بلا تنخواہ اعزازی طورپرکام کرنے والاسرکاری ملازم نہیں ہوتا، الیکشن لڑسکتا ہے ،احمد حسان کیس میں ہائی کورٹ کا فیصلہ

بلا تنخواہ اعزازی طورپرکام کرنے والاسرکاری ملازم نہیں ہوتا، الیکشن لڑسکتا ...
بلا تنخواہ اعزازی طورپرکام کرنے والاسرکاری ملازم نہیں ہوتا، الیکشن لڑسکتا ہے ،احمد حسان کیس میں ہائی کورٹ کا فیصلہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ حکومت کے زیرانتظام اداروں میں اعزازی طورپرکام کرنے والا اقدام سرکاری ملازمین کے زمرہ میں نہیںآتااور اعزازی طور پر کام کرنے والے افراد پر الیکشن لڑنے سے 2سال قبل عہدہ چھوڑنے کی آئینی شرط کا اطلاق نہیں ہوتا۔

امریکہ نے اپنی پالیسیاں نے بدلیں تو جرمنی امریکہ کے خلاف ایکشن لے گا: جرمن وزیر

جسٹس عاطر محمود نے یہ رولنگ مسلم لیگ (ن) کے راہنماءخواجہ احمد حسان کی نااہلی کے لئے دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے اپنے تفصیلی فیصلے میں دی ہے ۔پی ٹی آئی کے زبیرخان نیازی نے درخواست دائر کی تھی کہ خواجہ احمد حسان لاہور کی یونین کونسل 107کے چیئرمین کی حیثیت سے کامیابی کو کالعدم قراردیا جائے کیوں کہ وہ ایل ٹی سی سمیت مختلف سرکاری اداروں کے سربراہ ہیں اور انہوں نے الیکشن لڑنے سے 2سال قبل اپنے عہدہ سے استعفیٰ نہیں دیا تھا ۔فاضل جج نے قرار دیا کہ خواجہ احمد احسان مختلف اداروں کے سربراہ کی حیثیت سے اعزازی طورپرکام کرتے رہے اوران اداروں سے تنخواہ سمیت دیگرمراعات حاصل نہیں کیں ،اس لئے ان کا اقدام سرکاری ملازمت کے زمرے میں نہیں آتا۔ 

عدالت نے قراردیا ہے کہ سرکاری ملازم کے لئے الیکشن میں حصہ لینے کے لئے عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعددوسال کا عرصہ ضروری ہے جبکہ سپریم کورٹ کے کے غضنفرعلی کیس میں قرار دے چکی ہے کہ اعزازی طورپرکام کرنے والاشخص سرکاری ملازمین کے زمرے میں نہیں آتا۔

مزید : لاہور