50لاکھ تاوان کیلئے اغواء ہونے والے بچے نے عدالت میں بیان قلمبند کرایا

50لاکھ تاوان کیلئے اغواء ہونے والے بچے نے عدالت میں بیان قلمبند کرایا

  

لاہور(نامہ نگار)رواں سال جنوری میں نشترکالونی سے 50لاکھ روپے تاوان کے لئے اغواء ہونے والا ساڑے 5سالہ بچہ محمدحسنین اپنے والد کے ساتھ بیان قلمبند کرانے کے لئے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوااور عدالت کو اغوا ء کی تفصیلات بتائیں۔انسداددہشت گردی کی عدالت کے جج چودھری محمد الیاس نے کیس کی سماعت کی۔ساڑے 5سالہ محمدحسنین کے اغواء میں ملوث ملزمان سرمد جاوید،سمیع اللہ شاہ زیب اور محمد نوید کو جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا۔

محمدحسنین اپنے والد محمد انیس کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا اورعدالت کواپنی شہادت قلمبندکراتے ہوئے بتایا کہ اس کو ملزمان نے سکول سے واپس آتے ہوئے موٹر سائیکل پر اغوا کیا اور پھر ایک دوسری جگہ سے کار میں بٹھا کر لاہور سے باہر لے گئے۔ مقدمہ کے مطابق ملزمان نے بچے کی رہائی کے لئے 50لاکھ تاوان طلب کیا۔ مگر پولیس کی مدد سے تاوان کی ادائیگی سے قبل ہی بچے کو فیصل آباد سے براامد کر لیا گیا،عدالت نے 5سالہ محمد حسنین کے بیان کو ریکارڈ بناتے ہوئے کیس کی مزید کارروائی 21مارچ تک ملتوی کر دی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -