ڈاؤن سنڈروم بچوں کی بحالی کے لئے تاریخی اقدامات

ڈاؤن سنڈروم بچوں کی بحالی کے لئے تاریخی اقدامات
ڈاؤن سنڈروم بچوں کی بحالی کے لئے تاریخی اقدامات

  

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے کئی ایسے کارنامے ہیں، جو پاکستان کی تاریخ میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔ میٹرو بس کے منصوبے سے لے کر زمینوں کے ریکارڈ کو کمپوٹرائزڈ کرکے پٹوار ی کلچرکو ختم کرنا، بہاولپور میں سولر پاور سسٹم کا قیام، دانش سکولوں کا قیام، پوزیشن ہولڈر بچوں کو وی وی آئی پیز کا پروٹوکول دینا، دیہی علاقوں میں سٹرکوں کا جال ، معذور افراد کے لئے دو ارب روپے مالیت کا خدمت کارڈ پیکیج اور پورے صوبے میں چیک اینڈبیلنس کا نظام، مگر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی مُلک میں ڈاؤن سنڈروم بچے اور بالغ افراد، جنہیں ہم اپنے معاشرے میں ’’سائیں‘‘ کے نام سے جانتے ہیں، کے لئے ایک ایسی خاموش خدمت ہے، جسے وہ کبھی نہیں بھلا سکیں گے اور اس خدمت کا تعلق جہلم سے ہے، جہاں ڈاؤن سنڈروم افراد کے لئے مُلک کا پہلا ادارہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی ذاتی توجہ اور مالی معاونت سے قائم کیا گیا ہے اور جس کا افتتاح 21 مارچ ہو گا۔

اس سارے معاملے کو جہلم کے رہائشی جلال اکبر ڈار کی مختصر کہانی سنے بغیرنہیں سمجھا جا سکتا۔ جلال اکبر ڈار کو دوسروں کی غمگسار ی کا رتبہ ملا ہے۔ بیس سال پہلے اس نے دریائے جہلم کے کنارے واقع وسیع و عریض گھر کاایک حصہ معذور لوگوں کے نام کرکے ان کے لئے ایک ادارہ قائم کیا،مگر آج سے چودہ سال پہلے اس کے گھر ایک بیٹے کی پیدائش ہو ئی ۔ وہ بچہ نارمل نہیں تھا۔ بظاہر اس میں کوئی معذوری نہیں تھی، مگر وہ عام بچہ نہیں لگتا تھا۔چند ماہ بعدجلا ل اکبر ڈار کو ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ اس کا بچہ ڈاؤن سنڈروم ہے۔ یہ بچے منگول نسل سے ملتے جلتے ہیں۔ گول گول آنکھیں، کمزور جسم، پھولے پھولے ہونٹ، ڈاؤن سندڑوم معذور ی بہت منفرد ہے۔ ایسے بچے ذہنی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔ ان کے جسم کے پٹھے ناتواں ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کو عمومی طور پر ہمارے معاشرے میں ’’ سائیں‘‘ کہا جاتا ہے، جن کے مُنہ سے رالیں ٹپکتی ہیں ۔جلال ڈار جو پہلے ہی معذور لوگوں کا مختصر ادار ہ چلا رہا تھا،اس کے لئے یہ معذور ی بالکل نئی تھی۔ اس نے معلومات حاصل کیں۔ اس کے بارے میں پڑھا، ڈاکٹروں سے پوچھا اور جب اسے اس معذور ی کی تفصیل معلوم ہوئی تو اسے پتا چلا کہ اس معذوری کے لئے تواس کا اپنا ادارہ ناکافی ہے اور نہ ہی پورے مُلک میں اس معذور ی کے لئے کوئی ادارہ ہے۔ ڈاؤن سنڈروم بچوں کومسلسل فزیو تھراپی، سائیکولوجیکل ٹریٹمنٹ اور میڈیکل چیک اپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کو بولنے سمیت زندگی کا ہر ضروری کام،مثلاً کھاناکھانا، کپڑے بدلنا، دانت صاف کرنا مسلسل محنت اور توجہ سے سیکھانے پڑتے ہیں۔

جلا ل ڈار نے ڈاؤن سنڈروم بچوں کا ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور پورے مُلک میں آگاہی مہم چلانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ اس کو اپنے ڈاؤن سنڈروم بچے کے چہرے میں اس مُلک کے ہر کے محلے میں موجود ڈاؤن سنڈروم بچے کا چہرہ نظر آرہا تھا، جن کو سائیں کہہ کر گلیوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ جانوروں سے بھی بد تر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جلال ڈار ڈاؤن سنڈروم کی آگاہی پیدا کرنے اور اپنے ادارے کے قیام کے لئے پورا پاکستان پھرا۔ وہ پنجاب ، سندھ، بلو چستان اور خیبر پختونخوا کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں گیا اور لوگوں کو بتایا کہ ہمارے اردگرد سائیں ٹائپ لوگ دراصل ڈاؤن سنڈروم ہیں۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ مُلک میں ہر چھ سو میں سے ایک بچہ ڈاؤن سنڈروم معذوری کے ساتھ پیدا ہو تا ہے، اگر ڈاؤن سنڈروم بچوں کو مناسب طبی مدد اور ٹریننگ فراہم کی جائے تو ایسے بچے نارمل تو نہیں، مگر نارمل لوگوں کے قریب قریب زندگی گزار سکتے ہیں۔ جلال ڈار چاروں صوبوں کے گورنروں اور وزرائے اعلیٰ سے بھی ملا اور ان کے سامنے دو مطالبے رکھے۔ ایک کہ ڈاؤن سنڈروم کو پانچویں معذوری قرار دیا جائے۔ چار معذوریاں نابینا و بہرہ پن، ذہنی معذوری، اپاہج پن اور جسمانی معذور ی ہیں۔ دوسرے ڈاؤن سنڈروم بچوں کے لئے خصوصی ادار ہ قائم کیا جائے۔

گورنر اور وزرائے اعلیٰ جلال اکبر ڈار اور اس کے ادارے کے ڈاؤن سنڈروم بچوں کو سرکاری پروٹوکول دیتے، تفصیل سے اس کی باتیں سنتے اور پھر حکو متی امور میں سب کچھ بھول جاتے، مگر وزیراعلیٰ شہباز شریف نے جلال ڈار کو ٹرخایا نہیں۔ پہلی ملاقات میں ڈاؤن سنڈروم کا مختصر تعارف ہوا اور دوسری ملاقات میں تمام تفاصیل سے تحریری طور پر آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔ دوسری اور تیسری ملاقات میں ڈاؤن سنڈروم کے بارے میں مزید معلومات لیں، مگر کوئی وعدہ نہیں کیا۔جہلم کے ایک عام شہری کے لئے صوبے کی سب سے طاقتور شخصیت سے ملاقاتیں کوئی معمولی بات نہیں تھی ۔ وہ شخص جس کی بات اس کے اپنے شہر کے لوگ سننے کے لئے تیار نہیں تھے، مگر صوبے کا وزیراعلیٰ اس کے مقصد کے لئے سوچ رہا تھا۔ جلال ڈار کو چوتھی ملاقات کا موقع ملا تو وزیراعلیٰ شہباز شریف نے دیکھتے ہی کہا کہ مَیں سمجھ گیا ہوں کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ہم آپ سے دوبارہ رابطہ کریں گے۔ ڈاؤن سنڈروم بچوں کے لئے در بدر ٹھوکریں کھانے والے جلال ڈار کے لئے وزیراعلیٰ شہباز شریف کا یہ وعدہ کسی خواب کم نہیں تھا۔

کسی بھی صوبے کے وزیراعلیٰ یا گورنر نے جلال ڈار کی بات ایک سے دوسری بار نہیں سنی، مگر پنجاب کاتو معاملہ ہی کچھ اور تھا۔ وزیراعلیٰ کے حکم پر سینئر افسران نے جہلم میں جلال ڈار کے ادارے کے کئی دورے کئے ۔ تمام تفاصیل اکٹھی کیں اور وزیراعلیٰ کو رپورٹ دی۔ اس کے بعد جلال ڈار کو وزیراعلیٰ شہباز شریف کی طرف سے اس کے ادارے کے لئے ایک کروڑ روپے کا چیک ملا۔ جلال ڈار کے لئے یہ انہونی سے کم نہیں تھا۔ جلال ڈار وہ شخص تھا کہ جس نے ڈاؤن سنڈروم بچوں کے لئے ادارے کے قیام کے لئے چندہ اکٹھا کرنے کے لئے جہلم کے مشہور شاندار چوک میں دس روپے چندے کی خاطر لوگوں کے بوٹ تک پالش کئے تھے، اس کے باوجود اس کے پاس اتنے پیسے اکٹھے نہیں ہوئے تھے کہ وہ اپنے خواب کی تعبیر حاصل کر سکتا، مگرشہباز شریف نے آسمان سے تارے توڑ کر اس دیوانے کی گود میں ڈال دئیے ۔ جلال ڈار کو اپنی سالہا سال کی کوششوں کا صلہ مل گیا۔ اس نے دیوانگی اور جنون سے شہباز شریف کے ویژن کے مطابق واقعی آسمان چھو لیا اور ڈاؤن سنڈروم بچوں کے لئے مخصوص ادارے کی پانچ منزلہ عمارت تمام طبی سہولتوں کے ساتھ مختصر مدت میں پایہ تکمیل کو پہنچ گئی ۔ اس عمارت میں 250 ڈاؤن سنڈروم بچوں کے لئے ہر قسم کی سہولتیں میسر ہیں۔ اس عمار ت کا افتتاح ڈاؤن سنڈروم بچوں کے عالمی دن 21 مارچ کو ڈاؤن سنڈروم بچے ہی کریں گے۔ پاکستان کی گلیوں میں ’’سائیں‘‘ کے نام سے بدنام ڈاؤن سنڈروم بچوں کو اس مُلک میں پہلا ادارہ میسر آ گیا ہے، جہاں چند سال گزار کر وہ نارمل لوگوں جیسی نہ سہی، مگر ان کے قریب قریب زندگی گزار سکیں گے۔ یہ ادارہ تو پہلا قطرہ ہے جو مُلک بھر میں بکھر ے ہوئے ڈاؤن سنڈروم بچوں کے لئے ناکافی ہے، کیونکہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں بھی کم از کم ہر چھ سو میں سے ایک بچہ ڈاؤن سنڈروم ہے، مگر پہلے قطرے کے ظہور کے لئے شہباز شریف کا کردار کبھی بھی نہیں بھولا جا سکے گا۔جلال ڈار کی وزیراعلیٰ سے امیدیں اب مزید بڑ ھ چکی ہیں اور وہ چا ہتا ہے کہ شہباز شریف ڈاؤن سنڈروم کو پانچویں معذوری قرار دینے میں اپنا کردار ادا کریں اور اس سلسلے میں بھی شہاز شریف نے جلال ڈار کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

مزید :

کالم -