کامیابیاں ہیں ،مگر اور کی ضرورت

کامیابیاں ہیں ،مگر اور کی ضرورت
کامیابیاں ہیں ،مگر اور کی ضرورت

  

2013ء میں جب موجودہ حکومت نے میاں محمد نواز شریف کی سربراہی میں حکومت سنبھالی تو کچھ لیڈر حضرات یہ سوچ رہے تھے کہ شاید دھاندلی کو ایک انگلی کے اشارے پر بدلوا دیں گے، مگر اُنہی دِنوں ایک سوچ یہ بھی تھی کہ میاں صاحب جن کے جذبہ حب الوطنی پر کوئی شک و شبہ نہیں اس بار وہ پھونک پھونک کر قدم رکھیں گے اور بجلی کے بدترین بحران کے باوجود سرخرو ہوں گے اور دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔ آج حکومت کو تین سال ہونے کے قریب ہیں اور دیکھتے ہیں کہ دونوں تجزیوں کا کیا ہوا؟

عمران خان کی لاحاصل کوششوں کا کسے پتہ نہیں، مُلک میں افراتفری اور بحرانی صورت حال پیدا کرنے کی کنٹینر والی سیاست دفن ہو چکی۔ دھاندلی کا شور مچاتے مچاتے سرکاری عمارتوں پر قبضہ اور توڑ پھوڑ کی غلیظ سیاست نے انگلی اٹھانے والوں کا تاثر بھی سب پر واضح کر دیا اور بالآخر نرم گرم شرائط پر کنٹینر اور کنٹینر والے اسلام آباد سے دُور ہو گئے۔ اِس سارے عرصے کے دوران گالیوں کا آزادانہ استعمال عمران خان کی اخلاقی حالت کو پاکستانی عوام کے ذہنوں کو متاثر کر گیا اور تحریک انصاف کے اندر بھی اختلافات کو ہَوا دے گیا اور بعض پیاروں کو یہ کہنا پڑا کہ ’’تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے‘‘۔ اس صورت حال میں میاں نواز شریف کا کردار ایک بہتر لیڈر کا رہا جس نے گالیوں کا جواب نہ گالی سے اور نہ گولی سے دیا، بلکہ خاموشی اختیار کی اور مختلف افواہوں کی گردان کا بھی خندہ پیشانی سے جواب دیا۔ اِسی دور ان مُلک میں بجلی کے نئے کارخانے لگانے کا عمل جاری رہا۔بھارتی محاذ کو بھی دوستی سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں بار بار بھڑکتی ہوئی آگ کبھی ٹھنڈی ہو جاتی۔ پاک چائنہ کوریڈور کے معاملے میں بڑی بہتر پیش رفت ہوئی اور چین کی سرمایہ کاری سے دوسرے ممالک کو بھی ترغیب ملی اور آج مُلک میں سرمایہ کاری کے لئے کچھ مواقع ضرور میسر ہیں۔

اگرچہ اپوزیشن اور خاص طور پر تحریک انصاف کی طرف سے ہر چیز کی مخالفت ضروری تھی مگر اے پی سی بُلا کر تمام کو راضی کیا گیا۔ اس کاریڈور سے مُلک اقتصادی طور پر مضبوط ہو گا، بعض عاقبت نااندیش سیاست دان کمیونیکیشن کے ذرائع سڑک، ریل کار، بس اور ٹرینوں کی مخالفت کرتے رہے، مگر وہ نہیں جانتے کہ میٹرو بس منصوبوں پر غریب آدمی20روپے میں طویل فاصلے تک سفر کر سکتا ہے۔ دہشت گردی سے نپٹنا سابقہ حکمرانوں کا کام تھا، مگر یہاں بھی میاں نواز شریف اور افواجِ پاکستان کے رہنما جنرل راحیل شریف نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے ضربِ عضب کا آغاز کیا جو کامیابی کے ساتھ جاری ہے اس پر بھی اے پی سی میں فیصلے ہوئے، مگر آئے روز اس کی بھی مخالفت کے منصوبے بنے اور فوج اور نواز شریف میں تعلق کا مسئلہ بنا کر پیش کیا گیا جس کا انہیں تو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا، مگر ضربِ عضب کی اہمیت کو قوم اور پوری دُنیا نے محسوس کر لیا۔

گیس کے مسائل اور خاص طور پر کمی سے نپٹنے کے لئے تاپی گیس منصوبے پر کام ہو رہا ہے، جبکہ لوڈشیڈنگ18گھنٹے سے کم ہو کر10سے12گھنٹے سے بھی کم ہو کر6گھنٹے رہ گئی ہے جبکہ آئے روز بجلی کے نرخوں میں بھی کمی کا اعلان ہوتا رہتا ہے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات بھی ہو چکے اور اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، جبکہ مختلف صوبوں میں تعلیمی اصلاحات، ایس ای سی کو مضبوط بنانے کا پروگرام، پنجاب میں خدمت کارڈ اور وزیراعظم کی طرف سے کسانوں کو تاریخی341 ارب کا پیکیج ایسی مثالیں ہیں جو کام کی سنجیدگی اور حکومت کی اپنے عوام سے دلچسپی کا مظہر ہے۔ ہم ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ گندم کے نرخ بڑھانے کی بجائے کسانوں کی غربت دور کرنے کے لئے اُنہیں اس قسم کی سہولتیں ان کے دروازوں پر دی جائیں۔

کراچی کے حالات سنگین تھے وہاں سٹریٹ کرائم اور بھتہ کرائم عام تھے اس صورت حال میں کراچی آپریشنز کا فیصلہ قابلِ تحسین تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں کراچی کی90فیصد روشنیاں بحال اور لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں آ گئیں۔ بیروزگار نوجوانوں کو قرضے(بلا سود) اور قابل طلبا و طالبات کو لیپ ٹاپ کی فراہمی بھی حکومت کے کامیاب منصوبے ٹھہرے، موٹروے کو کراچی تک لے جانا بھی ایک اہم منصوبہ ہے جو بطورِ وزیراعظم میاں نواز شریف کا اہم کارنامہ ہے، کیونکہ وہ کہہ چکے ہیں کہ یہ سڑک دل جوڑنے کا کام بھی کرے گی۔ اِن سارے کامیاب پراجیکٹس کے علاوہ ڈالر کی قیمت میں کمی، زرمبادلہ ذخائر کا اضافہ اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی بھی موجودہ حکومت کی کامیاب حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے یہاں تک عمران خان و دیگر جماعتیں خاموش ہو جاتی ہیں، مگر ڈو مور کے ناتے چند گزارشات ہیں کہ لا اینڈ آرڈر پولیس کی کارکردگی ابھی تک وہ نہیں ہے جو کہ شیروں کی گھن گرج میں ہونی چاہئے، سڑک پر بے یقینی ہے، دفتروں میں انفراسٹرکچر نام کی کوئی چیز نہیں۔ بیورو کریسی بڑے بڑے دبنگ وزرائے اعلیٰ کی دوڑ لگوائے رکھتی ہے۔ میاں شہباز شریف کا اچھا ویژن بھی ہو وہ بھی اِن لوگوں کو عمل درآمد کرتے ہوئے کچھ اچھا نہیں لگ رہا ہوتا، بعض وزراء کی آپس میں لڑائیاں اور بعض کی کرپشن کے قصے اچھی کارکردگی کو دبا دیتے ہیں اِسی طرح محکمہ خوراک اور فوڈ سیکیورٹی کے مسائل میں بھی پالیسی کا قحط ہے۔

عالمی مارکیٹ میں گندم کے نرخ 925 اور 700 روپے فی من ٹھہرے جبکہ ہم مسلسل1300روپے فی من چارج کر رہے ہیں اور خرید بھی کر رہے ہیں یہ ایسی صورت حال ہے کہ اگر اس سے آئندہ چند ماہ میں نکلا نہ گیا اور عالمی مارکیٹ کے مطابق نرخوں کو واپس نہ لایا گیا تو پھر پاکستان میں اضافی گندم کا بحران اور شدید ہو گا اور خود غرضی اور بے حسی کی بات تو محکمہ خوراک میں نظر آ رہی ہے کہ اضافی گندم کے بحران میں بھی محکمہ فوڈ کے لوگ اچھی بھلی معیاری گندم میں مٹی اور ریت ڈال کر اپنے گھر اور جیبیں بھر رہے ہیں اور ہماری کارکردگی سے بھرپور حکومت کے لئے داغ اور دھبے بن رہے ہیں۔ حکومت کو اِن مسائل کو چھوٹا ہر گز نہیں جاننا چاہئے اس سال جعلی ایکسپورٹ پالیسی نہیں، بلکہ تمام فلور ملوں کو چلنے کا موقع دے کر آٹے کی شکل میں ایکسپورٹ کو یقینی بنائیں اور گندم کے ایکسپورٹ ٹینڈر مئی میں ہر حال میں جاری کئے جائیں۔ اچھی کارکردگی ہے اسے اور اچھا بنائیں، کسی بھی چیز کو نظر انداز کرنا ترقی کے بڑھتے ہوئے قدم روک سکتا ہے، لہٰذا میاں صاحب اب جبکہ اپوزیشن کا دباؤ ختم ہے نگاہ کو ذرا سی وسعت دیں۔ انفراسٹرکچر کو بہتر کرنا بھی آپ ہی کا کام ہے عوام ساتھ ہے آپ کی کارکردگی کے بس ذرا ’’ڈو مور‘‘۔

مزید :

کالم -