ملائیشین طیارہ گمشدگی،چھ اہم حقائق جو چھپائے جارہے ہیں

ملائیشین طیارہ گمشدگی،چھ اہم حقائق جو چھپائے جارہے ہیں
ملائیشین طیارہ گمشدگی،چھ اہم حقائق جو چھپائے جارہے ہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کوالا لمپور (مانیٹرنگ ڈیسک) ملائیشین ایئرلائنز کے طیارے کو روپوش ہوئے دس دن ہونے والے ہیں لیکن ابھی تک اس طیارے کا کچھ علم نہیں ہے اور تمام دنیا کے اہم ترین ادارے اور لوگ باوجود پوری کوشش کے طیارہ ڈھونڈنے میں ناکام ہوچکے ہیں ۔ گوکہ شور تو بہت مچایا جارہا ہے کہ تمام ادارے کام کررہے ہیں اور اپنی سرتوڑ کوشش میں ہیں لیکن پھر بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ چھپایا جارہا ہے وہ حقاق کیا ہیں آئیے دیکھتے ہیں ۔ پہلی حقیقت جو آپ بے بھی سوچی ہوگی وہ طیارے کا بلیک باکس ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ بوئینگ 777 میں جو بلیک باکس ہے وہ بم پروف ہے اور طیارے کی مکمل تباہی پر بھی محفوظ رہتا ہے۔ اس بلیک باکس میں طیارے کا تمام ڈیٹا، روٹ اور کاک پٹ کی گفتگو موجود ہوتی ہے۔ دوسری حقیقت پہلی سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔ یہ بلیک باکس چاہے سات سمندروں کی تہہ میں بھی چلا جائے تو تب بھی باہر کی دنیا کو سگنل بھیجتا رہتا ہے اور ایوی ایشن کے لوگ باآسانی اس تک رسائی حاصل کرکے جہاز کو تلاش کرسکتے ہیں لیکن اس کیس میں بلیک باکس کے سگنلز کا کوئی علم نہیں ہے، معلوم ہوتا ہے کہ جیسے بلیک باکس کو جان بوجھ کر بند کردیا گیا ہو۔ تیسری حقیقت کے بعد تو حادثے کے مفروضے کو بالکل رد کیا جاسکتا ہے۔ بوئینگ 777 کے متعدد حصے ایسے ہیں جو سمندر میں غرق نہیں ہوسکتے اور حادثے کی صورت میں سمندر میں ڈوبنے کی بجائے سطح پر آجائیں گے۔ مثال کے طور پر سیٹوں کے کشن کسی بھی صورت میں سمندر میں نہیں ڈوب سکتے۔ چوتھی حقیقت کے مطابق اگر جہاز کو کسی میزائل نے ہٹ کیا ہے تو لازماً یہ ریڈار پر موجود ہوگا لیکن اس قسم کی کوئی بھی چیز ریڈار میں موجود نہیں ہے۔ پانچیوں حقیقت کے مطابق جہاز کی رفتار اور اونچائی کے ذریعے یہ باآسانی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ جہاز کہاں تھا اور کنٹرول ٹاور کے ساتھ جہاز کا رابطہ کافی دیر تک رہا۔ چھٹی حقیقت نے ہائی جیکنگ کے مفروضے کو یکسر رد کردیا ہے۔ اس کے مطابق اگر جہاز کا رابطہ باقی دنیا سے منقطع بھی کردیا جائے تب بھی زمینی ریڈار اسے باآسانی دیکھ سکتے ہیں لہٰذا اس کے اغواءہونے کے امکانات بھی ختم ہوگئے ہیں ۔دوسری جانب ملائیشین طیارے میں سوار افراد کے لواحقین شدید رنج و غصے کا شکار ہیں ، بدھ کے روز ان افراد کے لواحقین نے ملائیشین حکومت کے خلاف احتجاج کیا ۔ اطلاعات کے مطابق ایک مقامی ہوٹل میں ملائیشین حکومت کے اہلکار طیارے کی گمشدگی کے حوالے سے پریس کانفرنس کررہے تھے لیکن اس دوران غمزدہ فیملیز نے چیخنا چلانا شروع کردیا اور اہلکاروں پر الزامات عائد کئے کہ وہ طیارہ ڈھونڈنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور اپنی ناکامی کا اعتراف نہیں کررہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے ۔ یہ معاملہ اس حد تک بڑھا کہ ان فیملیز نے اہلکاروں کے ساتھ دست وگریبان ہونے کی کوشش کی اور اس موقع پرسیکیورٹی نے آکر معاملے پر قابو پانے کی کوشش کی اور ناکامی پر ان فیملیزکو ہوٹل کے ہال سے باہر نکال کر ہال کو اندر سے تالا لگا دیا گیا۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں