برصغیر کے اقوام میں اختلافات کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے :مولانا گل نصیب

برصغیر کے اقوام میں اختلافات کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے :مولانا گل نصیب

  

چارسدہ (بیورو رپورٹ)جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان نے کہا ہے کہ بر صغیر کے لوگ جغرافیائی طور پر ایک ہی قوم ہے جن کا نفع نقصان بھی ایک ہے ۔ مغربی قوتوں کا بر صغیر سے اثرو رسوح ختم کرنے اور وسائل واگزار کرنے کیلئے بر صغیر کی اقوام میں اختلافات کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے ۔ پارلیمنٹ میں چند ارکان کے علاوہ کوئی بھی رکن 1973کے آئین پر پورا نہیں اترتا ۔ ملک میں جاری دہشت گردی تب ختم ہو گی جب حکمران قانون اور آئین کے مطابق نظام مصطفی کیلئے تیار نہیں ہو تے ۔ وہ در الادب چارسدہ میں میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے ۔ اس موقع پر ضلعی امیر مولانا محمد ہاشم خان ،مولانا شوکت علی ،ڈاکٹر الطاف عمر زئی ،میاں مکرم شاہ ،مولانا ضیاء اللہ اور عطاء اللہ خان بھی موجودتھے ۔مولانا گل نصیب خان نے پنجاب اسمبلی کے حقوق نسواں بل کو غیر آئینی اور غیر شرعی قرار دیا اور کہا کہ اراکین پنجاب اسمبلی 1973کے آئین اور قرآن و سنت سے واقف نہیں ۔ بے شک انہوں نے جدید علوم حاصل کئے ہیں جس میں حرام و حلال اور زنا اور نکاح کی تمیز نہیں ہے ۔ اراکین پنجاب اسمبلی 1973کا آئین تفصیلی طور پر دیکھیں تو ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائیگا۔ ویسے بھی چند ایک کے علاوہ باقی ارکان پارلیمنٹ 1973کے آئین پر پورے نہیں اترتے اور پارلیمنٹ میں بیٹھنے کے اہل بھی نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سیکولر قوتیں پاکستان کو مادر پدر آزاد سوسائٹی بنانے اور آئین پاکستان میں قرآن و سنت کی تشریح کو تبدیل کرنے کے درپے ہے ۔ ملک میں مروجہ قوانین کو قرآن و سنت کا لبادہ پہنانے کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل موجود ہے۔ مگر حکمران اس آئینی ادارے کو بھی نظر انداز کر رہی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) ،اے این پی ،تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سیکولر جماعتیں ہیں جن پر 1973کے آئین کے قواعد و ضوابط کی پابندی لازمی ہے مگر ان کا ایجنڈا سیکولر ازم ہے ۔ حقوق نسواں بل کو واپس لینے یا اس میں ترمیم کرنے کے حوالے سے وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی ہے اگر ایسا نہ ہو ا تو جے یوآئی آخری حد تک جانے کیلئے تیار ہے ۔ خطے میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے مولانا گل نصیب خان نے کہاکہ موجودہ دہشت گردی حکمرانوں کے اعمال کا رد عمل ہے ۔ جب تک حکمران آئین اور قانون کے مطابق نظام مصطفی کیلئے تیار نہیں ہو تے دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی۔ نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں دینی مدارس ،علمائے کرام اور تبلیغی جماعتوں کے خلاف حکومت سر گرم عمل ہے۔مولانا گل نصیب خان نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نے حوشنماء نعروں اور وعدوں پر عوام سے ووٹ لیا مگر انصاف کی فراہمی اور میرٹ کی بالا دستی سمیت کوئی بھی وعدہ پورا نہ کر سکی ۔گزشتہ 60سالوں میں ملک میں منصفانہ اور شفاف انتخابات نہیں ہوئے بلکہ طاقتور ادارے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو کر مر ضی کے لوگوں کو اسمبلیوں میں بٹھا تے ہیں جو عوام کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔ مولانا گل نصیب خان نے کہاکہ در حقیقت بر صغیر کے لوگ جغرافیائی طور پر ایک قوم ہے جن کا نفع و نقصان بھی ایک ہے ۔ بد قسمتی سے مغربی ملکوں نے برصغیر کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ مغربی ملکوں سے جان چھڑانے اور وسائل واگزار کرانے کیلئے بر صغیر کے اقوام میں اتحاد و اتفاق وقت کی ضرورت ہے ۔ میاں نوا زشریف اپنی تجارت کیلئے بھارت سے تعلقات مستحکم کر لیں تب بھی قوم کیلئے گھاٹے کا سودا نہیں ہو گا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -