سرکاری کمپنیوں میں اراکین اسمبلی کی تعیناتیاں ،پنجاب حکومت اور 12اراکین اسمبلی سے جواب طلب

سرکاری کمپنیوں میں اراکین اسمبلی کی تعیناتیاں ،پنجاب حکومت اور 12اراکین ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے سرکاری کمپنیوں میں اراکین پنجاب اسمبلی کی تعیناتیوں کے خلاف دائر درخواست پر حکومت پنجاب اور 12اراکین پنجاب اسمبلی کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔فاضل جج نے مدعا علیہان کی طرف سے جواب داخل نہ کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ریماکس دیئے کہ عدالتی حکم کے باوجود جواب داخل نہ کرنے کا وطیرہ نظام عدل کو متاثر کرنے کے مترادف ہے جبکہ اس سے عدالتی وقت بھی ضائع ہوتا ہے جو انصاف میں تاخیر کا باعث بنتا ہے ۔یہ درخواست پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود الرشید نے دائر کررکھی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت صوبائی حکومتیں عوام کی فلاح و بہبود ،جمہوریت اور اداروں کے استحکام کے لئے اپنے اپنے صوبوں میں بلدیاتی اختیارات بلدیاتی اداروں کو تفویض کرنے کی پابند ہیں،بلدیاتی انتخابات کے باوجود حکومت پنجاب آئین سے انحراف کرتے ہوئے ضلعی حکومتوں کے اختیارات استعمال کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ صوبہ پنجاب پرائیوئٹ لمیٹڈ کمپنی بن چکا ہے جبکہ حکومت غیر آئینی طور پر خود کاروبار کرنے میں مصروف ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ حکومت پنجاب نے مسلم لیگ (ن )کے اراکین اسمبلی کو عوامی کمپنیوں کا سربراہ بنا دیا ہے جوحکومت پنجاب کے سیاسی مفادات کو تحفظ دے رہے ہیں۔آئینی طور پر کسی رکن اسمبلی کو کسی سرکاری کمپنی میں کوئی عہدہ نہیں دیا جاسکتا ۔سرکاری وکیل نے جواب داخل کرنے کے لئے عدالت سے مہلت کی استدعا کی جس پر فاضل جج نے مذکورہ ریمارکس دیئے اورپنجاب حکومت کے علاوہ دیگر مدعاعلیہان حسین جہانیاں،کرن ڈار،ماجد ظہور سمیت 12اراکین پنجاب اسمبلی کو 25مارچ کے لئے دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

مزید :

صفحہ آخر -