غیر حاضر پولیس ملازمین کا حاضری ریکارڈ 100فیصد، مفت تنخواہ لینے والے اہلکاروں کیخلاف کارروائی کا حکم

غیر حاضر پولیس ملازمین کا حاضری ریکارڈ 100فیصد، مفت تنخواہ لینے والے اہلکاروں ...

  

لاہور(رپورٹ،محمد یو نس با ٹھ) پنجاب پولیس کے ماتحت اکثر دفاتر ،اداروں ،شعبہ جات اور پولیس لائنز میں "فرلوحاضری سسٹم" رواج پاتا جا رہا ہے ۔ہزاروں ملازمین ایسے ہیں جو غیر حاضر ہونے کے باوجود عملے کی مٹھی گرم کرنے کی بناء پر حاضر تصور کیے جاتے ہیں ۔اس بات کا آئی جی پولیس پنجاب نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سمیت پنجاب کے تمام آر پی اوز ،سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو ایسے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے ۔باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پنجاب کے تمام اضلاع میں محکمہ پولیس میں آج کے جدید دور میں بائیو میٹرک سسٹم کا نفاذ عمل میں لانے کے باوجود اس پر پوری طرح سے عمل نہیں کیا جا سکا ۔آج بھی سینکڑوں پولیس ملازمین ایسے ہیں جو اعلیٰ افسران کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنی تنخواہیں بغیر ڈیوٹی کے وصول کر رہے ہیں ۔اعلیٰ پولیس افسران نے اس دونمبری کو روکنے کی پوری کوشش کی ہے مگر ماتحت عملہ اپنے ساتھیوں کو بچانے میں کامیابی سے اداکاری کر رہا ہے ۔ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ یہ اداکاری افسروں کے ملوث ہوئے بغیر نہیں کی جا سکتی تاہم ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ سلسلہ مدتوں سے چلا آ رہا ہے ۔لاہور پولیس لائن ،قربان لائن اور دیگر اضلاع میں موجود پولیس لائنز میں یہ کام تواتر سے روزانہ کی بنیادوں پر جاری ہے ۔جس کی وجہ سے قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا ٹیکہ روزانہ لگایا جا رہا ہے ۔اعلیٰ افسران تو اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں کہ اب پروکسی لگانے کا عمل پولیس کے کسی بھی دفتر ،شعبہ یا پولیس لائن میں جاری ہے ۔تاہم اس مکروہ دھندے میں ملوث اہلکاروں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ کام پہلے کی طرح آج بھی چل رہا ہے بلکہ اس میں اب بائیومیٹرک مشینوں کے آپریٹرز ،اور مین کمپیوٹر سرور کو چلانے والا سٹاف بھی شامل ہو گیا ہے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے تنخواہ سے صرف دس فیصد دینا پڑتا تھا اور اب یہ کام 50فیصد کی بنیادوں پر ہو رہا ہے ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آئی جی پولیس پنجاب کو جب اس بارے میں شکایت موصول ہوئی تو انہوں نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے تمام ماتحت افسران کو نہ صرف اس کی انکوائری کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ اس فرلو حاضری سسٹم کے مکمل خاتمے اور سد باب کا بھی حکم دیا ہے ۔ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ کام صرف محکمہ پولیس میں ہی نہیں ہے بلکہ دیگر تمام حکومتی اداروں میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔

غیر حاضری

مزید :

صفحہ آخر -