آؤ درخت لگائیں، پرورش کیسے؟

آؤ درخت لگائیں، پرورش کیسے؟
 آؤ درخت لگائیں، پرورش کیسے؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کوئٹہ سے زیارت کا سفر سڑک کے راستے ہوتا ہے، لیکن یہ سڑک اتنی ’’اچھی‘‘ ہے کہ ممکنہ وقت سے ڈیڑھ گنا وقت صرف ہوتا ہے۔ پرانی بات ہے، جب چودھری پرویزالٰہی پنجاب اسمبلی کے سپیکر تھے تو اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کے ایک وفد کو خیرسگالی دورے پر بلوچستان جانے کا اتفاق ہوا۔ ہمیں بھی اِس وفد میں شامل کیا گیا تھا، یہ سفر معلومات اور میزبانی کے لحاظ سے بہت اچھا رہا اور اِس دوران ہمیں بلوچ عوام کے خیالات اور جذبات کو جاننے کا بھی موقع ملا، ہم جب کوئٹہ سے زیارت کی طرف روانہ ہوئے تو ہمیں بہت زیادہ حیرت اِس بات پر تھی کہ دائیں اور بائیں پہاڑی سلسلہ تھا، لیکن درخت نہیں تھے، یہ ایک دھچکا تھا کہ کافی عرصہ پہلے جب پی ایف یو جے کے اجلاس میں شرکت کے لئے آئے تھے تو یہ صورتِ حال نہیں تھی، تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر راستے میں ایک ٹی سٹال والے سے بات کی جہاں ہمارا قافلہ کچھ دیر آرام اور چائے کے لئے رکا تھا، چائے والا تو ناراض نکلا اور اِسی ناراضگی میں کہا،ہمارا گیس تو سندھ اور پنجاب والے استعمال کرتے ہو، ہم سردی میں کیا کریں۔ اِدھر ہی سے لکڑی جلا کر گزارہ کرتے ہیں‘‘ مزید کریدا تو معلوم ہوا کہ ان پہاڑوں پر سے درخت کٹ گئے،لیکن نہ تو کبھی کسی نے روکا اور نہ ہی شجرکاری ہوئی۔

یہاں سے جب زیارت پہنچے تو ایک اور صدمہ منتظر تھا، زیارت کا علاقہ انتہائی خوبصورت اور یہاں درجہ حرارت بھی کم ہوتا ہے تمام تر خوبصورتی صنوبر کے ان درختوں کی ہے جو وہاں موجود اور جنگل بھی انہی درختوں کا ہے،لیکن جب بتایا گیا کہ صنوبر کے ان درختوں کو کوئی ایسی بیماری لاحق ہے، جس کی وجہ سے یہ بھر بھرے ہو کر راکھ بن جاتے ہیں اس کا تجربہ بھی کرایا گیا اور ایک درخت کی ٹہنی پکڑ کر الگ کی گئی تو وہ پوری کی پوری راکھ کی طرح مٹی میں تبدیل ہو گئی، دریافت کیا کہ کوئی علاج یا تحقیق ہوئی تو جواب ملا’’بالکل نہیں‘‘ متعلقہ محکموں اور حکومت کے رویے پر دُکھ ہوا، تب بھی ہم نے آواز بلند کی کہ ان قیمتی درختوں کی دیکھ بھال کی جائے اور بیماری کا علاج کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی عرض کیا تھا کہ جو پہاڑ درخت کاٹ کر ننگے کئے گئے ہیں ان پر پھر سے شجرکاری کی جائے کہ نہ صرف علاقہ خوبصورت ہو،بلکہ درخت ہو جائیں تو لوگوں کے لئے لکڑی کا حصول بھی آسان ہو۔(معلوم نہیں کہ اب کیا صورتِ حال ہے۔ صنوبر کا علاج اور شجرکاری ہوئی یا نہیں‘‘)۔۔۔یہ یاد یوں تازہ ہو گئی کہ بہار کا موسم ہے اور اس میں شجرکاری ہوتی ہے۔ ہر مرتبہ اس کے لئے مہم چلائی جاتی اور افتتاح وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور ایسی ہی اعلیٰ شخصیت کے ہاتھوں ہوتا ہے، اس مرتبہ یہاں اعلان کیا گیا کہ ڈیڑھ ملین(یہی یاد ہے اگر فرق ہو تو معذرت!)

پودے لگائے جائیں گے۔اِسی طرح پی ایچ اے کی طرف سے بھی شجرکاری کا اعلان ہوا اور ضلعی انتظامیہ نے اپنی جگہ شجرکاری کا اعلان کیا تاہم حیرت یوں ہوئی کہ اِس بار کوئی ہلہ گلا نظر نہیں آیا اور نہ ہی معلوم ہوا کہ شجرکاری کب شروع اور کب ختم ہوئی یا پھر ابھی جاری ہے؟ اس سلسلے میں ہمارے دیکھنے میں یہ آیا کہ لاہور کینال کے اردگرد محکمہ جنگلات کی طرف سے بینرز لگے ہوئے تھے، جن پر شجر کی افادیت کا ذکر ہے اور یوں عوام کو درخت لگانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی،لیکن کہیں شجرکاری نظر نہیں آئی۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ وحدت روڈ اور نواحی بستیوں علامہ اقبال ٹاؤن اور مصطفےٰ ٹاؤن کی گرین بیلٹوں پر گڑھے کھود لئے گئے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہاں شجرکاری ہو گی،لیکن اب تک تو ایسا نہیں ہو سکا اور نہ ہی مختلف علاقوں کی پارکوں میں موجود جگہوں میں پودے لگائے گئے جن کی گنجائش موجود ہے۔ یہ ذمہ داری پی ایچ اے نے نبھانا تھی جو پوری نہیں کی گئی، اِسی طرح وہ ڈیڑھ ملین پودے کہاں لگائے گئے کسی کو کچھ علم نہیں۔

شجر کاری کا موسم سال میں دو بار آتا ہے اور دونوں بار ان محکموں کی طرف سے درخت لگانے کے اعلانات کئے جاتے ہیں،لیکن معلوم نہیں کیوں یہ شجر اور پودے درخت نہیں بن پاتے، ہم سوچ رہے ہیں کہ اگر محکمہ جنگلات اور دوسرے محکموں کی سالانہ شجر کاری مہم کا ریکارڈ نکلوایا جائے تو معلوم ہو گا کہ اب تک اربوں ہی نہیں کھربوں پودے لگائے گئے (کاغذات میں تعداد موجود) لیکن ان میں سے کتنے درخت بنے اس کا کوئی علم نہیں۔ اگر اعداد و شمار والے پودوں میں سے دسواں، بیسواں حصہ بھی پرورش پا گئے ہوتے تو آج مُلک درختوں کی دولت سے مالا مال ہوتا۔ یہاں تو بدقسمتی سے سوات کاغان، ایبٹ آباد اور گلیات کے علاقوں میں بھی درختوں کی کمی واقع ہو گئی کہ پہاڑوں سے لکڑی چوری ہوئی، جلانے کے لئے کاٹ لی گئی اور آبادی بڑھنے سے جنگل کم کئے گئے،لیکن ان کے متبادل شجرکاری نہیں ہوئی، جو حضرات 35،40 سال پہلے گلیات، ایبٹ آباد، کاغان اور سوات گئے وہ اگر آج جائیں یا جاتے ہیں تو ان کو پہاڑ گنجے نظر آتے ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گزشتہ برس ایک ارب پودے لگانے کا اعلان کیا۔ پھر کہاں اور کتنے لگے، کسی کے علم میں نہیں اب ایک تصویر نظر سے گزری کہ عمران خان شجر کاری مہم کے سلسلے میں ایک ارب پودوں والی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کی تجویز پر کہاں تک عمل ہوا اور اب تک کتنے پودے لگے اور ان میں سے کتنے پھل پھول بھی گئے، ہم تو لاہور کینال ہی کا علاقہ دیکھیں تو وہاں درخت نہیں بینرز لگے ہیں، اللہ ہماری قوم اور ہم پر رحمت فرمائے۔

مزید : کالم