ریونیو دفاتر میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی کیس،فریقین کے وکلاء سے جواب طلب

ریونیو دفاتر میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی کیس،فریقین کے وکلاء سے جواب طلب

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے ریونیو کے کرپٹ افسران کے خلاف درج مقدمات پر اینٹی کرپشن کی جانب سے کارروائی نہ کرنے اور ریونیو دفاتر میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی کے خلاف دائر درخواست پرکیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے فریقین کے وکلاء سے جواب طلب کر لیا۔ جسٹس شاہد بلال حسن نے کیس کی سماعت کی۔ مقامی صحافی محمد عباس حیدرکے وکیل محمد وسیم نے عدالت کو بتایاکہ ریونیو افسران،تحصیلدار اور کرپٹ پٹواریوں نے کرپشن بے نقاب کرنے پر ریونیو دفاتر میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ریونیو دفاتر میں کوریج کے لئے آنے والے صحافیوں کو داخل ہونے پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو کہ آئین پاکستان اور آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریونیو افسران،تحصیلداروں اور پٹواریوں کے خلاف اینٹی کرپشن میں ہزاروں مقدمات دائر ہیں مگر متعلقہ ادارے ان کے خلاف کارروائی نہیں کر رہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کہ صحافیوں کو دھمکانے والے ریونیو افسران تحصیلداروں اور پٹواریوں کے خلاف کاروائی کا حکم دیا جائے جبکہ ریونیو افسران کے خلاف اینٹی کرپشن میں موجود مقدمات کی تفصیلات عدالت میں طلب کر کے کاروائی کا حکم دیا جائے۔ سرکاری وکیل نے ایڈیشنل کلکٹر ریونیو کی جانب سے جواب داخل کراتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا ،درخواست مسترد کی جائے جس پر عدالت نے کیس کی سماعت 8اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کے وکلاء سے جواب طلب کر لیاہے۔

مزید :

صفحہ آخر -