدمہ درج کروانے سے نہ تو یہ کالم رک سکتے ہیں او رنہ ہی خبریں، بسا اوقات اظہار رائے میں حدود سے تجاوز کیا جاتا ہے جو غلط ہے، بہت اچھے کالم نویس بھی ہیں جو اپنے دائرہ کار کا خیال رکھتے ہیں اس معاملے کو کمیٹی کے سپرد کرنے سے یہ معاملہ مزید پھیلنے کا باعث بنے گا ۔ جس کالم نویس نے یہ کالم لکھا ہے اس نے یقینا غلط بات کی ہے اور غلط کالم لکھا ہے لیکن میری تجویز ہے کہ شیخ علاﺅ الدین اس پر ایوان میں ہی جتنی دیر چاہیں بات کر لیں، انکی باتیں خبروں او رکالم میں بھی جگہ پائیں گی ۔ اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ میں بھی وزیر قانون کی رانا ثناءکی بات سے اتفاق کرتا ہوں لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ارکان اسمبلی کے بارے میں یہ تاثر کیوں بنا جسے زائل کرنے کیلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ شیخ علاﺅ الدین نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے بارے میں اس طرح لکھنا فیشن بن گیا ہے۔ ہمیں بھی اختیار دیا جائے ۔کالم نویس سارا دن جم خانہ میں بیٹھتے ہیں اور شام کو جا کر کالم لکھ دیتے ہیں۔ حکومتی رکن وارث کلو نے کہا کہ کالم نویس چاہتے ہیں کہ جمہوریت ہل جائے او رآمریت آ جائے اور پھر یہ وزارتوں میں جگہ بناتے ہیں میں بھی پانچ سال استحقاق کمیٹی کا چیئرمین رہا ہوں اس معاملے کو وہاں بھیجنے پر کوئی توپ نہیں چل جائے گی لیکن جب وہ کالم نویس کٹہرے میں آئے گا تو اسے پتہ چلے گا۔ حکومتی رکن محمد احمد خان نے کہا کہ چیئرمین کو ایوان کے تقدس کو دیکھتے ہوئے استحقاق کمیٹی سے ایک قدم آگے بڑھ کر کمیٹی بنانی چاہیے ۔ لیکن سپیکر نے اس تحریک کو ملتوی کرتے ہوئے شیخ علاﺅ الدین کو اپنے چیمبر میں آنے کی ہدایت کی جس پر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ میں ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ کرتا ہوں تاہم وارث کلو انہیں منا کر ایوان میں واپس لائے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس