پاکستان میں پولیو جیسا موذی مرض آخری سانسیں لے رہا ہے ،ماہرین

پاکستان میں پولیو جیسا موذی مرض آخری سانسیں لے رہا ہے ،ماہرین

شبقدر (نمائندہ خصوصی )پاکستان میں پولیو کا وائرس اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے اورجلد ہی وہ وقت آٗئے گا کہ پاکستان بھی ان ممالک کی صف میں شامل ہوگا جس کے بچے اس جان لیوا مرض سے محفوظ ہوجائیں گے۔ایبٹ آباد کے ایک ہوٹل میں ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (EOC) فاٹا کی سرپرستی اور یونیسیف کے تعاون سے منعقد تربیتی ورکشاپ میں ماہرین کا خطاب تفصیلات کے مطابق یمرجنسی آپریشنز سینٹر (EOC) فاٹا کی سرپرستی اور یونیسیف کے تعاون سے فاٹا کے صحافیوں کے لئے ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر عنایت الرحمن نیپولیو کے خلاف کامیابیوں میں میڈیا کے کردارکی اہمیت کو سراہتے ہوئے کہا میڈیا نے فاٹا کے عوام میں شعور بیدار کرنے اور ہر بچے کو پولیو قطرے پلوانے کے عمل میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ٹیکنیکل فوکل پرسن فاٹا ڈاکٹر ندیم جان نے کہا کہ میڈیا نے فاٹا سے پولیو کے خاتمے کی جستجو میں ہمیشہ مدد کی اور امید رکھتے ہیں میڈیا آئندہ مہموں میں بھی تعاون جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پولیو ختم ہونے کو ہے اوریہ آخری سانسیں لے رہا ہے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر صاحبزادہ خالد نے ایجنسی کی سطح پر صحافیوں کو معلومات فراہم کرنے کی اہمیت پر ذور دیتے ہوے کہا کہ صحافیوں کی سہولیت کے لیے ایجنسی کی سطح پر فوکل پرسن مقرر کرنا بہت ضروری ہے۔ ڈاکٹر خالد نے تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر صحافی شرکا کو حصہ لینے پر شکریا ادا کیا۔ ساتھ ہی تعاون کرنے والے ادارے یونیسف اورصحافیوں کو تربیت دینے والے دونون سینئر صحافیوں محمود جان بابر اور صفی اللہ گل کا بھی شکریا ادا کیا اور ورکشاپ کی کامیابی پر مبارکباد دی اور گھر گھر ویکسین کی رسائی کی بدولت دنیا کے باقی حصوں میں پولیو خاتمہ ممکن ہوا اور ہم بھی فاٹا میں پولیو کے خاتمے کے بہت قریب ہیں ہیلتھ افسر یونیسف ڈاکٹر عبد القیوم نے شرکاء کو بتایا کے پولیو ویکسین محفوظ ترین ہے اور ہر بچے کو ہر مہم میں پولیو ویکسین پلوانا بہت ضروری ہے اگر ہم فاٹا سے پولیو کا خاتمے کرنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر مقامی ممتاز صحافیوں محمود جان بابر اور صفی اللہ گل نے صحت سے متعلقہ رپورٹنگ کے بارے میں اپنے تجربے سے شرکا کو آگاہ کیا اوربتایا کہ آج کا صحافی اگرصرف اپنا کام ہی ایمانداری سے کرلے تو یہ اس قوم کی سب سے بڑی اورعظیم خدمت ہوگی انہوں نے کہا کہ صحافی کا قوم پراحسان ہوتا ہے کہ وہ اپنی خبرکو دوطرفہ تصدیق کے بعد فائل کرے کیونکہ کوئی بھی کمزوراورغلط خبرلوگوں کو بری طرح متاثرکرتی ہے۔ انہوں نے احلاقی ذمہ داریوں پرزورڈالااورکہا کہ پولیوکی خبررپورٹ کرتے وقت ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس کے لئے متعلقہ اداروں سے تصدیق کی گئی ہے یا نہیں۔ انہوں نے مختلف مشقیں کرکے شرکا کو تربیت دی کہ کسی کو ہرانا معراج نہیں ہوتی بلکہ سب کی جیت ہی معراج ہوتی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر