ریاستی جبر کے خلاف سینہ سپر رہنے والا عظیم صحافی شیخ منصور طیب

ریاستی جبر کے خلاف سینہ سپر رہنے والا عظیم صحافی شیخ منصور طیب

میں نہیں سمجھتا تھا کہ لاہور پریس کلب کے مختلف حصوں میں اکثر و بیشتر دیکھے جانے والا باریش شخص اتنا جرأت مند اور نڈر صحافی ہے جس کا ماضی ریاستی جبر و تشدد کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند پختہ اور ناقابل شکست ہے ۔وہ دیکھنے میں تو بڑا نحیف اور سادہ سا شخص معلوم ہوتا تھا لیکن یہ کسی کو نہیں معلوم کہ وہ اندر سے ایک فولادی شخص ہے جس نے جھکنا اور بکنا سیکھا ہی نہیں وہ کسی جبر یا دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر قید و بند کی صعوبتیں تو دور کی بات جان قربان کرنے کو بھی ترجیح دیتا تھا ۔نرم دمِ گفتگو تھا لیکن جستجو میں اتنا گرم کہ کوئی اس کو مشن سے ہٹانے کی کوشش کرے تو اس کا بچ کر جانا محال ہوتا تھا ۔وہ اپنے مشن کے سامنے کسی پابندی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ سینسر لگے تو استفسار کیا کرتا تھا کہ یہ کس بلا کا نام ہے اور کس کم بخت نے لاگو کیا ہے۔ ایک روز پریس کلب کی جانب سے یہ پیغام ملا کہ شیخ منصور طیب داغ مفارقت دے گئے ہیں اور ان کا جنازہ آج ان کی رہائش گاہ سے اٹھایا جائے گا ۔اس حوالے سے خبر بنانے کے لئے تفصیلات اکٹھی کی جا رہی تھیں کہ محترم چیف ایڈیٹر مجیب الرحمٰن شامی کا فون آیا جنہوں نے دریافت کیا کہ آپ کو شیخ منصور صاحب کی رحلت کی اطلاع مل گئی اور کیا آپ ان کی شخصیت سے واقف ہیں تو میرا جواب تھا کہ انتقال کی اطلاع تو پریس کلب سے آ گئی ہے لیکن مرحوم کے حوالے سے میں کچھ زیادہ باخبر نہیں ۔جواب میں شامی صاحب نے شیخ منصور طیب مرحوم کی صحافتی خدمات کا چند جملوں میں جو اظہار کیا اس سے میری آنکھیں کھل گئیں اور یہ جان کر کہ میدان صحافت کی نئی نسل کو مرحوم کے صحافتی ذوق و شوق کے ساتھ ساتھ جرأت مندی کے واقعات سے باخبر ہونا نہایت ضروری ہے میرا شوق بڑھ گیا اور سوچا کہ مرحوم یا ان جیسے دیگر محسنین صحافت کے حوالے سے ہمیں معلومات ضرور ہونی چاہئیں۔

منصور طیب مرحوم 72سال کی عمر میں اللہ کو پیارے ہوئے اور کم و بیش نصف صدی تک وہ عوام کو باخبر رکھنے کا فریضہ انجام دیتے رہے ۔ہفتہ وار اور ماہانہ صحافت کے تو وہ بے تاج بادشاہ تھے لیکن کئی قومی اخبارات سے وابستہ رہ کر بھی انہوں نے میدان صحافت میں خوب نام کمایا ۔روزنامہ پاکستان سے تو وہ طویل عرصے تک منسلک رہے اور مرتے دم تک اس اخبار میں اپنے کالموں کے ذریعے صحافتی فریضہ انجام دیتے رہے ۔پریس کلب کو اپنا مستقل مسکن بنانے والے نوجوان صحافیوں کو شاید اس بات کا علم ہی نہیں کہ کتنا باخبر اور جری بزرگ ساتھی ان سے بچھڑ گیا جو اپنے سینے میں صحافت کے حوالے سے ریاستی جبر و تشدد کی کتنی کہانیاں اپنے ساتھ لے گیا ۔ وہ ایسا شخص تھا جو حق بات پر اڑنا اور صحافتی اقدار کے خلاف اقدام پر انکار کرنا بخوبی جانتا تھا ۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب صحافت پرابتلا کا دور آیا تو منصور طیب نے ریاستی جبر کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کر دیا اور اپنے رسالے ’’اسلامی جمہوریہ ‘‘کی قیمت لگانے والے سرکاری افسروں کو ٹکا سا جواب دیا کہ ’’اگر میں نے اپنے رسالے کا ڈیکلریشن آپ کو دے دیا یا اخبار بند کر دیا تو آنے والے دور کے لوگ کیا کہیں گے کہ میں بک گیا ۔‘‘ یہ سنہری حروف آج کے صحافیوں کے لئے سب سے بڑا ضابطہ اخلاق اور مشعل راہ ہیں ۔جو ظلم و ستم کے سامنے ڈٹ جانا چاہتے ہیں ان کے لئے منصور طیب مرحوم کی ساری زندگی ایک بھرپور ضابطہ حیات ہے جسے اپنا کر پیشہ ورانہ صلاحیتوں کالوہا بھی منوایا جا سکتا ہے اور کسی قسم کے دباؤ کے سامنے انکار کی دیوار بھی کھڑی کی جا سکتی ہے۔

منصور طیب نے جب اپنا ہفت روزہ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ نئی زندگی پبلی کیشنز کے حوالے کیا تو یہ دور وہ تھا جب نئے ڈیکلریشن کا حصول ناممکنات میں سے تھا اور جن پبلشروں نے اس سلسلے میں نئی زندگی پبلی کیشنز کے ساتھ تعاون کیا انہیں دباؤ کے طرح طرح کے ہتھکنڈوں کا سامنا رہا چنانچہ ایک دو یا چند ہفتوں کے بعد ہی یہ پبلشر اپنا ہفت روزہ ’’نئی زندگی‘‘ سے واپس لے لیتے رہے، جب منصور طیب نے اپنا ہفت روزہ اشاعت کے لئے ’’نئی زندگی‘‘ کی پبلی کیشنز کے سپرد کیا تو انہیں اس راستے کی مشکلات سے باخبر کر دیا گیا تھا، انہیں کہا گیا کہ ان پر مختلف سمتوں سے دباؤ بھی آئے گا اس لئے وہ اپنے فیصلے پر اچھی طرح سوچ لیں، عین ممکن ہے کہ وہ دباؤ کا مقابلہ نہ کر سکیں لیکن منصور طیب نے جو کہا وہ کر دکھایا اور ہر قسم کی دھمکیوں کے باوجود ان کا ہفت روزہ ’’نئی زندگی‘‘ کے اہتمام سے نکلتا رہا، انہیں تحریص و ترغیب کے حربوں سے بھی ڈگمگانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ ثابت قدم رہے اور قول کے پکے نکلے۔ انہیں حکومتی افسروں نے آفر کی تھی کہ آپ آٹھ نو لاکھ روپے لے لیں اور اسلامی جمہوریہ بند کر دیں یا ڈیکلریشن سرنڈر کر کے آرام سے گھر بیٹھ جائیں ۔اس پیشکش کو منصور طیب نے ٹھوکر ماری اور کہا کہ میں قلم کا جہاد بند کرنے کی بجائے ریاستی جبر برداشت کرنے کو ترجیح دوں گا ۔کسی قسم کی سرکاری پابندی قبول کرنے سے انکار کے نتیجے سے بھی وہ بخوبی آگاہ تھے لیکن اپنے موقف پر ڈٹ جانا ہی صحافت کی بنیاد ہے اور یہی راستہ انہوں نے اپنایا ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ منصور طیب کے والد شیخ فضل احمد ساہیوال کے سینئر قانون دان تھے۔

آج جب ہم مرحوم کی رسم چہلم منا رہے ہیں تو ان کی بیوہ نجمہ منصور ، صاحب زادیوں ماریہ، عمارہ، نور فاطمہ اور بیٹوں حیدر فرید اور ہارون فرید کو تسلی دینے اور صبر کی تلقین کرنے کے ساتھ ساتھ یہ مبارکباد دینے کو بھی جی چاہ رہا ہے کہ ان کے سربراہ خاندان نے میدان صحافت میں وہ کارنامے انجام دیئے جنہیں آج یاد کر کے ہم فخر کر رہے ہیں ۔دنیا میں آنے والے ہر شخص کو یہاں سے جانا ہے اور قیامت تک اس اٹل فیصلے کو تبدیل بھی نہیں ہونا لیکن اعلیٰ کردار اور خدمات کوفنا نہیں ۔منصور طیب کی خدمات نہ صرف ناقابل فراموش بلکہ قابل تقلید بھی ہیں وہ انسان تو اچھے تھے ہی لیکن بطور صحافی انہوں نے قلم کا استعمال جس جرأت مندی اور بہادری سے کیا وہ انہی کا خاصا ہے ۔اپنے کالموں کے ذریعے شہرت کی جن بلندیوں تک پہنچے وہ کم ہی کسی کے حصے میں آئیں ۔ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’بھوک‘‘ اور ’’قاصد ‘‘ نامی جریدوں کے ذریعے بھی انہوں نے صحافت میں اعلیٰ روایات قائم کیں ۔اپنے ان جرائد میں منصور طیب شیخ جتنے جاندار اداریئے لکھتے رہے وہ بھی صحافتی تاریخ کا اہم باب ہیں ۔ان رسالوں کے لئے مضامین کا انتخاب بھی خوب تھا ۔چن چن کے ایسے مضامین لگائے جاتے جو حالات حاضرہ کی بھرپور عکاسی کرتے تھے ۔مرحوم کو لکھاری بھی ایسے ملے تھے جو انہی کی طرح بے باک تھے اور بے لاگ تبصرے کر کے اسلامی جمہوریہ ، بھوک اور قاصد کو صف اول کے جرائد میں شامل کر دیا ۔ان کی زندگی کا ایک اہم پہلو تعلقات عامہ بھی تھا وہ دوست بنانے ، دوستی رکھنے اور نبھانے کا فن بھی خوب جانتے تھے ۔سماجیات کے پہلو ؤں سے بخوبی آشنا تھے ۔لاہور پریس کلب کی پرانی عمارت دیال سنگھ مینشن مال روڈ اور شملہ پہاڑی پر واقع نئی بلڈنگ میں ان سے ہونے والی تمام ملاقاتوں میں مجھے ان کی زندگی کے ان پہلوؤں سے آشنائی تو نہیں ہوئی لیکن ان کی وفات کے بعد جو دروا ہوئے وہ یقیناًانکشاف انگیز بھی ہیں اور مشعل راہ بھی ۔

’’حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا‘‘

مزید : ایڈیشن 1