جی 20ٹرمپ انتظامیہ نے آزادانہ تجارت سے متعلق بیان مسترد کر دیا ، امریکی اتحادیوں میں نئی دراڑ

جی 20ٹرمپ انتظامیہ نے آزادانہ تجارت سے متعلق بیان مسترد کر دیا ، امریکی ...

واشنگٹن( خصوصی رپورٹ) ٹرمپ انتظامیہ نے جی 20 اجلاس کے آزادانہ تجارت پر زور دینے سے متعلق بیان کو مسترد کردیا ہے ۔ اس سے ایک طرح کی نئی دراڑ سامنے آئی ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا کی سرکردہ معیشتوں کا وہ بیان یکسر مسترد کردیا جس میں ملکی صنعتوں کے تحفظ کے معاشی نظام (ٹریڈ پروٹیکشنزم) کے خطرات سے خبردار کیا گیا تھا۔یہ اس طرح سے یہ تازہ ترین اشارہ ہے کہ کس طرح سے ٹرمپ انتظامیہ کی ڈپلو میسی کے حوالے سے مزید جارحانہ اپروچ امریکی اتحادیوں کے درمیان ایک دراڑکی فضا پیدا کر سکتی ہے اور یہ کس طرح سے روایتی شراکت داروں کو نئی امریکی پالیسی کے بارے میں اندھیرے میں رکھ سکتی ہے ۔امریکی وزیر خزانہ سٹیومنوچن نے جرمنی کے شہر بیدن بیدن میں جی 20کے بڑے معاشی ممالک کے اقتصادی امور کے وزرا اور مرکزی بنکوں کے حکام سے ملاقاتیں کیں اور اجلاس میں جرمنی کے حکام کی جانب سے آزادانہ تجارت کی اہمیت کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ میں شامل کرنے کیلئے متعدد تجاویز مسترد کردیں ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشترکہ اعلامیہ کی زبان کو مسترد کر کے وائٹ ہاؤد نے ایک واضح سگنل دیا ہے کہ وہ موجودہ تجارتی اقدار کو تسلیم نہیں کرے گا اور وہ دنیا بھر میں اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ معاندانہ پروچ اختیار کرے گا۔ واضح رہے کہ ایسی زبان کو جی 20گروپ کے اجلاس میں معمولی اور غیر متنازرہ تصور کیا گیا ہے ۔امریکی وزیر خزانہ سٹیومنوچن نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ میں صدر کی خواہشات اور پالیسوں کو سمجھتا ہوں ، میں نے یہاں مذاکرات کئے ہیں ، ہم اسکے نتائج سے،مطمئن اور خوش نہیں ہیں ۔یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں فری ٹریڈکی مخالفت کو اپنا اہم سنگ میل قرار دیا تھا ،اور بر سر اقتدار آنے کے بعدایشیائی ٹریڈ ڈیل سے امریکہ کو نکال لیا تھا تاہم امریکہ کے دنیا کے ساتھاقتصادی تعلقات کے حوالے سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے ۔

جی 20

مزید : علاقائی