نو مسلم خاتون کی حرکات نے دیگر مسلمانو ں کو مشکل میں ڈال دیا

نو مسلم خاتون کی حرکات نے دیگر مسلمانو ں کو مشکل میں ڈال دیا
نو مسلم خاتون کی حرکات نے دیگر مسلمانو ں کو مشکل میں ڈال دیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک نو مسلم 22 سالہ خاتون کو برطانوی عدالت نے چھ ماہ کی سزا سنائی۔ سزا کی وجہ خاتون کا ایک مسجد کے سیکیورٹی گارڈ پر تشدد اور عدالت میں نقاب نہ اتارنا بتایا گیا ہے۔ خاتون جس کا نام ریپکاڈاسن بتایا گیا ہے اور جو کہ یہودیت سے اسلام میں داخل ہوئی ہے نے اپنا نام تبدیل نہیں کیا ہے اور اسلام سے قبل کے نام پر زندگی گزار رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق خاتون نے مقامی مسجد کے ایک مسلمان گارڈ کو خوب مارا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ گارڈ نے چند غیر مسلم خواتین کو بغیر نقاب کے مسجد کے اندر جانے دیا ۔ جب خاتون کو عدالت میں پیش کیا گیا تو جج نے اسے نقاب اتارنے کے لئے کہا جو کہ خاتون نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ اس کا مذہب کسی غیر مرد کے سامنے بغیر نقاب کے جانے سے منع کرتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ملزمہ نے ایک لیڈی پولیس کے سامنے بھی بہانہ بنایا لیکن پھر پولیس کی زبردستی پر اسے ہتھیار ڈالنے پڑے تاہم جج نے خاتون کو مجرم قرار دیتے ہوئے چھ ماہ کی قید دی۔ یاد رہے کہ خاتون اور اس کے شوہر بارنس کو پہلے ہی سزا ہوچکی ہے۔ اس کے شوہر نے بھی اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا غیر اسلامی نام تبدیل نہیں کیا۔ دونوں میاں بیوی پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے ایک برطانوی فوجی کا چند انتہا پسند ہاتھوں کے قتل کو زبردست کہا تھا جبکہ تعزیت کرنے والوں کو بے وقوف بتاتے ہوئے ان کا مذاق اڑایا تھا۔ مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ دونوں میاں بیوی گوکہ اسلام کا نام لے کر یہ سب کچھ کررہے ہیں لیکن اُن کے اُس فضول قدم سے اسلام اور دیگر مسلمانوں کے لئے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ وہ الام کو بدنام کرنے کے لئے اس طرح کے عمل کررہے ہیں۔

مزید : انسانی حقوق