قومی اسمبلی۔۔۔ تنخواہیں۔۔۔ سب یک جان

قومی اسمبلی۔۔۔ تنخواہیں۔۔۔ سب یک جان

  

قومی اسمبلی میں بلا لحاظ حزب اختلاف اور حزب اقتدار سب اراکین غربت کا رونا رونے لگے اور اپنی کم تنخواہ کو بڑھانے کا مطالبہ کیا حتیٰ کہ خود سپیکر ایاز صادق کہہ اُٹھے اس تنخواہ پر تو بینک کریڈٹ کارڈ بھی نہیں دیتے، لینڈ کروز اور مرسیڈیز پر آنے والوں سمیت نئی ٹیوٹا والے بھی کہہ رہے تھے کہ سب کچھ مل ملا کر مہینے کے60،70ہزار روپے بنتے ہیں، اس میں تو بچوں کے سکول کی فیس بھی نہیں دی جا سکتی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ اراکین نے جس مسئلے پر اتفاق کیا وہ معاوضوں یا تنخواہوں میں اضافے کا ہے حال ہی میں پنجاب اسمبلی کے اراکین نے بھی متفق ہو کر مطالبہ کیا اور ان کی تنخواہیں بڑھ چکی ہیں، ایسے میں جو عذر قومی اسمبلی والوں نے پیش کیا وہ جائز محسوس ہوتا ہے کہ تین ساڑھے تین لاکھ سے زائد رائے دہندگان کے نمائندہ حضرات کی یہ حالت کہ وہ بچوں کی فیس تک ادا نہ کر سکیں، بالکل غلط ہے۔ ان کو تو اتنا معاوضہ ملنا چاہئے کہ وہ فکر روزگار سے آزاد ہو جائیں اور ان کو کسی اور طرف دیکھنے یا سونگھنے کی ضرورت محسوس نہ ہو، اب یہ اراکین اور حکومت خصوصاً وزارت خزانہ کا مسئلہ ہے کہ وہ تنخواہیں بڑھاتی ہے کہ نہیں۔ بہرحال یہ کسی رپورٹر کا کام ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہ، الاؤنسز اور ان کو حاصل دوسری مراعات کی تفصیل عوام تک پہنچائے تاکہ ان کی ’’غربت‘‘ کا اندازہ ہو سکے۔ ممکن ہو تو مختلف کمیٹیوں کے رکن، سربراہ اور پارلیمانی سیکرٹریوں کا تناسب بھی بتا دیا جائے اور ان کی تمام مراعات سے بھی آگاہ کیا جائے، اس کے بعد شاید کسی کو اعتراض کی گنجائش نہ رہے، ویسے بنک والوں کے خلاف تو تحریک استحقاق آنا چاہئے کہ وہ اکاؤنٹ ہولڈروں کے لئے مارے مارے پھرتے اور مراعات کا اعلان کرتے ہیں، لیکن ان کو کریڈٹ کارڈ کی بھی سہولت عنایت نہیں کرتے۔ اس مسئلے پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو انسانی ہمدردی کے حوالے سے غور کرنا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -