سراج الحق صاحب سب چھوڑیں۔ کرپشن کے خلاف تحریک پر توجہ دیں

سراج الحق صاحب سب چھوڑیں۔ کرپشن کے خلاف تحریک پر توجہ دیں
 سراج الحق صاحب سب چھوڑیں۔ کرپشن کے خلاف تحریک پر توجہ دیں

  

سیاست کا ایک حسن یہ بھی ہے کہ کسی سنسنی خیز فلم کی طرح اس کے سین بھی بہت تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں۔ اگر عوام کو اس فلم کے ناظرین فرض کر لیا جائے تو ایک ایشو سے دوسرے ایشو کی تبدیلی اتنی تیز ہوتی ہے کہ ناظرین کو اس فلم کے نہ تو پچھلے سین کی سمجھ آتی ہے اور نہ ہی اگلے سین کی۔ اس طرح ہماری سیاست ایک عجیب ملغوبہ بن جاتی ہے۔ جس کا کوئی ردھم سمت اور منزل نظر نہیں آتی۔

مصطفیٰ کمال نے گزشتہ ہفتے سرکٹ میں خوب بزنس کیا۔ ان کی فلم ہٹ رہی۔ انہوں نے باکس آفس میں ریکارڈ توجہ حاصل کی۔ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ایک دفعہ انہوں نے منظر نامہ کو ایسا دھندلا کر دیا کہ کمال کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آرہا تھا۔ کمال کے بعد تحفظ نسواں بل نے بھی سرکٹ پر خوب بزنس کیا ہے۔ بلکہ دینی جماعتوں نے تو تحفظ نسواں بل کو اپنی گرتی مارکیٹ کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے خوب خوبصورتی سے استعمال کیا۔ درمیان میں ممتاز قادری کی پھانسی بھی اہمیت اختیار کر گئی۔ لیکن حکومت اس معاملہ کو جلد منظر سے ہٹانے میں کا میاب ہوئی۔ اب پرویز مشرف کا معاملہ بھی سرکٹ میں خوب بزنس کر رہا ہے۔

سیاسی منظر نامہ میں اس قدر تیزی سے تبدیلیوں نے عوام کو بھی کنفیوژ کر دیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کسی کی کوئی بات سمجھ ہی نہیں آتی۔ کیونکہ کوئی بھی کوئی ایک بات کر ہی نہیں رہا۔ سیاستدانوں کی مجبوری یہ ہے کہ اگر وہ ایشو آف دی ڈے پر بیان نہ دیں تو اسے اہمیت نہیں ملتی۔ لیکن دوسری طرف ایک دن کی بات دوسرے دن سے مطابقت نہیں رکھتی۔بہر حا ل بدلتے دن بدلتی سیاست ۔ اور ان سیاستدانوں کو اپنی بات بدلتے دن اور بدلتے ماحول کے مطابق رکھنی پڑتی ہے۔

جماعت اسلامی نے ملک بھر میں کرپشن کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعلان جماعت اسلامی نے بہت سوچ سمجھ کر اور ایک تفصیلی مشاورت کے بعد کیا۔ اس کے لئے مارچ کے ماہ کا اعلان بھی جنوری میں ہی کر دیا گیا۔ بہت تیاری شروع کی گئی۔اللہ کی مدد بھی جماعت اسلامی کو آئی کہ ملک میں احتساب اور کرشن کے خلاف ایک فضا بن گئی۔ نیب کی چند محدود کاروائیوں نے ملک میں احتساب کے حوالہ سے ایک شور مچا دیا۔ وزیر اعظم نے بھی نیب کے خلاف بیان دے دیا۔ ایسے میں کرپشن کے خلاف ایک ماحول بن گیا۔ مجھے اور میرے ہم خیال دوستوں کو امید تھی کہ جماعت اسلامی کی کرپشن کے خلاف مہم سے ملک کی بہتری ہو گی۔ جمہوریت بھی کمزور نہیں ہو گی ۔ وزیر اعظم کا استعفیٰ بھی نہیں ما نگا جائے گا۔ پارلیمنٹ کو بھی خطرہ نہیں ہو گا۔ لیکن کرپشن کے خلاف بات بھی ہو گی۔

لیکن افسوس کی بات یہی ہے کہ جماعت اسلامی کی کرپشن کے خلا ف اس مہم کو پہلے ممتاز قادری کی پھانسی کے معاملہ نے سبوتاژ کر دیا۔ اب آپ دیکھیں کل جناب سراج الحق حیدر آباد میں ناموس رسالت ریلی سے خطاب کر رہے تھے اور ان کا موضوع خطاب سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی تھا۔ کیونکہ انہیں علم تھا کہ ریلی چاہے ناموس رسالت پر ہے لیکن ایشو پرویز مشرف ہے۔ میڈیا نے بھی ان کا پرویز مشرف والا حصہ ہی دکھا یا۔اسی طرح تحفظ نسواں بل نے بھی جماعت اسلامی کو کافی سیاسی اہمیت دی ہے۔ ساری دینی جماعتوں کی قیادت چل کر منصورہ پہنچ گئی ہے۔ حکومت کو الٹی میٹم بھی دے دیا گیا۔ اور ایک عمومی رائے بھی یہی ہے کہ آگے چل کردینی جماعتیں اس پر اکٹھی چل سکتی ہیں۔ اس لئے جماعت اسلامی کو اس پر زیادہ توجہ دینی ہو گی۔

لیکن مجھے ڈر یہ ہے کہ اس ساری صورتحال میں جماعت اسلامی کا اپنی کرپشن کے خلاف تحریک پر فوکس کم ہو جائے گا۔ ایک اکیلی جان اور کئی معاملات۔ تیس دن اور بتیس میلے کے مصداق ۔جماعت اسلامی یک دم اتنے اہم معاملات میں پھنستی جا رہی ہے کہ اس کے لئے کرپشن کے خلاف اپنی تحریک کو مکمل یکسوئی اور فوکس دینا ممکن نہیں ہے۔ پہلے ہی دیگر ایشوز کی وجہ سے جماعت اسلامی کو اپنی کرپشن کے خلاف تحریک کے پروگرام کے شیڈول میں تبدیلی کرنی پڑی ہے جو نہایت افسوسناک ہے۔

سراج الحق صاحب سے درخواست ہی کی جا سکتی ہے کہ وہ دیگر تمام ایشوز پر اپنی سرگرمیاں معطل کر دیں اور صرف کرپشن کے خلاف اپنی تحریک پر توجہ دیں۔ ان کو اس بات پر یقین کرنا ہو گا کہ تحفظ نسواں ایکٹ کرپشن سے زیادہ اہم نہیں۔ یہ ایک نان ایشو ہے۔ جس میں دھنس کر دینی جماعتوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ ووٹ بنک میں بھی اضافہ نہیں ہو گا۔اسی طرح ممتاز قادری کو پھانسی لگ چکی ہے۔ ٹھیک یا غلط کی بحث سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ لیکن کرپشن کے خلاف تحریک سے ملک کی بہتری ہو گی۔ عوام کا جمہوریت پر اعتماد بڑھے گا۔ اگر جماعت اسلامی کی سیاسی تحریک کے نتیجے میں نیب اور کرپشن کے خلاف کام کرنے والے دیگر ادارے مکمل نہیں آدھے ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں تو ملک کی بہت بہتری ہو گی۔ اگر عدالتیں کرپٹ لوگوں کو سزائیں دینا شروع کر دیتی ہیں تو یہ بھی ملک کی خدمت ہو گی۔ چند بڑے مگر مچھ بھی قانون کی گرفت میں آجائیں تو بھی ملک کی بہتری ہے۔ اس وقت ملک میں کرپشن کا راج اس قدر مضبوط ہو چکا ہے کہ حکومت نے ٹیکس چوروں کے لئے جس ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا ہے۔ وہ بری طرح نا کام ہو گئی ہے۔ کسی ٹیکس چور نے اس سکیم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔

امید کی جا سکتی ہے کہ سراج الحق ملک کے وسیع تر مفاد میں کرپشن کے خلاف اپنی تحریک کو دوبارہ پہلے نمبر پر لے آئیں گے۔ یہ کام سراج الحق ہی صرف اس لئے کر سکتے ہیں کہ ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ۔ اور ان پر ابھی اس نظام کا رنگ نہیں چڑھا۔

مزید :

کالم -