عدالتی فیصلے سے تبدیلی نہیں آسکتی!

عدالتی فیصلے سے تبدیلی نہیں آسکتی!
 عدالتی فیصلے سے تبدیلی نہیں آسکتی!

  

 وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک بار اپنے خطاب کے دوران یہ جملہ کہا تھا:’’سیاست میں کامیابی دھرنے سے نہیں کچھ کرنے سے ملتی ہے‘‘۔ آج کل وہ اس پر پوری طرح عمل کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک میں ایک ہلچل سی مچی ہوئی ہے، کہیں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے حوالے سے بے چینی اور انتشار ہے تو کہیں ضرب ردالفساد میں دہشت گرد مارے یا پکڑے جارہے ہیں جبکہ فورسز پر حملے بھی ہو رہے ہیں۔ مردم شماری مہم کی وجہ سے بھی کہیں اعتراضات اُٹھ رہے ہیں اور کہیں زیر کو زبر کردینے کے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ سب سے بڑی بے قراری ، بے چینی پاناما کیس کے فیصلے کی وجہ سے ہے، جو غیب سے کسی بھی وقت ظاہر ہو سکتا ہے۔ فوجی عدالتوں کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ گیا ہے، مگر اب بھی یہ بحث جاری ہے کہ جس مسودے پر اتفاق ہوا ہے، وہ فوجی عدالتوں کے مقاصد پورے کرسکے گا یا نہیں؟ غرض ہنگاموں کی ایک دنیا آباد ہے، تاہم وزیر اعظم نواز شریف ان سب سے ہٹ کر ایک اور ہی دنیا آباد کئے ہوئے ہیں۔ وہ اندرون سندھ شہروں میں جاکر میگا پراجیکٹس کا اعلان کررہے ہیں اور کبھی بلوچستان میں گوادر کو نہ صرف بلوچستان ، بلکہ پاکستان کے لئے گیم چینجر قرار دیتے ہیں۔ ان کی باڈی لینگوئج یا تو ہے ہی نارمل یا پھر وہ بڑی مہارت سے اسے نارمل ظاہر کررہے ہیں۔ انہوں نے جب سے اپنی آواز کو محمد رفیع کے مماثل قرار دیا ہے، ان کے سیاسی مخالفین اس بات کو لے کر یہ قیاس آرائیاں کئے جارہے ہیں کہ پاناما کیس کے متوقع فیصلے سے پریشان وزیر اعظم ایسی باتیں کررہے ہیں، تاکہ یہ تاثر دے سکیں کہ انہیں پاناما کیس کے فیصلے سے کوئی پریشانی نہیں۔

ویسے تو یہ اچھی بات ہے کہ ملک کا چیف ایگزیکٹو اپنی باڈی لینگوئج کو نارمل رکھے، تاکہ ملک میں بے یقینی، بے چینی نہ پھیلے، مگر بات اتنی سادہ ہے نہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ صرف وزیر اعظم ہی اپنے کاموں سے ایک مثبت تاثر پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، وگرنہ ان کی حکومت کے وزراء اور ارکانِ اسمبلی اس کے برعکس یہ تاثر دے رہے ہیں کہ حکومت پریشانی میں گھری ہوئی ہے۔ حکومت کے لئے بلاوجہ ’’آ بیل مجھے مار‘‘ والی صورتِ حال پیدا کرنا موجودہ حالات میں کسی بھی طرح سود مند نہیں۔ جاوید لطیف کے مراد سعید کی فیملی کے بارے میں ریمارکس ہوں یا الیکشن کمیشن سے کیس جیتنے پر عمران خان اور جہانگیر ترین پر ذاتی حملے، یہ کسی بھی طرح حکومت کے لئے نیک شگون ثابت نہیں ہو سکتے، ان کی وجہ سے خوامخواہ مسلم لیگ (ن) کے بارے میں ایک منفی تاثر جنم لیتا ہے۔ حیرت ہے کہ یہ سب لوگ اپنے قائد نواز شریف کی پیروی نہیں کرتے، جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سیاست میں کامیابی دھرنے سے نہیں کچھ کرنے سے ملتی ہے۔

وزیر اعظم تو یہ کہتے ہیں کہ پاناما کیس کے فیصلے پر قیاس آرائی کرنا مناسب نہیں، لیکن وزراء اور ترجمان یہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ فیصلہ وزیر اعظم کے خلاف نہیں آنا چاہئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاناما کیس تو روزانہ کی بنیاد پر سناگیا، مگر عمران خان کے خلاف کیس کی تاریخ نہیں نکل رہی۔ ایسی باتوں سے حاصل تو کچھ نہیں ہو سکتا، البتہ یہ تاثر جنم لیتا ہے کہ حکومت پاناما کیس سے گھبرائی ہوئی ہے، جبکہ وزیر اعظم نواز شریف حتی الامکان یہ کوشش کررہے ہیں کہ ایسا تاثر پیدا نہ ہونے دیا جائے۔ اس بات پر تو اب سبھی متفق ہیں کہ پاناماکیس کا فیصلہ جوبھی آئے، وہ مستقبل کی سیاست اور حالات کی راہیں متعین کرے گا۔ اچھا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہماری سیاست کی وہ برائیاں ختم ہو جائیں، جنہوں نے اسے گدلا کررکھا ہے۔ سب کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش دلی سے قبول کریں گے۔ یہ جملہ بھی اضافی ہے، کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرناہی پڑتا ہے، اس سے بڑی پاکستان میں کوئی عدالت نہیں اور اس سے بڑا کوئی فیصلہ جاری کر نہیں سکتا۔ مگر میں اس بات سے متفق نہیں کہ پاناما کیس کا فیصلہ آنے سے ملک کے سارے مسائل ختم ہو جائیں گے اور ہر طرف خوشی کے شادیانے بجنے لگیں گے۔ یہ بات اتنی آسان ہوتی تو ستر برسوں میں کبھی نہ کبھی تو سپریم کورٹ کوئی فیصلہ کرکے ملک کو سیدھے راستے پر ڈال ہی دیتی۔سپریم کورٹ انصاف فراہم کرنے والا ادارہ ہے، اس فریم ورک کے اندر جو آئین میں دیا گیا ہے۔ ملک میں اصل تبدیلی تب آسکتی ہے، جب اس نظام کو تبدیل کیا جائے، جو ایک جبر کے نظام کی صورت میں ملا ہے۔

آپ غور کریں کہ سپریم کورٹ سینکڑوں ایسے فیصلے دے چکی ہے، جن میں سرکاری محکموں کی سرزنش کی گئی اور ذمہ داروں کو سزا بھی ملی، مگر اس کا کیا فائدہ ہوا، نظام تو پھر وہیں کھڑا ہے۔ سپریم کورٹ آئے دن یہ رولنگ دیتی رہتی ہے کہ سرکاری محکموں نے اگر کام نہیں کرنا تو انہیں بند کر دیا جائے۔ حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ نے اعلیٰ افسروں کی ترقی کے حوالے سے دوکیسوں میں حکومت کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا اور میرٹ پر دوبارہ ترقیوں کا حکم دیا، لیکن ان فیصلوں سے کسی کا کیا بگڑا، کون سی کل سیدھی ہوئی؟ بے رحم نظام کا پرنا لہ تو وہیں کا وہیں ہے، سوجب تک اس نظام کو نہیں بدلا جاتا، اس کے کسی جزو کو تبدیل کرکے ہم کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے۔ اس کی ایک حالیہ مثال فوجی عدالتوں کی دوسری بار توسیع ہے۔ جب دوسال پہلے فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں، تو ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ اس عرصے میں عام عدالتی نظام میں اصلاحات کرکے اسے موثر اور تیز رفتار بنادیا جائے گا، لیکن اس ضمن میں قدم تو کیا اٹھنا تھا، کسی نے سوچنا بھی گوارا نہیں کیا۔ اب بھی یہ کہا گیا کہ فوجی عدالتوں کو دوسال کی توسیع دی جائے گی اور ان دوبرسوں میں قانونی اصلاحات کرکے عدالتی نظام کو اتنا فعال بنادیا جائے کہ پھر فوجی عدالتوں کی ضرورت پیش نہ آئے۔

پچھلے دنوں وزیر اعلیٰ شہباز شریف پھر جذبات میں آگئے، مائیک کو اپنے جلال و جمال سے ہلا کر رکھ دیا۔ یہ جلال انہیں اس وقت آیا، جب انہوں نے اشرافیہ کا ذکر کیا کہ وہ غریبوں کو سہولتوں کی فراہمی میں روڑے اٹکاتی ہے،تنقید کرتی ہے۔ اچھی بات ہے، انہوں نے بھی اشرافیہ پر تنقید کی ہے، ہم تو ان کالموں میں اکثر اسی بات کا سیاپا کرتے رہتے ہیں کہ اشرافیہ نے اس ملک کو جکڑ رکھا ہے اس کی دنیا اور ہے، عوام کی دنیا اور ۔۔۔یہ بات ہم جیسا بے بس دبے اختیار شخص کہے تو عجیب نہیں لگتی، مگر جب حکمران اس بارے میں بات کریں تو آسانی سے ہضم نہیں ہوتی۔ اشرافیہ اس ملک میں اشرافیہ بنی کیسے ہوئی ہے، اسے زوال کیوں نہیں آتا یا اس کی گرفت کمزور نہیں پڑتی؟ اس کا جواب ڈھونڈنا ذرابھی مشکل نہیں۔ اشرافیہ کو اشرافیہ اس ملک کے نظام نے بنایا ہے۔ یہ ڈھیلا ڈھالا نظام اشرافیہ کے ہاتھ میں آیا ہوا ایک ایسا کھلونا ہے، جس سے وہ 70برسوں سے کھیل رہی ہے۔ اس نظام کو کھلونا بنانے کے بعد اسی اشرافیہ نے عوام کو غلام بنا رکھا ہے، حبیب جالب اشرافیہ کے خلاف نظمیں اور غزلیں کہے تو حیرت نہیں ہوتی، مگر جب کوئی حکمران اشرافیہ پر تنقید کرے اور عملی اقدامات نہ اُٹھائے تو حیرت ضرور ہوتی ہے۔ اشرافیہ کو تو یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ کبھی کبھار ملک کی اعلیٰ عدلیہ کوئی فیصلہ اس کے خلاف دے،پھر خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔ اشرافیہ کے چنگل سے عوام کو نجات تو اسی صورت میں مل سکتی ہے، جب اس دفتری و سرکاری نظام کو تبدیل کیا جائے، جس میں آج بھی ڈپٹی کمشنر بہادر کے ذریعے عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھا جاتا ہے، آج بھی لاٹ صاحب کا یہ نظام طاقتور کے سامنے بھیڑ اور کمزور کے سامنے دیو ہیکل اژدھے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔۔۔وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف بالکل درست کہتے ہیں کہ سیاست میں کامیابی دھرنے سے نہیں، کچھ کرنے سے آتی ہے، تاہم انہیں اب اس نکتے پر بھی غور کرنا چاہئے کہ ملک میں اتنا کچھ کرنے کے باوجود وہ ملک بھر کے عوام کو گڈگورننس کا احساس کیوں نہیں دلا سکے؟وہ اگر انگریزوں کے نو آبادیاتی نظام کو تبدیل کردیتے، عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف اور ریلیف پہنچانے کا اہتمام کرتے، چند فیصد اشرافیہ سے معاشرے کی جان چھڑادیتے تو عوام انہیں صحیح معنوں میں اپنا نجات و ہندہ سمجھتے،مگر اس ضمن میں انہوں نے کوئی کام نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں آج بھی بے شمار چیلنجوں اور مشکلات کا سامنا ہے، حالانکہ پارلیمنٹ میں انہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں، خطرہ ہے تو ایک جابرانہ نظام کے ستائے ہوئے عوام سے ہے جو آج بھی کسی مسیحاکی راہ دیکھ رہے ہیں۔

مزید : کالم