نیسلے کا ورلڈ واٹر ڈے کے حوالے سے پینل ڈسکشن کا انعقاد

نیسلے کا ورلڈ واٹر ڈے کے حوالے سے پینل ڈسکشن کا انعقاد

  

لاہور(پ ر) نیسلے پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے پانی کے عالمی دن کے موقع پرWWF پاکستان اور LUMS واٹر انفارمیٹکس اینڈ ٹیکنالوجی (WIT) سینٹر کے ساتھ اشتراک میں 18 مارچ 2016 ء کو LUMS میں ایک پینل ڈسکشن منعقد کیا۔مباحثے کا عنوان تھا ’’بہتر پانی، بہتر ملازمتیں‘‘، جو (22 مارچ کو منائے جانے والے) UN ’ ورلڈ واٹر ڈے‘ کے سالِ رواں کے عنوان کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔دو گھنٹوں پر محیط اس مباحثے میں تعلیمی، غیر منافع جاتی اور حکومتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے اور انفرادی سطح پر کام کرنے والے ماہرین نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح ہر سیکٹر پانی کی صنعت سے منسلک ملازمتیں حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ پینل میں ڈاکٹر کوثر عبد اللہ ملک، ڈاکٹر پرویز عامر، ڈاکٹر محمد اسلم اور علی حسنین سید شامل تھے۔ مباحثے میں پینل کو دیہی و شہری ترقی، پالیسی اور قانون، اور کاروبار اور معیشت سے متعلق چار سوالات پیش کئے گئے۔ خر م ضیاء، کنٹری منیجر، نیسلے واٹرز، نے کہا، ’’پانی تیزی سے ختم ہوتا ہوا وسیلہ ہے جسے عوام، کسان، صنعت، ماحول اور طبقات استعمال کرتے ہیں۔ نیسلے کا عزم ہے کہ ’واٹر اسٹیورڈ‘ بنے۔

اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ہماری سرگرمیاں - زراعتی ویلیو چین سے لے کر صنعتی کارروائیوں تک - باکفایت ہوں اور ہم ایسے اقدامات کے لئے اشتراک کریں جو طویل میعاد میں پانی کے ذرائع کے تحفّظ کو فروغ دیں۔‘‘حماد نقی، ڈائریکٹر جنرل WWF پاکستان، نے پاکستان کے لئے پانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’ہمارے پانی استعمال کرنے کے طریقے بے حد غیر تحفظ پسندانہ ہوگئے ہیں کیونکہ ہم نہ صرف زیرِ زمین پانی کو استعمال کر کے ختم کررہے ہیں بلکہ دریاؤں کو بھی آلودہ کررہے ہیں۔ WWF اس بڑے چیلنج سے نبردآزما ہونے والے پروگراموں اور اشتراکوں کی معاونت کرتا ہے۔‘‘ڈاکٹر ابو بکر، ڈائریکٹر، WIT سینٹر، نے کہا کہ اُنھیں نیسلے اور WWF پاکستان کے ساتھ اشتراک پر فخر ہے۔ انہوں نے ’اسمارٹ واٹر انفراسٹرکچرز‘ کے قیام کے بارے میں بتایا جس سے پانی کا موثر انتظام ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دریاؤں وغیرہ سے پانی لانے کے لئے خواتین کا چھ گھنٹوں تک پیدل چل کر جانا ہمارے معاشرے میں عدم مساوات کی ایک مثال ہے۔ پانی کے موثر انتظام سے ایسے بے مقصد اور بلا معاوضہ کاموں کا خاتمہ ہو سکے گا۔اس موقع پر ابرار احمد، منیجر، شیخوپورہ فیکٹری، نیسلے پاکستان، نے ایک خصوصی دستاویز پر دستخط کئے جس میں نیسلے فیکٹری اور اس کےcatchment ایریا، دونوں میں پانی کے ذمہ دارانہ استعمال کا عہد کیا گیاہے۔ اس دستاویز پر دستخط فیکٹری میں ’الائنس فار واٹر اسٹیورڈشپ ‘(AWP) اسٹینڈرڈ کے نفاذ کا حصہ ہے ۔ نیسلے شیخوپورہ فیکٹری نہ صرف پاکستان بلکہ پورے نیسلے میں وہ پہلی فیکٹری ہے جہاں AWS اسٹینڈرڈ کے نفاذ کا آغاز ہوا ہے جس سے سائٹ پر پانی کے استعمال اور catchment ایریا ز کے بہتر انتظام کو فروغ حاصل ہوتا ہے تاکہ پانی کے معیار، مقدار اور نگرانی سے متعلق مشترکہ مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے ۔

مزید :

کامرس -