کراچی آپریشن کے محرکات اور مستقبل کے فیصلے

کراچی آپریشن کے محرکات اور مستقبل کے فیصلے
کراچی آپریشن کے محرکات اور مستقبل کے فیصلے

  



متحدہ کے مرکزی دفتر پر رینجرز کے چھاپے کے نتیجے میں نیٹو کا اسلحہ اور مفرور مجرمان بھی گرفتار کئے گئے ، لیکن اس کارروائی پر سیاسی جماعتیں خاموش ہیں۔خاموشی نیم رضاہے ۔چند ایک کے علاوہ کسی نے بھی اس کارروائی کو اس طرح نہیں سراہا ہے ،جس طرح شمالی وزیرستان میں ہونے والی کارروائی کو سراہا گیا تھا۔ ہمارے انٹیلی جنس اداروں نے بالکل صحیح اطلاعات دیں۔یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اہم حکومتی شخصیات کوبھی اس کارروائی کا علم تھا اور ان کی منظوری بھی حاصل تھی ۔تمام سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور اداروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کراچی کے حالات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ ان کو حل کرنے کے لئے نشتر لگانے کی ضرورت تھی ۔یہی وجہ ہے کہ جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ حیران کن ہیں ۔یعنی نیٹو کنٹینرز سے لوٹے ہوئے ہتھیار اور قتل کے مقدمات میں سزا یافتہ مجر موں نے بھی متحدہ کے مرکزی دفتر میں پناہ لی ہوئی تھی۔اس سیاسی جماعت کے دفتر پر حملہ دکھ کی بات ہے، لیکن دکھ یہ ہے کہ یہ دفتر مجرموں کی پناہ گاہ بن گیا تھا،لہٰذااس آپریشن کو اب منطقی انجام تک پہنچانا لازم ہے ۔

اس واقعے کا ایک سیاسی پس منظر بھی ہے کہ سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر آصف زرداری اور نواز شریف میں رسہ کشی ہوتی رہی ،جس میں ایم کیو ایم کا بھی ایک کردار تھا،جس کی بنا پر زرداری کاپلڑہ بھاری نظر آیا تو نوازشریف نے رضا ربانی کے حق میں ووٹ ڈال دیا حکومت نے کہا کہ ان کا یہ عمل جمہوریت کے لئے ضروری تھا ،لیکن دونوں جانتے تھے کہ اس موقع پر کراچی کے امن کے لئے انتظامی کارروائی کی ضرورت ہے اور ایسے حالات میں سیاسی کشیدگی نقصان دہ ہوگی ،کیونکہ حالات، جمہوری اخلاقیات پر حاوی ہوچکے تھے،اور طاقت کا استعمال ضروری ہوگیا تھا۔اس وقت متحدہ قومی موومنٹ سخت دباؤ میں ہے ۔رینجرز کی کارروائی جاری ہے ۔متحدہ پر اور بھی الزامات ہیں مثلاً بلدیہ گارمنٹ فیکٹری میں بھتہ نہ دینے پر آگ لگا کر ڈھائی سو سے زیادہ لوگوں کو زندہ جلا کر مارنے کا الزام ہے ۔عمران فاروق کے قتل کا الزام ہے ۔ عمران فاروق کے مبینہ قاتل ہماری انٹیلی جنس اداروں کے پاس ہیں، جنہیں وہ سامنے لائیں گے، تاکہ وہ بتائیں کہ کس کے حکم پر عمران فاروق کو قتل کیاگیا۔ان تمام اقدامات کے سبب متحدہ انتہائی دباؤ کی حالت میں ہے ،شاید یہی وجہ ہے کہ اس کے خلاف اتنابڑا ایکشن ہونے کے باوجود کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ۔احتجاج اور ہڑتال کی بھی کوشش کی گئی، لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہوئی ۔

حکومت کے اس اقدام کے بعد جو انکشافات ہوئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے نئی سیاسی الجھنیں پیدا ہوئی ہیں،کیونکہ متحدہ پارلیمنٹ میں ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پر موجود ہے ۔ اس صورت حال کو دیکھ کر اگر ایم کیو ایم کوتوڑنے اور تقسیم کرنے کا ارادہ کیا گیا تو یہ ایک بہت بڑی غلطی ہوگی ، کیونکہ ایک جماعت کو توڑنے کے نتیجے میں جو ردعمل ہوتا ہے وہ ہمیشہ شدید ہوتا ہے ۔ اس لئے حکومت اس معاملے میں احتیاط برت رہی ہے ۔ملک کے سیاسی نظام کو مستحکم کرنے کے لئے ایم کیوایم کوایک منظم سیاسی جماعت کی حیثیت سے برقرار رکھنا ضروری ہے ۔ ورنہ ہم نے دیکھا ہے کہ کسی بھی تنظیم یا جماعت پر دباؤ ڈالا جائے تو اس کا رخ انتہا پسندی کی طرف چلا جاتا ہے ۔ماضی کے تجربات اس بات کے گواہ ہیں کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو کالعدم قرار دینے سے ان کے نظریات میں شدت آئی ہے اور ان کو کنٹرول کرنا پہلے سے بھی زیادہ مشکل ہوگیا ہے، کیونکہ اکثر و بیشتر ان کی ڈورکسی اور کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے اور کالعدم تنظیم کے کارکنان اور حامیوں کی ہمدردیاں بڑھتی جاتی ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں امن وامان کو درست کرنے کے لئے متعددبار فوجی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں،لیکن فوجی ایکشن کے بعد ضروری انتظامی اقدامات کبھی بھی نہیں کئے گئے،جس کے سبب خرابی بڑھتی گئی ہے ۔ اس خرابی کے پیدا ہونے کا احتمال کراچی میں بھی ہے۔رینجرز نے کارروائی کرکے ان لوگو ں کو گرفتار کیا جو ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی میں ملوث تھے ،لیکن دیکھنا یہ ہے وہ کون لوگ ہیں جو ان ٹارگٹ کلرز اور دہشت گردوں کو احکامات دیتے رہے یعنی یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کا ماسٹر مائنڈ کون ہے؟ حکومت کا یہ بہت ہی اہم فیصلہ ہو گا، کیونکہ یہ طے ہے کہ جو لوگ بھی اس دہشت گردی میں ملوث پائے گئے ان کو قانون کے تحت سزا دینا لازمی ہوگا۔ورنہ کارکن تو مارے جائیں گے ،لیکن ان کو حکم دینے والا اور دہشت گردی پر اکسانے والا محفوظ پناہ گاہوں میں بیٹھا رہے گا۔جب تک ان کو پکڑ کر قانون کی زد میں نہ لایا گیا تو دہشت گردی کا یہ مرض دوبارہ ابھر ے گا ۔اس لئے دونوں سطحوں پر کلین اپ آپریشن ضروری ہے یعنی ایک کارکنوں کی سطح پراور دوسری ان کے ماسٹر مائنڈوں کی سطح پر سخت اقدامات ضروری ہیں اور یہ خیال رکھنا ہوگا کہ ایم کیو ایم ایک منظم جماعت ہے اس کے نظریاتی کارکن ہیں اگر ان کو انصاف نہ ملا تو یہ انتہا پسندی کی طرف مائل ہوجائیں گے اس لئے ان کے ساتھ وہ سلوک نہ کیا جائے جووزیراعظم بھٹو نے1975میں عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ کیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 17(2)کے تحت پابندی لگا دی تھی ،لیکن نتیجہ کیا نکلا؟اسی فیصلے کے بعد بھٹو کا زوال شروع ہوا اور وہ تختہ دار تک جا پہنچے ، اور جمہوریت طابع ہو گئی۔

کراچی میں ان اقدامات کے بعد حکومت کی سیاسی مشکلات میں کمی ضرور آئے گی،لیکن صرف یہ کہہ دینا کہ جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے ۔حکومت کیا کر سکتی ہے ہمیں نہیں معلوم، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پیپلز پارٹی اور اس کے قائدجناب آصف علی زرداری میں وہ سیاسی تدبّر موجود ہے کہ وہ ان معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کر سکتے ہیں اور ایم کیوایم کو قومی سیاسی دھارے میں لا کر نہ صرف صوبہ سندھ، بلکہ پورے ملک میں جمہوری قدروں کو مستحکم کر سکتے ہیں۔ لہذا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ بہت سوچ سمجھ کر انتظامی عمل شروع کیا جائے ۔ قانون کے تقاضے پورے کئے جائیں ۔اس جماعت کو توڑنے کے بجائے اسے قائم رکھنے، خرابیاں اور کمزور یاں دور کرکے سیاسی عمل میں شامل کیا جانا ضروری ہے ،تاکہ کراچی کسی نئی خونریزی کا نشانہ نہ بنے ۔ کراچی پاکستان کا دل ہے اور خصوصاً ہم جیسوں کے لئے تو خانہ دل کے مانند ہے۔جہاں ہمارے سبھی اہل خاندان رہتے اور بستے ہیں ، لیکن وہاں اس وقت ایک حشر برپا ہے : ؂

شور برپا ہے خانہء دل میں

کوئی دیوار سی گری ہے ابھی

یہ گری ہوئی دیوار وہ خرابیاں ہیں جو صرف عسکری قوت سے ختم نہیں ہوتیں ،بلکہ سیاسی شعور اور اقدامات کے تحت ان کا حل تلاش کیا جانا لازم ہے، جب ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جمہوریت مضبوط ہوئی ہے ۔ہمارے حکمرانوں کے مزاج میں تکبر ہے کہ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کو دشمنی کا رنگ دیتے ہیں۔ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے سیاست دان اور خود ایم کیو ایم مل کر بیٹھیں اور حکمت عملی وضع کریں،تاکہ وہ اصلاحات کی جاسکیں، جن سے ’’نظام کی تبدیلی‘‘ ممکن ہو سکے ۔نظام کی تبدیلی اس قومی سوچ کا نام ہے جو ایوب خان کے دور میں بھی ابھری تھی جسے عسکری قوت سے دبانے کی کوشش کی گئی اور اس کے سنگین نتائج ہمیں دیکھنے پڑے۔ ایسے نتائج کے ہم آج متحمل نہیں ہوسکتے۔ یہی وہ مقام آگہی ہے جہاں ہمارے قومی جمہوری شعود کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ یعنی موجودہ پارلیمنٹ کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔

آج کے حالات 1971کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ پاکستانی فوج اس وقت بھر پور انداز میں دہشت گردی کے خلاف روبہ عمل ہے۔ اس کے پاس اتنا بھی وقت نہیں ہے کہ وہ سعودی عرب کے بنائے ہوئے قوموں کے اتحاد میں شامل ہو کر داعش کے خلاف، شام اور عراق میں، متحرک ہو سکے۔ پاکستان کے ارد گرد کے ممالک میں شکست وریخت کا بدترین عمل جاری ہے۔ افغانستان ، عراق،شام، یمن،لیبیا ، صومالیہ سب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔اس وقت غیر مسلم قوتیں اپنی سازشوں میں کامیاب ہیں۔ دنیائے اسلام مجبور اورمنتشر نظر آتی ہے۔ایسے حالات میں اگر ہم اپنے ترقیاتی کاموں کے خوابوں میں گم رہے اوراس کے سہارے اپنے اقتدار کی پانچ سال کی مدت کو پورا کرنے کے بارے میں سوچتے رہے تو یہ بدترین فیصلہ ہوگا۔تبدیلی ضروری ہے ،جس کے لئے سیاسی و جمہوری ترجیح کو روبہ عمل لانا لازم ہے۔

مزید : کالم