’’بہارِ عرب‘‘کے 5سال

’’بہارِ عرب‘‘کے 5سال
 ’’بہارِ عرب‘‘کے 5سال

  

اس سال 15مارچ کو شام کی خانہ جنگی کو شروع ہوئے پا نچ سال ہو چکے ہیں۔شامی صدر بشار الاسد مخالف تحریک کے پا نچ سال پو رے ہونے پر دنیا بھر کے میڈیا میں رپورٹس اور تجزیے پیش کئے جا رہے ہیں۔ بشارالاسد کو اقتدار سے محروم کرنے کے لئے 5سال قبل جو تحریک شروع کی گئی تھی۔ اب پا نچ سال پو رے ہو نے پر اس تحریک نے کیا کھو یا کیا پا یا؟شام میں اسد مخالف تحریک نے اس خطے میں مخصوص حالات کے با عث جنم لیا تھا۔ 5سال قبل جب تیو نس میں زین العابدین بن علی کی حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا تو دیکھتے ہی د یکھتے مصر میں بھی حسنی مبا رک حکومت کے خلاف اسی نو عیت کی تحریک کا آغاز ہوا۔ اس وقت عالمی میڈیا میں اسے ’’عرب اسپرنگ‘‘کا نا م دیا گیا ۔آج ہم پا نچ سال گزرنے کے بعد عرب اسپرنگ کے نتا ئج دیکھتے ہیں تو معلوم ہو تا ہے کہ مصر سے لے کر یمن تک اور لیبیا سے لے کر بحرین تک عرب اسپرنگ کی تحریک جو جمہو ریت اور آزادی جیسے بڑے آدرش لے کر چلی تھی، وہ اس برے طریقے سے نا کا م ہو ئی جس کا 5سال قبل تصور کر نا بھی محال تھا۔لیبیا اور یمن آج بدترین خانہ جنگی کا شکا ر ہیں۔مصر میں حسنی مبا رک سے بھی بڑا آمر حکومت کر رہا ہے۔ مصر ی شہریوں کو اتنے جبر کا سامنا حسنی مبا رک کے دور میں نہیں تھا جتنا آج السیسی کے دور میں ہے۔ تیونس کے علا وہ دیگر تما م ایسے مما لک میں جہا ں پا نچ سال قبل آمریتوں کے خلا ف اعتدال پسندوں کی جانب سے تحریک کا آغاز کیا گیا تھا ،آج ان کی بڑی تعداد ہلاک کر دی گئی ہے، یا جیلوں میں ہے یا ان کو جلا وطن کر دیا گیا ہے۔

شامی نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس کے مطابق 2011ء سے لے کر اب تک، یعنی 5سال میں 117,000 افرادکو گر فتار کیا گیا، جن میں سے 65,000 اب تک جیلوں میں ہیں، سینکڑوں افراد حراست کے دوران تشدد کے با عث ہلاک ہوچکے ہیں ۔ عرب اسپرنگ کی ناکامی کی سب سے بڑی قیمت شا م کو ہی ادا کرنا پڑی۔پانچ سال قبل جب ان ممالک میں آمریتوں کے خلاف’’ عرب اسپرنگ ‘‘کے نا م سے تحریکوں کا آغاز ہوا تھا تو خاص طور پر شام میں اس تحریک کی قیا دت اعتدال پسند طبقا ت کے ہا تھوں میں تھی۔آزادی اور جمہو ری روایات ہی ان تحریکوں کے بنیا دی نعرے تھے، مگر پھر ایسا کیا ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے اسد مخالف تحریک نے تشدد کی راہ اختیا ر کر لی اور اچا نک النصرہ اور داعش جیسی انتہا پسند تنظیمیں منظر عام پر آگئیں؟ اسد مخالف تحریک کو تشدد کی راہ پر ڈالنے میں خارجی حالات کے ساتھ ساتھ داخلی حالات نے بھی اہم کردار ادا کیا ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عرب اسپرنگ سے پہلے بھی مصر میں حسنی مبا رک، لیبیا میں قذافی ، تیونس میں بن علی اور شام میں بشا ر الااسد اپنے عوام پر مکمل سیا سی کنٹرول اور اپنی انتہا ئی سخت گیر پا لیسیوں کے لئے ’’اسلامی انتہا پسندی کے خطرے‘‘ کے جواز کو استعما ل کرتے تھے۔ان آمروں کا موقف تھا کہ اگر وہ سخت گیر پالیسیا ں اختیا ر نہیں کریں گے تو پھر ایسے میں اسلامی انتہاپسند اقتدار میں آجا ئیں گے۔

شام میں اسد مخالف تحریک کے پا نچ سال پو رے ہو نے پر معروف صحافی اورمشرق وسطیٰ کے امور کی ماہرتجز یہ نگار لز سلے 12 مارچ کو دی واشنگٹن پوسٹ میں ایک تحقیقاتی آرٹیکل۔۔۔ How the Syrian revolt went so horribly, tragically wrong۔۔۔میں بیان کرتی ہیں کہ 2011ء میں جیسے ہی شام میں بشار الااسد کے خلاف پُرامن تحریک کاآغاز ہوا تو بشار الاسد نے کئی اسلامی انتہا پسند جہا دی عزائم رکھنے والے قیدیوں کو فو ری طور پر رہا کر دیا ۔اس سے پہلے شام میں امریکی سفا رت کار رابرٹ فورڈ بھی ثبوت کے ساتھ یہ موقف اختیا ر کر چکے ہیں۔اسد حکومت کا خیا ل تھا کہ ایسے جہا دی گروپ اسد مخالف تحریک میں ، جو اس وقت مکمل طور پر پُر امن طریقے سے چل رہی تھی ، میں شامل ہو کر ایسی پُر تشدد کا رروائیاں کریں گے، جن سے حکومت کو بھی اسد مخالف طبقات کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا موقع مل جائے گا ،تاہم اسد حکومت اس خطر ناک پا لیسی کو اختیا ر کرتے ہو ئے یہ بات بھو ل گئی کہ ایسا کرنے سے ’’داعش‘‘ اور ’’النصر ہ ‘‘جیسی تنظیمیں بھی وجود میں آسکتی ہیں، جن پر قابو پا نا ایک عالمی مسئلہ بھی بن سکتا ہے۔

عرب اسپرنگ کے آغاز میں’’ سی این این‘‘ اور ’’بی بی سی‘‘ جیسے مخصوص موقف رکھنے والے مغربی نیوز چینلوں کی رپو رٹس کو اگر ہم ماننے سے انکار بھی کردیں تو پھر ’’الجزیرہ ‘‘ جیسے غیر جا نبدار نیوز چینل کی رپو رٹس کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے جن میں واضح طور پر بتا یا جا تا تھا کہ شام میں اسد مخالف تحریک میں تشدد کا رنگ اس وقت ابھرا ، جب پُرامن احتجا ج کرنے والوں پر گولیاں چلا ئی گئیں اور مظاہرین پر ٹینکوں سے حملے کئے گئے ۔ اس سے مظاہروں میں بھی اسلحے رکھنے کے عمل کا آغازہوا، تا کہ مظاہرین کو فوج اور پولیس کے حملوں سے بچایا جا سکے۔ پھر 2011ء کے آخر میں اس صورت حال کا فائدہ اٹھا تے ہو ئے ایک طرف امریکہ ، مغربی یورپی ممالک ، خلیجی ممالک اور ترکی نے اپنے اپنے مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لئے اسد مخالف انتہا پسند جہا دی گروپوں کو بھر پور ما لی اور عسکری امداد فراہم کرنا شروع کردی، جبکہ دوسری طرف روس، ایران اور حزب اللہ نے اسد اور اس کے حامی گروپوں کی حما یت کرنا شروع کر دی ، اس سب کا نتیجہ اب شام کی تبا ہی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ شام کی خانہ جنگی کے تنا ظر میں ایک انتہا ئی اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ روسی صدر پوٹن نے 14مارچ کو یہ اعلان کر دیا کہ روسی افواج کا بڑا حصہ اب شامی جنگ سے الگ ہو رہا ہے۔پوٹن کے مطابق روسی افواج نے 6ما ہ کے عرصے کے دوران اپنے مقاصد حاصل کر لئے ہیں۔ 6ماہ کے دوران روسی فوجیوں کی معا ونت سے اب شامی فوج اس قابل ہو چکی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں کا میا بی حاصل کر سکے۔

روس کے مطابق اس نے جینوا معاہد ے کے تحت اپنی افواج کو شامی جنگ سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔شام میں اس وقت روس کے دو بڑے عسکری اڈے شما ل مغربی صوبے ’’لطاکیہ ‘‘ اور دوسرا ’’طرطوس‘‘ کے علاقے میں موجود ہیں۔ پوٹن کے اس اعلان کے با وجود ابھی بھی 1,000روسی فو جی شام میں مو جود رہیں گے۔ روس کا S-400جیسا انتہا ئی مضبوط ہوائی دفا ع کا نظام بھی شام میں مو جود رہے گا ۔روس اور امریکہ دونوں ممالک یہ موقف اختیا ر کر تے ہیں کہ ان کی جا نب سے شام میں مداخلت کا بنیا دی مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے،تاہم اگر حقیقت میں دیکھا جا ئے تو ان دونوں طا قتوں کے مقاصد سرا سرجدا گا نہ ہیں۔جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو وہ بشار الااسد کی بجا ئے شام میں مغرب نواز حکومت کا قیام چا ہتا ہے۔ دوسری طرف روس مشرق وسطیٰ میں جہاں ایک طرف اپنے پرانے عرب حلیف کو بچانا چا ہتا ہے تو وہاں پر اسے یہ خطرہ بھی ہے کہ اگر شام میں مغرب نواز حکومت قائم ہو گئی تو وہ قطر کے اس مطالبے کو تسلیم کر لے گی کہ شام اسے مغربی یورپ تک گیس پا ئپ لا ئن بنا نے کی اجا زت دے۔ شامی صدر بشار الاسد قطر کے اس مطالبے کو نا منظور کر چکے ہیں۔اگر ایسا ہوا تو روس کی سب سے بڑی گیس کا رپوریشن Gazpromکو اربوں ڈالرز کا نقصان ہو جا ئے گا ۔اس کے علا وہ روس کو اس با ت پر بھی تشویش ہے کہ شام میں النصرہ جیسے گروپوں میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے جہا دی ہیں ،جن کا تعلق چیچنیا سے ہے۔روس کو خطرہ ہے کہ شام میں امریکہ نواز حکومت قائم ہو نے سے امریکہ کو یہ موقع مل جا ئے گا کہ چیچنیا میں روس مخالف جہادی گروپوں کو حما یت فراہم کی جا سکے۔

شام کی خانہ جنگی اور اس پر بڑی طا قتوں کے عزائم کی سب سے بڑی قیمت شام کے عام افراد کو چکانا پڑ رہی ہے۔شام کی خانہ جنگی سے ہو نے والی تبا ہی پر شامی سنٹر فار پا لیسی ریسرچ کی جانب سے پیش کئے گئے اعداد و شمار شام کی مخدوش صورت حال کو بیان کرنے کے لئے کا فی ہیں ۔ ان اعداد و شما ر کے مطابق شام کی کل آبادی کا 11.05فیصد اس خانہ جنگی سے یا تو ہلاک ہو چکا ہے یا پھر زخمی اور معذور ہو چکا ہے۔ہسپتالوں اور صحت کی سہولتوں کے دیگر مراکز کی تبا ہی کے با عث 2015ئمیں ایک شامی شہری کی اوسط عمر55 سال ہو چکی ہے، جبکہ2010ء میں ایک شامی شہری کی اوسط عمر 70سال تھی۔شام میں 2011ء میں بے روزگا ری کی شرح 14.9فیصد تھی ،اب یہ شرح 52.9فیصد ہو چکی ہے،جبکہ غربت کی شرح85فیصد سے بھی بڑھ چکی ہے۔ سامراجی ممالک کے عزائم کے باعث دنیا 20ویں اور اب 21ویں صدی میں بہت تباہی دیکھ چکی ہے۔یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ سامراجی پا لیسیوں سے براہ راست ایسے افراد متا ثر ہو تے ہیں، جن کا نہ اپنے ملک اور نہ ہی سامراجی ممالک کی پالیسیوں سے کچھ لینا دیناہو تا ہے۔ موجودہ دور میں شام ،عراق، لیبیا اور افغانستان اس کی اہم مثالیں ہیں۔

مزید :

کالم -