گاڑیوں کے سپیئرپارٹس پر 10 سے 27فیصد ڈیوٹی عائد، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نئی آٹو پالیسی کی منظوری دے دی

گاڑیوں کے سپیئرپارٹس پر 10 سے 27فیصد ڈیوٹی عائد، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نئی ...
گاڑیوں کے سپیئرپارٹس پر 10 سے 27فیصد ڈیوٹی عائد، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نئی آٹو پالیسی کی منظوری دے دی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پانچ سالہ آٹو موٹیو پالیسی، پی آئی اے کیلئے حکومتی گارنٹی ایک کھرب 46 ارب سے بڑھا کر ایک کھرب 51 ارب کرنے، گندم اور آٹے کی برآمدات کی تاریخ میں 30 جون 2016ءتک توسیع اور نان فائلرز کیلئے صرف 0.4 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کی تخفیف شدہ شرح میں 31 مارچ تک توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوا۔ تفصیلی غور کے بعد ای سی سی نے پانچ سالہ آٹو موٹیو ڈویلپمنٹ پالیسی 2016-21ءکی منظوری دی، کمیٹی نے ڈھائی سال سے التوا کا شکار نئی آٹو پالیسی میں نئے سرمایہ کاروں کو ٹیکس اور ڈیوٹیز میں چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق نئی پانچ سالہ پالیسی کے تحت سپیئر پارٹس کی درآمد پرڈیوٹیز میں دس فیصد تک کمی کا فیصلہ کیا گیا، استعمال شدہ چھوٹی گاڑیوں کی درآمد جاری رکھنے کی تجویز منظور کرلی گئی، آٹو پالیسی میں سرمایہ کاروں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پاکستان میں مینو فیکچرنگ پلانٹ لگانے والے سرمایہ کار کیٹگری اے میں شامل ہوں گے، جنہیں سپیشل اکنامک زون ایکٹ کے تحت متعدد ٹیکس مراعات حاصل ہوں گی۔ آٹو پلانٹ، مشینری اور آلات کی درآمد پر 100 فیصد کسٹمز ڈیوٹی چھوٹ ہوگی، 800 سی سی سے اوپر والی گاڑیوں کیلئے لوکل پارٹس کی درآمد پر چار سال تک 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی جبکہ نان لوکل پارٹس کی درآمد پر 25فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد ہوگی اور 800 سی سی سے کم گاڑیوں کے لئے 100 فیصد پارٹس کی درآمد پر 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی ہوگی۔ بسوں، ٹرکوں، ٹریکٹرز اور پرائمز موورز کے نان لوکل پارٹس کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی کی موجودہ شرح برقرار رہے گی۔ 100 فیصد ایم کے ڈیز کی درآمد پر چار سال تک 25 فیصد کسٹمز ڈیوٹی جبکہ موٹرسائیکل انڈسٹری کے لئے ٹیکسوں میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ آٹو پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کو پاکستان میں مینوفیکچرنگ یونٹس اور ڈسٹری بیوشن مراکز قائم کرنا ہوں گے۔ آٹو انڈسٹری میں نئے سرمایہ کارون کو مراعات دینے سے مسابقتی عمل کو فروغ ملے گا جو گاڑیوں کے معیار اور قیمتوں میں کمی کا باعث بنے گا۔ پالیسی ضابطہ طور پر پیر 21 مارچ سے نافذ ہوگی۔ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کی تجویز پر ای سی سی نے او جی ڈی سی ایل کے قادر پور گیس فیلڈ سے میسرز ٹی این بی ایل پی ایل کو 2025-26ءتک 45 ایم ایم سی ایف ڈی خام گیس فراہم کرنے کی منظوری دی تاکہ پلانٹ نیشنل گرڈ کو 211 میگا واٹ بجلی کی فراہمی جاری رکھ سکے۔ ایف بی آر کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کمیٹی نے فنشڈ آئرن اور سٹیل مصنوعات کی درآمد پر 30 جون 2016ءتک 15 فیصد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی کی بھی منظوری دی جبکہ ایلومینیم الائے پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی بھی منظوری دی گئی۔

مزید :

اسلام آباد -