اُردو کا مقدمہ جیتنے والے وکیل کی باتیں

اُردو کا مقدمہ جیتنے والے وکیل کی باتیں
اُردو کا مقدمہ جیتنے والے وکیل کی باتیں

  

سیالکوٹ میں علامہ اقبال کے ہمسائے ماسٹراللہ دتہ ہوا کرتے تھے۔ انہیں علامہ اقبال سے اتنی عقیدت تھی کہ اپنے تمام بیٹوں کے ساتھ انہوں نے اقبال کا لفظ ضرور شامل کیا۔ پاکستان کے معروف قانون دان محمد کوکب اقبال بھی ماسٹر اللہ دتہ کے فرزند ہیں۔ وہ جب بھی اپنے شہر سیالکوٹ آتے ہیں تو ان گلیوں میں گھوم کر عجب طرح کی خوشی اور سرشاری محسوس کرتے ہیں، جہاں علامہ اقبال کا بچپن گزرا تھا۔ محمد کوکب اقبال کو ملک بھر میں شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب ان کی دائر کی ہوئی 26جون 2003ء کی درخواست کئی مراحل سے گزرتے ہوئے اورکئی سال کا سفر طے کر کے 8ستمبر 2015ء کو سپریم کورٹ نے منظور کرلی اور یہ حکم جاری کردیا کہ اب وفاقی اورصوبائی حکومتیں مزید کوئی وقت ضائع کئے بغیر پاکستان بھر میں قومی زبان اردو کو دفتری اور سرکاری سطح پر رائج کیا جائے۔ محمد کوکب اقبال ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کا استدلال یہ تھا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 251میں اردو کو پاکستان کی قومی زبان تسلیم کر کے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ 15سال کی مدت کے اندر اردو زبان کو دفتری اوردیگر مقاصد کے لئے نافذ العمل کردیا جائے گا۔ آئین کے اعلان کے مطابق یہ ا نتظام و انصرام 1988ء میں ہو جانا چاہیے تھا۔ آئین میں یہ بھی واضح کر دیا گیا تھا کہ جب تک اردو زبان کو دفتری زبان کے طور پر نافذ کر نے کے عملی تقاضے پورے نہیں ہو جاتے اس وقت تک انگریزی کو دفتری زبان کے طور پر استعمال کیا جائے گا، لیکن ان کالے انگریزوں نے اردو زبان کو 15سال تو کیا 30سال گزرجانے کے بعد بھی دفتری زبان( اس میں عدالتی زبان بھی شامل ہے) کے طور پر نافذ نہ ہونے دیا، جن کالے انگریزوں کو صرف انگریزی جاننے کی وجہ سے پاکستان کے عوام کی عظیم ترین اکثریت پر برتری حاصل تھی۔

محمد کوکب اقبال ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے عزم کرلیا کہ وہ اکیلے ہی قومی زبان اردو کا پرچم لے کر نکلیں گے، چنانچہ انہوں نے 26جون2003ء کو سپریم کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کردی کہ حکومت پاکستان قومی زبان اردو کو دفتری زبان کے طور پر نافذ کر نے کے لئے اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری کسی حکومت نے بانیء پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے اس اعلان کا بھی احترام نہیں کیا کہ اردو ہماری آفیشل زبان ہوگی۔ محمد کوکب اقبال کا یہ بھی استدلال تھا کہ اردو زبان میں ہمارے دین اسلام کی جامع تعلیمات ،ہمارا پورا ادبی ،تہذیبی ورثہ محفوظ ہے اور ہماری نئی نسلوں تک یہ تہذیبی، دینی اورادبی ورثہ اردو زبان کو رائج کرنے سے ہی منتقل ہو سکتا ہے۔ محمد کوکب اقبال سیالکوٹ میں میری اوربرادرم اسدا عجاز کی دعوت پر تشریف لائے تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ جب تک ہمارے ملک میں قومی زبان کو نافذ نہیں کیا جائے گا اورنچلی سطح سے لے کر اعلیٰ ترین سطح کی تعلیم کے لئے اردو کو منتخب نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک پاکستان کے غریب عوام کی تقدیر نہیں بدل سکتی۔ وہ کہنے لگے کہ غریب طبقوں کے بچے اپنی ذہنی صلاحیتوں کے اعتبار سے اشرافیہ کے بچوں سے کسی کمی کا شکار نہیں، لیکن غریبوں کے بچے چونکہ مہنگے ترین انگریزی سکولوں میں داخلہ نہیں لے سکتے، اس لئے وہ مقابلے کے امتحانات میں امیر طبقے کے بچوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

محمد کوکب اقبال نے کہا کہ وہ اردو زبان کا مقدمہ سپریم کررٹ میں لے کر ہی اس لئے گئے تھے کہ وہ اس ظلم اورنا انصافی کا پاکستان کے معاشرے سے خاتمہ چاہتے تھے جو نظام تعلیم میں فرق کی وجہ سے آزادی کے بعد غریب عوام سے جاری رکھا گیا تھا۔ محمد کوکب اقبال ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان کا یہ ایمان ہے کہ اگر اردو کو ہر سطح پر ذریعہ تعلیم بنانے کا انتظام کردیا جائے اوروفاقی سطح پر مقابلے کے امتحانات میں طلباء کو اردو میں جوابات لکھنے کا حق حاصل ہو جائے تو پاکستان میں غریب طبقوں کی ساری محرومیوں کا خاتمہ ہو جائے گا، کیونکہ اردو میں مقابلے کے امتحانات کی وجہ سے غریب طبقے کے بچوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے مواقع میسر آجائیں گے اوریہ بچے اپنے طبقے کے دکھوں کے مداوے کے لئے دردِ دل اورایک قومی جذبے کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں گے۔ اس طرح پاکستان میں معاشرتی انصاف اور معاشی مساوات کے بند دروازے کھل جائیں گے، جو قائد اعظم کا بھی خواب تھا۔محمد کوکب اقبال ایڈووکیٹ کہہ رہے تھے کہ ہماری تمام تر عدالتی کارروائی انگریزی میں ہونے کی وجہ سے ہمارے عوام اپنے حق میں یا خلاف ہونے والے فیصلوں کو نہ تو پڑھ سکتے ہیں اورنہ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ کیا یہ ظلم اوربد قسمتی کی بات نہیں کہ جن عوام کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لئے عدالتیں فیصلے صادر کرتی ہیں۔ وہی عوام ان فیصلوں کو پڑھنے اورسمجھنے کی اہلیت ہی نہ رکھتے ہوں تو پھر عدالتی فیصلے اس زبان میں تحریر کیوں نہ کئے جائیں جس زبان کو عوام سمجھتے ہوں اور جو پاکستان کی اپنی قومی زبان ہے۔

محمد کوکب اقبال نے کہا کہ آئین کی پاسداری اور قانون کی معاشرے میں بالادستی قائم کرنے کے لئے ضرور ی ہے کہ حکمران طبقہ سب سے پہلے خود آئینی احکامات پر پابندی کا آغاز کرے۔ اگر آئین کی بقا اورآئین کے تحفظ کا حلف اٹھانے والے حکمران خود آئین کی پابندی نہیں کریں گے تو وہ عوام سے یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہیں کہ عام شہری ملکی قوانین کا احترام کرے گا۔ محمد کوکب اقبال انتہائی افسردہ لہجے میں ہمیں بتا رہے تھے کہ پاکستان کے پورے معاشرے میں ہر طرف لاقانونیت کو جو چلن ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہمارے مقتدر طبقے قانون کی حکمرانی پر یقین ہی نہیں رکھتے۔محمد کوکب اقبال کا یہ موقف تھا کہ جس طرح قانون کی نظر میں سب شہری برابر ہیں، اسی طرح اگر ہم حصول تعلیم کے تمام شہریوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اردو زبان کو فوری طورپر ذریعہ تعلیم بنانا ہوگا۔ جب تک انگریزی زبان جاننے والوں کو اردو زبان جاننے والوں پر برتری حاصل رہے گی، اس وقت تک پاکستان میں سوشل جسٹس کا خواب کیسے پورا ہو سکتا ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ بچوں کو اگر ان کی اپنی زبان میں تعلیم دی جائے گی تو وہ علم کی منازل جلد طے کرلیں گے۔ وہ زبان جو بچہ اپنے گھر ماحول اورمعاشرے سے سیکھتا ہے۔ اس میں تعلیم کا حصول بہت ہی آسان ہے۔ پھر خواہ مخوا حصول تعلیم کے مراحل کو دشوار کرنے کے لئے کسی غیر ملکی زبان کو اختیار کیوں کیا جائے۔

سپریم کورٹ میں قومی زبان اردو کا مقدمہ جیتنے والے وکیل نے ذرا تلخی کے ساتھ کہا کہ ہم نے پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا، لیکن ہم نے آج تک اپنے اللہ سے کیا ہوا نفاذ اسلام کا عہد بھی پورا نہیں کیا۔ اسی طرح ہمارا اپنی قومی زبان کے ساتھ طرز عمل بھی منافقت پر مبنی رہا ہے۔ ہم نے آئین میں تو لکھ دیا کہ اردو ہماری قومی زبان ہے، لیکن ہمارے قوانین انگریزی زبان میں ہیں۔ ہماری پالیسیاں انگریزی زبان میں تحریر کی جاتی ہیں، ہمارے انکم ٹیکس کے قوانین انگریزی میں ہیں، ہمارے ہاں سمجھ بوجھ اور لیاقت وقابلیت کا معیار یہ ہے کہ کس صاحب کو کتنی انگریزی آتی ہے۔ آخر ہم اس غلامانہ ذہنیت اوراحساس کمتری کی ذلت سے باہرکب نکلیں گے؟ ہمیں اپنی قومی زبان اردو پر فخر کیوں نہیں ہے؟ اردو تو دنیا میں تیسری بڑی زبان ہے۔ اگر ہم نے اپنی قومی زبان کی ترقی اور ترویج کے لئے کام نہ کیا تو دوسری کوئی قوم اردو سے محبت کیوں کرے گی؟ اردو اتنی امیر اورالفاظ کا اتنا وسیع ذخیرہ رکھتی ہے کہ دنیا کی ہر زبان کے علوم کو اردو میں منتقلی کیا جاسکتا ہے۔ پھر اردو میں یہ خوبی بھی ہے کہ ہر زبان کے لفظ کو اردو اپنے اندر جذب کر سکتی ہے۔

اردو کا مطلب ہی یہ ہے کہ یہ ایک لشکر ہے جو مختلف زبانوں کے باہمی اختلاط وارتباط سے تشکیل دی گئی ہے۔ اردو میں عربی، فارسی، ہندی اورانگریزی کے علاو ہ دیگر زبانوں کے الفاظ بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ایسی جامع زبان شاید ہی دنیا میں کوئی اور ہو۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اردو زبان پر فخر کرنا سیکھیں اورسپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے مطابق اورپاکستان کے آئین کی روشنی میں اردو کو پاکستان میں قومی زبان کے طورپر دفتروں میں بھی رواج دیں۔ ہمارے عدالتی فیصلے اردو میں تحریر ہوں اور ہر سطح کے امتحان کے لئے صرف اردو ہی میں سوالات کے جوابات تحریر کرنے کی اجازت ہو۔ ہمارے ارکانِ سلطنت پاکستان کے اندر اوربیرون پاکستان جہاں بھی جائیں اردو میں اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ اردو زبان کو خوبصورت بنانے کے لئے چاروں صوبوں کی زبانوں کے منتخب الفاظ کو بھی اردو میں سمویا جائے۔

مزید :

کالم -