ایمبولینس کی آڑ میں کمرشل گاڑیوں کی امپورٹ اور رجسٹریشن کروانے کا انکشاف

ایمبولینس کی آڑ میں کمرشل گاڑیوں کی امپورٹ اور رجسٹریشن کروانے کا انکشاف

  

لاہور(شہباز اکمل جندران)ملک بھر میں ایمبو لینسوں کی آڑ میں کمرشل گاڑیوں کی امپورٹ اور رجسٹریشن کروانے کے انکشاف پر ایف آئی اے نے انکوائری شروع کردی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اورچاروں صوبائی ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈی جیز کو ایمبولینسوں کی آڑ میں امپورٹ اوررجسٹرڈ ہونے والی کمرشل گاڑیوں کی فہرستیں مہیا کردی گئیں۔رجسٹرڈ ہونے والی ایسی تمام گاڑیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ایف آئی اے نے خط لکھ دیا۔معلوم ہواہے کہ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) کے اینٹی کرپشن یونٹ کراچی کی طرف سے شروع کی جانے والی انکوائری نمبر 56/15کی روشنی میں ملک بھر میں ایسی کمرشل گاڑیوں کے خلاف چھان بین شروع کردی گئی ہے۔جو بطور ایمبولینس در آمد کی گئیں۔اور ایمبولینس کے طورپر ہی رجسٹرڈ کروائی گئیں۔ لیکن انہیں بطور ایمبولینس استعمال کرنے کی بجائے ان کا کمرشل استعمال شروع کردیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے کی طرف سے FIA/CC/ENQ.56/2015/923-24کے نمبر کا حامل خط ایف بی آر اور ایکسائز اینڈٹیکسیشن کے چاروں ڈی جیز کو لکھا گیا ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ بعض خیراتی ادارے اور اسی حوالے سے قائم این جی اوز کو غیر ممالک سے ڈونرز کی طرف سے عطیہ کی جانے والی استعمال شدہ ایمبولینسیں درآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔اور اس ضمن میں انہیں کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی ہے۔لیکن بعض این جی او ز اور خیراتی ادارے امپورٹ کی جانے والی ایسی گاڑیوں کو بطور ایمبولینس استعمال کرنے کی بجائے انہیں اوپن مارکیٹ میں بیچ دیتی ہے۔ جس سے قومی خزانے کو ریونیو اور ڈیوٹی و فیس کی مد میں کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے ایف بی آر اور ایکسائز اینڈٹیکسیشن حکام کو 59گاڑیوں کی فہرست بھی ارسال کی ہے۔ جو بطور ایمبولینس امپورٹ و رجسٹرڈ ہوئیں۔ لیکن بعد ازاں انہیں اوپن مارکیٹ میں فروخت کردیا گیا۔اور وہ کمرشل استعمال ہونے لگیں۔ ان گاڑیوں میں ٹویوٹا ہائی ایس ،ٹیوٹا اسٹیما ،نسان ہائی ایس ہومی ایمبولینس ،ٹیوٹا لائٹ ایس نوا،ٹیوٹا ہائی روف ، ٹیوٹا نوا ،ٹیوٹا ووکسی اورٹیوٹا نوا ٹاؤن ایس شامل ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -