خطر ناک اشتہاریوں اور بینک ڈکیتیوں کے ملزموں کی گرفتاری کیلئے سخت حکمت عملی کا فیصلہ

خطر ناک اشتہاریوں اور بینک ڈکیتیوں کے ملزموں کی گرفتاری کیلئے سخت حکمت عملی ...

  

لاہو ر(کرائم رپورٹر) صوبے بھر میں خطرناک اشتہاریوں کی گرفتاری کے عمل کو تیز کرنے ،اشتہاریوں کی فہرستوں کی سکروٹنی کرنے اور نئے سرے سے لسٹیں مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ بنک ڈکیتیوں میں ملوث ملزموں کی گرفتاری اور ان سے لوٹی گئی رقم کی برآمدگی کو یقینی بنانے کے لئے نئی طے شدہ حکمت عملی پر سختی سے عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔یہ فیصلہ گز شتہ روز سنٹرل پولیس آفس لاہور میں انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، مشتاق احمد سکھیراکی سربراہی میں منعقدہ آر پی او کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں تمام آر پی او زاور سی سی پی او لاہور نے ویڈیو لنک کے ذریعے جبکہ ایڈیشنل آئی جی آپریشنز، کیپٹن (ر) عارف نواز،ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز، بی اے ناصر، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن پنجاب، چوہدری شفیق گجر، ڈی آئی جی I.T، شاہد حنیف، ڈی آئی جی کرائمز، محمد اعظم، ڈی آئی جی ویجیلنس، آغا محمد یوسف، اے آئی جی فنانس، حسین حبیب امتیاز، اے آئی جی آپریشنز، احسن یونس اور اے آئی جی مانیٹرنگ ، وقاص الحسن کے علاوہ سی پی او کے دیگر پولیس افسران نے شرکت کی۔آر پی او کانفرنس میں آئی جی پنجاب نے تمام فیلڈ افسران کو سختی سے ہدایات جاری کیں کہ وہ اپنے اپنے ریجنز میں اشتہاریوں کی گرفتاری کے خلاف شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کی روزانہ کی بنیادوں پرنہ صرف مانیٹرنگ کریں بلکہ ان کی گرفتاری کے لئے سپیشل ٹیموں کی تشکیل کے ساتھ ساتھ Geo-Fencing، CDRاور سی آئی اے کے ساتھ مل کر حکمت عملی پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اوراشتہاریوں کو پناہ دینے والوں کے خلاف دفعہ 216ت پ کے تحت کارروائیاں کریں ۔اس کے ساتھ ساتھ اشتہاری مجرمان کے خلاف زیر دفعہ 88ضابطہ فوجداری ایکٹ کویقینی بنائیں لیکن اس عمل کے دوران عورتوں اور بچوں کو غیر ضروری طور پر تنگ کرنے سے اجتناب کیا جائے اور جو افسر یا اہلکار اس سلسلے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے ان کی حوصلہ افزائی اور بری کارکردگی کا مظاہر ہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے تا کہ عوام کے جان ومال کے ساتھ کھیلنے والوں کو عبرت کا نشان بنایا جا سکے۔ کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام فیلڈ افسران بنک ڈکیتیوں میں لوٹی گئی رقم کی برآمدگی کے لئے نئی حکمت عملی کے تحت دئیے گئے SOPپر سختی سے عملدرآمد کے پابند ہونگے اور اس قسم کی وارداتوں کے مکمل خاتمے کے لئے Pro-Active approachکے تحت کام کریں اور بنکوں کو پہلے سے جاری کیے گئے SOPsپر ہر صورت عملدرآمد کروایا جائے۔ اس کے علاوہ کانفرنس میں پولیس ہیومن ریسورس ریکارڈ مینجمنٹ کی رفتار کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے یہ طے کیا گیا کہ افسروں اور اہلکاروں کے ڈیٹا کا اندراج ہونے کے بعد اسے ایک مرتبہ Re-checkکیا جائے گا اور فائنل ہونے کے بعد ڈیٹا انٹری میں ردوبدل اور کسی بھی قسم کی Malpracticeکو روکنے کے لئے سپیشل کوڈ لگانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

مزید :

علاقائی -