تفتیشی افسر صحیح کام نہیں کررہے ،جسٹس یاور ،دہشت گردی کے مقدمات کا ٹرائل ویڈیو لنک کے ذریعے ہونا چاہیے ،جسٹس عبدالسمیع

تفتیشی افسر صحیح کام نہیں کررہے ،جسٹس یاور ،دہشت گردی کے مقدمات کا ٹرائل ...
تفتیشی افسر صحیح کام نہیں کررہے ،جسٹس یاور ،دہشت گردی کے مقدمات کا ٹرائل ویڈیو لنک کے ذریعے ہونا چاہیے ،جسٹس عبدالسمیع

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج مسٹر جسٹس یاور علی نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتیںموثر انداز میںکام کررہی ہیں جبکہ بیشتر تفتیشی افسراپنا کام ذمہ داری سے پورا نہیں کرتے،وہ پنجاب بھر کی انسداد دہشت گردی عدالتوں میں کیس مینجمنٹ پلان، گواہوں کے تحفظ اور فرانزک کے حوالے سے ہونے والی ورکشاپ کے شرکاءسے خطاب کررہے تھے ۔

گگومنڈی کے علاقے محمدپورہ میں حساس اداروں اورپولیس کا ٹارگٹڈآپریشن ،2 مشکوک افراد گرفتار

ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس عبدالسمیع خان نے کہا کہ دہشت گردی کے مقدمات کاویڈیو لنک کے ذریعے ٹرائل ہوناچاہیے تاکہ ملزموں کوجیلوں سے عدالتوں میں نہ لاناپڑے ، اس سے حکومتی اداروںکا بوجھ بھی کم ہوگا۔ورکشاپ برطانوی ہائی کمیشن کے تعاون سے جسٹس عبدالسمیع خان کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ورکشاپ میں بیل فاسٹ ہائی کورٹ کے جسٹس تھامس برجس ، ڈائریکٹر جنرل پنجاب جوڈیشل اکیڈمی عظمی اختر چغتائی، سیکرٹری پراسیکیوشن پنجاب، ڈائریکٹر جنرل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نائب صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن بیرسٹر راشد جاوید لودھی سمیت صوبہ بھر کی تمام انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے جج صاحبان اور لاءانفورسمنٹ ایجنسیز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے عدالت عالیہ لاہور کے سینئر جج مسٹر جسٹس محمد یاور علی کا کہنا تھا کہ صوبہ بھر کی انسداد دہشت گردی کی عدالتیں بہت موثر کام کر رہی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے سال 1460 جبکہ رواں سال اب تک 200 دہشت گردی کے مقدمات کا ٹرائل مکمل کیا جا چکا ہے۔ انہوںنے کہا کہ بطور جج انہوںنے مشاہدہ کیا ہے کہ فوجداری مقدمات میں انکوائری آفیسر ریڑھ کی ہڈی کی اہمیت رکھتا ہے لیکن یہ باعث افسوس امر ہے کہ ہمارے ہاں بیشتر تفتیشی آفیسر اپنا کام ذمہ داری سے پورا نہیں کرتے۔ فاضل جج نے کہا کہ فوجداری مقدمات اور دہشت گردی مقدمات میں فرانزک ایجنسی بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے، فرانزک ایجنسی ناصرف جائے وقوعہ سے ملنے والے آلات کا معائنہ و مشاہدہ کرتی ہے بلکہ مقدمہ کو منطقی انجام تک پہنچانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

فاضل جج نے ورکشاپ کے انعقاد کے برطانوی ہائی کمیشن کے کردارکوسراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کا بھی اعادہ کرنا ہے کہ صوبے کی عوام کو فوری اور معیاری انصاف کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنانا ہے۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالتوں کے انتظامی جج لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس عبد السمیع خان نے کہا کہ دہشت گردی مقدمات جلد نمٹانے کےلئے کیس مینجمنٹ سکیم بہت ضروری ہے، انہوںنے کہا کہ چالان پیش ہونے کے بعد دہشت گردی مقدمات کا روزانہ کی بنیادپر ٹرائل کیا جائے۔ فاضل جج کا مزید کہنا تھا کہ ویڈیو لنک کو انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ساتھ منسلک کرنا چاہئے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل ہونے والے مقدمات کےلئے ملزمان کو روز جیلوں سے عدالتوں میں نہ لاناپڑے ، اس سے حکومتی اداروںکا بوجھ بھی کم ہوگا۔

پولیس کا لاہور کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن،شہریوں کی بائیومیٹرک تصدیق،شناختی کوائف کی جانچ پڑتال

مزید برآں ان کا کہنا تھا کہ ٹرائل جج ایک سے زیادہ مقدمات فکس نہ کریں جن میں شہادتوں کا ریکارڈ ہونا ضروری ہو۔ ایک دن میں ایسے مقدمات کی تعداد تین سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔قبل ازیں ورکشاپ میں جسٹس تھامس برجس، سیکرٹری پراسکیوشن علی مرتضیٰ، ڈی جی فرانزک ایجنسی محمد اشرف طاہر، ایس ایس پی سی ٹی ڈی بابر الپا، لاہور ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے نائب صدر راشد لودھی اور پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے سینئر انسٹرکٹر عامر منیر مغل نے بھی انسداد دہشت گردی عدالتوں کو مزید موثر بنانے کےلئے مختلف موضوعات پر خیالات کا اظہار کیا۔ورکشاپ کے اختتام پر برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جسٹس تھامس برجس نے جسٹس محمد یاور علی اور جسٹس عبد السمیع خان کو یادگاری شیلڈز بھی پیش کیں۔

مزید : لاہور