پنجاب اسمبلی میں نامناسب الفاظ کا استعمال ، اپوزیشن کا واک آﺅٹ

پنجاب اسمبلی میں نامناسب الفاظ کا استعمال ، اپوزیشن کا واک آﺅٹ
پنجاب اسمبلی میں نامناسب الفاظ کا استعمال ، اپوزیشن کا واک آﺅٹ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 لاہور( سپیشل رپورٹر) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن وزراءکے ذومعنی الفاظ او بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پرایوان سے واک آﺅٹ کرگئی اور اعلان کہاہے کہ وزیر تعلیم رانا مشہود نے نا مناسب زبان استعمال کی ہے ، جب تک وہ ایوان میں معافی نہیں مانگتے اپوزیشن بائیکاٹ جاری رکھے گی ۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 40منٹ کی تاخیر سے قائمقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی کی صدارت میں شروع ہوا ۔ اجلاس میں اپوزیشن ارکان بولنے کی اجازت نہ ملنے پر بار بار احتجاج کرتے رہے اور اجازت نہ ملنے پر احتجاجاً ایوان کی کارروائی سے واک آﺅٹ کر کے باہر چلے گئے تاہم سپیکر کی ہدایت پر حکومتی رکن اپوزیشن کو منانے کے لئے گئے لیکن اپوزیشن کے صرف چار ارکان مشروط طور پر ایوان میں واپس آئے ۔ قائد حزب اختلاف میاں محمو دالرشید نے کہا کہ ہمارے ارکان کے تحفظات ہیں کہ انہیں سپیکر کی طرف سے بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا راحیلہ انور وزیر تعلیم رانا مشہود کے ذو معنی جواب پر بات کرنا چاہتی تھیں لیکن آپ نے انہیں بھی بولنے کی اجازت نہیں دی اس سے لگتا ہے کہ ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے رانا مشہود کو خاتون رکن اسمبلی کو ذو معنی الفاظ میں جواب پر معافی مانگنی چاہیے کیونکہ اس سے توہین کا پہلو نکلتا ہے اس پر قائمقام سپیکر نے کہا کہ اگر اس طرح کی کوئی بات ہوئی ہے تو اسے کارروائی کا حصہ نہیں بنایا جا ئے گا لیکن وزیر تعلیم اب ایوان میں موجود نہیں ہیں ہمیں انہیں بھی سننا چاہیے وہ کل جمعرات کو ایوان میں آجائیں گے تو ان سے وضاحت لے لیں گے اور جہاں تک اپوزیشن کو بولنے کی اجازت نہ ملنے کے اعتراض کا تعلق ہے تو ریکارڈ چیک کیا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن کو زیادہ سے زیادہ وقت دیا جاتا ہے میں نے قواعد کے مطابق اےوان چلانا ہوتا ہے اس کے بعد پھر اپوزیشن نے کہا کہ جب تک وزیر تعلیم ایوان میں آکر معافی نہیں مانگتے وہ ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے ےہ کہہ کر اپوزیشن ارکان ایوان سے باہر چلے گئے ۔ پنجاب اسمبلی کے باہر راحیلہ انور نے کہا کہ وزیر تعلیم اپنی وزارت پر تو توجہ دے نہیں رہے او ران کا دھیان کہیں اور ہے یہ عورتوں کوکیا با اختیا ربنائیں گے او رجب تک وہ معافی نہیں مانگتے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے ۔ 

مزید : لاہور