حکومتی قرضوں کی مینجمنٹ

حکومتی قرضوں کی مینجمنٹ
حکومتی قرضوں کی مینجمنٹ

  

موجودہ حکومت نے جب جون 2013ء میں اقتدار سنبھالا تو اسے بھاری مالیاتی خسارے ، قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ ، ادائیگیوں کے منفی توازن، زرمبادلہ کے ذخائر کے کم حجم ٹیکس وصولی اور اس کے بیس میں کمی، بڑھتے اخراجات ،جاری گردشی قرضوں کے بھاری حجم ، توانائی کے شعبے کی دگرگوں حالت ، سرمائے کے انخلاء، کرنسی کی شرح تبادلہ میں مسلسل کمی اور سرمایہ کاروں کے تیزی سے گرتے اعتماد جیسے چیلنجوں کا سامنا تھا۔ بیرونی محاذ پر ہمارے بڑے ترقیاتی شراکت داروں نے رو بہ انحطاط اقتصادی بنیادوں اور مستقبل قریب میں ملک کی طرف سے بیرونی ذمہ داریوں کے حوالے سے بظاہر نااہلیت کے باعث اپنی امداد میں خاصی کمی کر دی تھی۔ بڑے چیلنجوں میں سے ایک بیرونی مالیاتی امداد نہ ملنا بھی تھا جس کی وجہ سے مقامی ایکسچینج مارکیٹس زبردست اتار چڑھاؤ کا شکار تھیں۔ حکومتی قرضوں کا بڑا حصہ اندرونی قرضوں کی صورت میں تھا اور ان کی وااپسی کی مدت بھی مختصر ہو رہی تھی۔ جس کے نتیجہ میں نئے قرضوں کے حوالہ سے بڑے خطرات سامنے آ رہے تھے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر جو جون 2013ء میں 6ارب ڈالر کی سطح پر تھے فروری 2014ء میں کم ہو کر 2.8 ارب ڈالرز رہ گئے ۔ یہ صورتحال بیرونی قرضوں کے حوالہ سے بے حد خطرناک تھی۔

2013ء کے اوائل میں ضروری اقدامات نہ کئے جانے کی صورت میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی پیشن گوئی کی گئی تھی ۔ یہ پیشنگوئی ان اقتصادی ماہرین نے کی تھی جو پاکستان میں اس وقت پائی جانے والی میکرواکنامک صورتحال کا جائزہ لے کر اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ پاکستان کے پاس فروری / جون 2014ء کے بعد بیرونی قرضوں کی واپسی کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے کافی بیرونی وسائل دستیاب نہیں ۔ زرمبادلہ کے تیزی سے کم ہونے والے ذخائر اور کرنسی کی تیزی سے گرتی قدر کو سہارا دینے کی اشد ضرورت تھی۔ 29 نومبر 2013ء کو امریکی ڈالر کی شرح مبادلہ 110.25 روپے تک پہنچ گئی تھی جس کے نتیجہ میں نہ صرف افراط زر بلکہ بیرونی قرضوں کے حجم میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ مقامی قرضوں کی مدت بڑھانے کے ساتھ ساتھ شرح سود کے استحکام ‘ شرح نمو کی بحالی کی بھی ضرورت تھی تاکہ قرضوں کے بوجھ کے اثرات کا مقابلہ کیا جاسکے۔

موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے ضروری اقدامات کئے۔ اس سلسلہ میں حکومت نے ایسامالیاتی نظم متعارف کرایا جس سے گرتی معیشت مستحکم اور اقتصادی نمو کی رفتار تیز ہوئی۔ ساتھ ہی حکومت نے ضروری اصلاحات کے ذریعے معیشت کی بحالی شروع کی جن میں غیر اہدافی زر اعانتوں میں کمی ‘ ٹیکس بیس میں توسیع ‘ سرکاری شعبہ کے کاروباری اداروں کی ڈھانچہ جاتی تشکیل نو ‘ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ‘ سماجی تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے مالیاتی خسارے میں کمی اورترقیاتی اخراجات کو نہ صرف تحفظ دینا بلکہ ان میں اضافہ جیسے اقدامات شامل ہیں۔ جون 2013ء سے جون 2015ء تک اہم اقتصادی اشاریوں میں ہونے والی بہتری کا مختصر تذکرہ مندرجہ ذیل ہے۔

1۔مالی سال 2012-13ء میں ایف بی آر کے محصولات 1946ارب روپے کی سطح پر تھے جو مالی سال 2014-15ء میں بڑھ کر 2588 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گئے۔ ایف بی آر مالی سال 2015-16ء کے دوران اپنے ہدف 3 ہزار ارب روپے سے زیادہ محصولات جمع کرنے کے ہدف کی جانب گامزن ہے۔

2۔مالی سال 2012-13ء میں 8.8 فیصد کے متوقع بجٹ خسارے کو 8.2 فیصد تک محدود کیا گیا اور یہ کامیابی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے صرف ایک ہفتے کے اندر حاصل کی۔ مالی سال 2014-15ء کے دوران بجٹ خسارے کو کم کرکے 5.3 فیصد کی سطح پر لایا گیا۔ ہم بجٹ خسارے کو جون 2016ء میں ختم ہونے والے مالی سال 2015-16 کے دوران مزید کم کرکے 4.3 فیصد کی سطح پر لانے کی جانب گامزن ہیں۔

3۔مالی سال 2013-14ء میں افراط زر کی شرح 8.62 فیصد تھی جسے مالی سال 2014-15ء میں کم کرکے 4.53 فیصد کی سطح پر لایا گیا۔ رواں مالی سال کے دوران جولائی 2015ء تا فروری 2016ء صارفین کے لئے قیمتوں کا حساس 2.48 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

4۔مالی سال 2012-13ء کے دوران نجی شعبہ کو دیئے جانے والے قرضے منفی 19.2 ارب روپے کی سطح پر تھے یہ قرضے مالی سال 2014-15ء کے دوران بڑھ کر 208.7 ارب کی سطح پر پہنچ گئے۔ رواں مالی سال کے دوران 12 فروری 2016ء کو نجی شعبے کو دیئے جانے والے قرضے 299.7 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں ۔

5۔مالی سال 2012-13ء میں زرعی شعبہ کو دیئے جانے والے قرضوں کا حجم 336.2 ارب روپے تھے جسے مالی سال 2014.15ء میں بڑھا کر 515.9 ارب روپے کردیا گیا۔ رواں مالی سال 2015-16ئکے لئے یہ ہدفت 600 ارب روپے ہے۔

6۔مالی سال 2012-13ء میں ترقیاتی اخراجات کا حجم 348 ارب روپے تھا ‘ مالی سال 2014-15ء میں یہ حجم بڑھ کر 502 ارب روپے ہوگیا۔ رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی اخراجات کے لئے 700 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

7۔مالی سال 2012-13ء میں ترسیلات کا حجم 13.9 ارب ڈالرز تھا۔ جو مالی سال 2014-15ء میں بڑھ کر 18.7 ارب ڈالر ہوگیا۔ رواں مالی سال کے دوران 29 فروری 2016ء تک 12.7 ارب ڈالر کی ترسیلات ہوئیں۔

مالیاتی استحکام نے قرضوں کی راہ ہموار کی اور(مجموعی پیداوار) جی ڈی پی کے درمیان شرح میں کمی کی۔ مالی سال 2012-13ء کے دوران یہ شرح 64 فیصد تھی جو مالی سال 2014-15ء کے آخر تک کم ہو کر 63.5فیصد رہ گئی ۔ آئندہ تین مالی سال کے دوران ہمارا ہدف قرضوں اور جی ڈی پی کے درمیان شرح کو مالیاتی ذمہ داری اور قرضوں کی حدود کے ایکٹ (ایف آر ڈی ایل اے) کے تحت اقدامات کے ذریعے اور قرضوں اور مالیات کی دانشمندانہ مینجمنٹ کے ذریعے 60 فیصد یا اس سے بھی کم کی سطح پر لانا ہے۔ اس سارے پس منظر میں قرضوں کی مینجمنٹ پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی اگرچہ گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں تسلسل کے ساتھ رہنے والے مالیاتی اور بجٹ خسارے کے باعث مجموعی قرضوں میں اضافہ ہوا۔ ہماری حکومت کا وژن ہے کہ آئندہ 15سال کے دوران قرضوں کی حد کو موجودہ 60 فیصد سے کم کرکے 50 فیصد تک لایا جائے اس مقصد کے لئے اقدامات کا آغاز مالی سال 2018-19ء میں وفاقی سطح پر مالیاتی خسارے میں 4 فیصد کمی کے لئے ایف آر ڈی ایل اے میں ضروری ترامیم کے لئے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرکے کیا جائے گا۔ان کامیابیوں کے باجود حکومت کے بدخواہ ملکی قرضوں کی صورتحال کے حوالے سے مسلسل شکوک و شبہات پیدا کررہے ہیں اس لئے ریکارڈ درست کرنے کی ضرورت ہے۔

30 جون 1999ء کو پاکستان کی مجموعی حکومتی قرضے 2946 ارب روپے تھے جن میں سے اندرونی قرضے 1389 ارب روپے اور بیرونی قرضے 1557 ارب روپے تھے۔ 31مارچ 2008ء کو مجموعی حکومتی قرضے 5800 ارب روپے تھے جن میں 3020 ارب روپے کے مقامی قرضے بھی شامل تھے جبکہ ان قرضوں میں بیرونی قرضوں کا حجم 2780 ارب روپے تھا،مالی سال 2012-13 ء کے اختتام تک حکومتی قرضہ مزید بڑھ کر14318ارب روپے تک پہنچ گیا،سابقہ حکومت نے 2008ء سے 2013ء کے دوران 8518ارب روپے کے قرضے کے معاہدے کئے۔

پاکستان کو مسلسل مالیاتی خسارے کا سامنا رہا،2012-13ء کیلئے ملک کے مالیاتی خسارہ کا جی ڈی پی کے 8.8 فیصد تک رہنے کا اندازہ لگایا گیا اور2012-13ء کے آخری مہینے میں ایک بڑی کوشش کے نتیجہ میں اسے 8.2 فیصد تک لایا گیا۔ مالیاتی خسارے کی اتنی بڑی شرح غیر پائیدار ہونے کے باعث اقتصادی ترقی متاثر ہوتی ہے اور مالیاتی خلاء کو پر کرنے کیلئے بھاری مقدار میں قرضے حاصل کرنے پڑتے ہیں۔

موجودہ حکومت کو اپنے پہلے مالی سال2013ء میں 14318.4ارب روپے کا قرضہ ورثے میں ملا جس میں48ارب 13کروڑ ڈالر (4ہزار796.5 ارب روپے ) کا غیرملکی قرضہ اور 9521.9ارب روپے کا ملکی قرضہ شامل تھا۔جولائی 2013ء سے دسمبر2015ء کے عرصے کے دوران مجموعی حکومتی قرضہ 18467.3ارب روپے تک پہنچ گیا جس میں 53.36ارب ڈالر(5ہزار589.2ارب روپے ) کا غیرملکی قرضہ اور 12 ہزار 878.1ارب روپے کی ملکی سرکاری قرضہ شامل ہے۔ اس طرح مجموعی حکومتی قرضہ میں 4 ہزار 148.9 ارب روپے کا اضافہ ہوا جس میں 5ارب 23کروڑ ڈالر کا غیرملکی قرضہ بھی شامل ہے۔

ہماری حکومت نے مالیاتی خسارے پر قابو پانے میں کامیاب رہی جس کی وجہ سے ہم نے کم سے کم قرضہ لیا اورجس کیلئے مالیاتی نظم وضبط کا نفاذ کیا گیا۔ہماری حکومت کے پہلے تین مالی سالوں میں مالیاتی خسارے کے کم ہدف کے حصول کیلئے کوششیں کی گئیں۔

سابقہ حکومت نے 2008ء میں آئی ایم ایف کے ساتھ11ارب ڈالر کے قرضے کا سٹینڈ بائی معاہدہ کیا، اپ فرنٹ کے طور پر3089 ملین ڈالر زکے قرضے کا بڑا حصہ جاری کیا گیا جس کے بعد4366 ملین ڈالرکے 4مزید قرضے جاری کئے گئے۔ اس طرح سابق حکومت کو7455ملین ڈالر کا قرضہ جاری ہوا۔ پچھلی حکومت کی طرف سے طے شدہ اقتصادی اصلاحات پرعملدرآمد میں ناکامی کی وجہ سے سٹینڈ بائی معاہدہ بعد ازاں معطل کردیا گیاجس کی وجہ وہ سابق حکومت پروگرام کے تحت ملک کیلئے 3545ملین ڈالر کا قرضہ نہ حاصل کرسکی۔

موجودہ حکومت نے ستمبر2013ء میں 6ارب 6کروڑ ڈالر کے آئی ایم ایف کے ساتھ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کا آغازکیا، اب تک اس پروگرام کے تحت موصول ہونے والی رقم 5271ملین ڈالر ہے جبکہ آئی ایم ایف کو اس عرصہ میں 4415ارب ڈالرز واپس بھی کئے گئے ہیں۔ اس طرح ہماری حکومت کے دور میں آئی ایم ایف سے 856ملین ڈالر کی خالص رقم لی گئی ہے جس میں 5.23ارب ڈالرزکا غیرملکی قرضہ میں اضافہ بھی شامل ہے ۔ حکومت نے 10سہ ماہی جائزے کامیابی کے ساتھ مکمل کئے ہیں اور ستمبر2016ء تک اصلاحات کا پروگرام مکمل کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ حکومت اپنے طور پر اقتصادی اصلاحات پرعمل کررہی ہے اور یہ عام انتخابات 2013ء کیلئے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے منشور کا بھی حصہ ہے ۔

آئی ایم ایف کے توسیعی پروگرام میں شمولیت کی دو وجوہات ہیں جو کہ کسی دوسری ایسی سہولت کی نسبت زیادہ مشکل ہے ، پہلے یہ کہ سٹینڈ بائی سہولت کے تحت سابق حکومت کی طرف سے لئے جانے والے قرضے کی ایک بڑی رقم کی ادائیگی کی ضرورت اوردوسرے سابق حکومت کے دور میں اصلاحات کے پروگرام پرعملدرآمد جاری رہنے کی وجہ سے دوسرے کثیر جہتی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ رکا ہوا کاروباردوبارہ بھرپوراندازمیں شروع کرنا ہے، موجودہ حکومت نے دسمبر2015ء تک 10ارب ڈالر سے زائد کا غیرملکی قرضہ واپس کیا جس میں اکثریتی قرضے کا تعلق سابقہ حکومتوں کے ادوار سے تھا اس بھاری ادائیگی کے باوجود ملک کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر20ارب ڈالر سے بڑھ چکے ہیں جن میں سے سٹیٹ بینک کے پاس دسمبر2015ء کے اختتام تک 15ارب80کروڑ ڈالر موجود تھے جو کہ چار ماہ کی درآمدی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہیں جبکہ فروری 2014ء میں سٹیٹ بینک کے پاس غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر دو ارب 80کروڑ ڈالر تھے۔اڑھائی سال کے دوران غیرملکی حکومتی قرضہ 5ارب23کروڑ ڈالرتک بڑھا ہے جبکہ اسی عرصہ میں سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائرمیں 9ارب 80کروڑ ڈالرکا اضافہ ہوا، پہلے دو مالی سالوں میں قرضے کے بڑے پائیدار اشاریے بہتر ہوئے ہیں جس کو عالمی سٹیک ہولڈرز نے بھی تسلیم کیا ہے۔

ری فنانسنگ رسک آف ڈومیسٹک ڈیبٹ پورٹ فولیو، جون2015ء کے اختتام تک میچورٹی پروفائل میں کمی ہوئی ہے اور ایک سال میں اس میں 47فیصد کی شرح سے کمی دیکھنے میں آئی ہے جو کہ جون2013ء کے اختتام تک 64فیصد تھی ۔ اس کے علاوہ انٹریسٹ ریٹ رسک میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے اور ایک سال میں ڈیٹ ری فنانسنگ کی شرح جون2015ء کے اختتام پر40فیصد تک کم ہوگئی جوکہ جون2013ء کے اختتام پر12 فیصد تھی ۔شرح منافع میں بھی کمی کی گئی کیونکہ ایک سال میں قرضہ کی دوبارہ فکسنگ میں 2015ء میں جون کے اختتام پر جون2013ء کے 52% کے مقابلے میں کم ہوکر40% ہو گئی۔ شیئر آف ایکسٹرنل لونز میچورنگ ود ان ون ایئر۔یہ بھی جون2015ء کے اختتام پر زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کے تقریباً28فیصد کے برابر ہے جو کہ جون2013ء کے اختتام پر تقریباً69 فیصد تھاجو کہ غیرملکی زرمبادلہ کے استحکام اورادائیگی کی صلاحیت کی بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ تاثر اندربرآں کہ زرمبادلہ کے ذخائرکا بڑا حصہ بھاری غیرملکی قرضے بالخصوص یورو بانڈ کی وجہ سے ہے بالکل غلط ہے ، حکومت کی طرف سے جاری کئے جانے والے یوروبانڈ کی شرح 7.25سے 8.25 فیصد ہے ، پاکستان اپریل2014ء میں 7 سال کے وقفے کے بعد بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہوا جس کا مقصد جون 2014ء میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی پیش گوئی سے بچنے کیلئے بہتر میکرو اقتصادی اشاریوں کی بنیاد پر اضافی فنڈز کا حصول تھا، اس سے کیپیٹل مارکیٹ میں کامیاب ٹرانزیکشن سے غیرملکی فنڈز اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کے حصول کے نئے راستے کھلتے ہیں۔

مذید برآں ، غیر ملکی قرضوں کا بڑا حصہ انتہائی کم شرحوں اور پرکشش شرائط پرحاصل کیاگیا ہے۔ یہ دسمبر2015ء تک موجودہ حکومت کی طرف سے حاصل کر دہ مجموعی بیرونی قرضوں کی اوسط لاگت سے عیاں ہے جو تقریباً3فیصدبنتا ہے ۔ موجودہ حکومت کی طرف سے متحرک کی گئی گرانٹس شامل کرنے کے بعد قرضہ کی اوسط لاگت مذید 3.3فیصد تک کم ہوجاتی ہے جو ایکسچینج ریٹ فرسودگی کی بناء پر کیپٹل خسار ہ کے فرق کے بعد بھی تقریباً10فیصد کی ملکی فنانسنگ لاگت سے نمایاں طور پر کم ہے ۔ اسطرح موجودہ حکومت کی طرف سے حاصل کردہ بیرونی قرضہ کی لاگت نہ صرف اقتصادی طور پر کم ہے بلکہ طویل مدتی فنڈنگ بھی غالب ہے یہ امر واقعہ ہے کہ اس حکومت نے قرضہ جمع ہونے کی رفتار کو سُست کیا ہے، جی ڈی پی کی شرح کے لحاظ سے قرضوں کے کم ہونے کا رجحان اس کا واضح ثبوت ہے ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بعض حلقے بیرونی سرکاری قرضہ کے غلط اعدادوشمار کا حوالہ دے رہے ہیں ۔ بیرونی سرکاری قرضہ اور مجموعی بیر ونی قرضہ اور ملک کی ذمہ داریوں کے درمیان فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ بیرونی سرکاری قرضہ دسمبر 2015ء کے اختتام پر 53.4ارب ڈالررہا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بیرونی قرضہ اور ملکی ذمہ داریاں 68.5ارب ڈالر تھیں مجموعی بیرونی قرضہ اور ذمہ داریوں میں دیگر شعبوں کا بھی قرضہ شامل ہے جو تعریف کے لحاظ سے سرکاری بیرونی قرضہ شمار نہیں ہوتے کیونکہ حکومت ان کی ادائیگی کی ذمہ دار نہیں ہوتی اس میں نجی شعبے اور بینکوں وغیرہ کا قرضہ بھی شامل ہوتا ہے ۔عام طور پر ایک غلط تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ’’سی پیک‘‘ کے نتیجے میں 2018ء تک سرکاری بیرونی قرضہ 90ارب ڈالر تک بڑھ جائیگا۔ یہ نہ تو حقائق پر مبنی ہے اور نہ ہی قرضہ حرکیات کا مناسب ادارک ہے ۔ اولاً، 90ارب ڈالر کا شمار کرتے ہوئے 66ارب ڈالر کے غلط بنیادی ہندسہ کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔ دوئم ،46ارب ڈالر کے مجموعی سی پیک پیکیج میں سے 35ارب ڈالر کا بڑا حصہ نجی شعبے سے متعلق ہے جس میں سے زیادہ تر آئی پی پی طرز پر بجلی کی پیداوار کیلئے ہے اور اس سے سرکاری بیرونی قرضے میں اضافہ نہیں ہوگا۔

جو اس قسم کے بے بنیاد دعوے کر رہے ہیں در حقیقت انہیں اس امر کا ادراک نہیں کہ قرضہ کو شمار کرتے ہوئے اُسی عرصہ کے دوران واپسی کیلئے واجب الادا قرضہ کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے ۔ جب نیا قرضہ حاصل کیا جاتا ہے تو گزشتہ جمع شدہ ذمہ داریاں بھی بیک وقت ادا کی جا رہی ہوتی ہیں۔ایک اور بے بنیاد اور گمراہ کن خبر ’’بلوم برگ‘‘ کی طرف سے حال ہی میں جاری کی گئی ہے، جو بصورت دیگر بہت معتبر خبر رساں ادارہ ہے ۔ وہ خبر یہ تھی کہ پاکستان کے تقریباً 50ارب ڈالر کے بیرونی قرضہ کی ادائیگی کی مدت 2016 ء کو پوری ہو رہی ہے ۔ یہ حقیقت سے عاری مضحکہ خیز قیاس آرائی ہے ۔ ہمارا مجموعی بیرونی قرضہ اس رقم کے قریب ہے اور آئندہ 40برسوں میں قابل واپسی ہے ۔ وزارت خزانہ نے دو تفصیلی جواب دیئے جن میں بلوم برگ کو مناسب طور پر مخاطب کیا گیا ۔

ایسے وقت میں جب ہم قرضہ کے انتظام میں نمایاں بہتری لیکر آئے ہیں یہ امر افسوس ناک ہے کہ بعض حلقے عام ذہنوں میں شک اور ابہام کے بیج بو رہے ہیں ۔ پاکستان نے دوبارہ بیرونی نیک نامی اور مالیاتی ساکھ حاصل کی ہے اسکو بلا شبہ بین الاقوامی ترقیاتی پارٹنرز اور اکانومسٹ ، وال سٹریٹ جرنل ، فاربز جیسے کئی ممتاز عالمی جرائد نے تسلیم کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کی معیشت میں بہتری کے واضح آثار ظاہر ہو رہے ہیں ۔جون 2014ء کے متوقع ڈیفالٹ سے کامیابی سے بچتے ہوئے اور اقتصادی استحکام حاصل کرتے ہوئے ہماری حکومت اب معیشت کو 2018ء تک 7فیصد کے ہدف کے ساتھ بلند شرح نمو پر گامزن کرنے کیلئے کوشاں ہے جس سے غربت میں نمایاں کمی واقع ہوگی اور ہمارے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت اب تک حاصل ہونے والے اقتصادی فوائد کو تقویت دینے اور انہیں عام آدمی کیلئے وسیع تر اقتصادی مواقع میں یقینی طور پر ڈھالنے کیلئے پر عزم ہے ۔

مزید :

کالم -