سندھ کی سیاست بھنور میں ،اہم تبدیلیوں کا امکان

سندھ کی سیاست بھنور میں ،اہم تبدیلیوں کا امکان

  

تجزیہ: نعیم الدین

سندھ کی سیاست اس وقت مشکل ترین دور سے گذر رہی ہے ۔ کراچی میں رینجرز کا آپریشن تو پہلے ہی جاری تھا ، جس سے دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ دونوں جماعتوں کو دشواری کا سامنا رہا ، اسی

دوران سابق ناظم کراچی مصطفی کمال جن کا ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق تھا، کی اچانک کراچی آمد اور ایک نئی پارٹی کا اعلان کرکے انہوں نے پورے ملک کو حیرت زدہ کردیا ۔’’کمال کی اس پارٹی میں ‘‘ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے بعض اہم رہنما جن میں انیس قائمخانی، ڈاکٹر صغیر، رضا ہارون اور دیگر شامل ہیں، نے شمولیت کا اعلان کیا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کو بھی جوابی پریس کانفرنس کرنا پڑرہی ہیں۔ ماضی میں متحدہ کی پوری سیاست اس نعرے کے گرد گھومتی رہی ہے ’’کہ منزل نہیں رہنما چاہیے‘‘۔ بلکہ پارٹی بھی اس نعرے کے ارد گرد رہی ۔ متحدہ کا عام کارکن مائنس الطاف فارمولے کو آسانی سے ماننے کو تیار نہیں ہے ۔ ایم کیو ایم نے اس وقت اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے اور کراچی میں صفائی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے بلکہ محلوں اور سڑکوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ ذہنوں کی صفائی کا بھی اعلان کیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب کمال کی پارٹی میں اس کے ارکان کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ مصطفی کمال کی کامیابی اس وقت ممکن ہوسکتی ہے جب جیلوں میں اسیر کارکنوں کو کسی بھی طرح سے رہائی ممکن ہوسکے ، اس کے مثبت اثرات پڑیں گے ۔ ایم کیو ایم اس وقت مشکل موڑ پر کھڑی ہے ۔ ان حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایم کیو ایم میں ماضی میں بھی توڑ پھوڑ ہوتی رہی ہے ، اور اس کے کوئی بڑے اثرات سامنے نہیں آئے۔ اور نہ ہی یہ توڑ پھوڑ ووٹ بینک کو متاثر کرسکی۔ کمال کی پارٹی اگر سندھ سے کوٹہ سسٹم کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرتی ہے تو اس کے ساتھ لوگ شامل ہوسکتے ہیں۔ کمال کی پارٹی کی پریس کانفرنس ہونا تھی لیکن خیال کیا جارہا ہے کہ جن لوگوں نے اس پریس کانفرنس میں شرکت کرکے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرنا تھا وہ نہیں پہنچ سکے۔اس وقت متحدہ قومی موومنٹ کو ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ہونے کا شرف حاصل ہے۔ سیاسی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے متحدہ میں الطاف حسین کے علاوہ کسی شخصیت کو کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس کو ووٹر شخصیت دیکھ کر نہیں بلکہ متحدہ کو ووٹ دیتے رہے ہیں۔ جس کو کھمبا ووٹ کہا جاتا ہے لیکن موجودہ حالات میں کچھ صحیح اندازہ نہیں ہے کہ ووٹرز کس کا ساتھ دیتا ہے۔

مزید :

تجزیہ -