ڈپٹی کمشنر دیر اور ضلعی حکومت کے مابین اختلافات کے خاتمہ کی کوششوں کا آغاز

ڈپٹی کمشنر دیر اور ضلعی حکومت کے مابین اختلافات کے خاتمہ کی کوششوں کا آغاز

  

بلامبٹ(نمائندہ پاکستان) ڈپٹی کمشنر لوئر دیر عرفان اللہ وزیر اور ضلعی حکومت کے درمیان اختلافات کی خاتمہ کیلئے سنجیدہ حلقوں نے کوششوں کا اغاز کردیا تفصیلات کیمطابق کچھ عرصہ پہلے ایک این جی او کو این او سی جاری کرنے کی مسٗلے پر جماعت اسلامی کے ممبر ڈسٹرکٹ کونسلرحاجی محمد داود سید اور ڈپٹی کمشنر لوئر دیر کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے جس پر جماعت اسلامی کی مقامی قیادت نے شدید احتجاج کیا تھا اور ڈپٹی کمشنر کی تبادلہ کیلئے ڈسٹرکٹ اور تحصیل حکومتوں میں تحاریک بھی پیش کرکے منظور کئے تھے اور25 مارچ کو بطور احتجاج دھرنا دینے کا بھی اعلان کیا ہے جبکہ دوسری طرف جماعت اسلامی کی مقابلے میں پیپلز پارٹی ،اے این پی،تحریک انصاف،جے یو ائی،مسلم لیگ ن ودیگر نے ڈپٹی کمشنر کا بھرپور دفاع اور تعاون کرتے ہوئے ان کے حق میں مظاہروں اور پریس کانفرنس کا انعقاد کیا ہے اور جماعت اسلامی کی ضلعی حکومت کے خلاف اورڈپٹی کمشنر کے حق میں اسی روز ہی25 مارچ کو دھرنا دینا کا اعلان کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر اور جماعت اسلامی کے درمیان پیداشدہ صورتحال پرسیاسی سماجی و عوامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا ہوگیاہے اور اگر فوری مسٗلہ کی حل کیلئے کوششیں نہ کئے گئے تو دھرنا میں آمنے سامنے آنے سے خونریزی پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے ۔حالیہ صورتحال پر سیاسی سماجی قیادت ودیگرسنجیدہ حلقوں نے نوٹس لیکر جماعت اسلامی کی قیادت اورڈپٹی کمشنر کے درمیان صلح کیلئے کوششوں کا اغاز کردیاہے ایک ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں پی پی پی کے رہنماٗ سنیٹر احمد حسن خان اور صوبائی صد ر جے یو ائی سابق سنیٹر مولانا گل نصیب خان ،اے این پی کے مرکزی رہنماٗ ظاھر شاہ خان و دیگرکی قیادت میں جرگہ تشکیل کرنے کی درخواست کیگئی ہے تاکہ علاقے پر امن رہ کر ترقی کی منازل طے کریں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -