موجودہ حالات میں جنگ اسلحہ سے نہیں نظریات سے لڑی جاتی ہے ،قاری عبداللہ

موجودہ حالات میں جنگ اسلحہ سے نہیں نظریات سے لڑی جاتی ہے ،قاری عبداللہ

چکدرہ ( نمایندہ پاکستان) جے یوائی کے صوبائی رہنما وسابق سینٹر قاری عبداللہ کہا کہ موجودہ دور میں جنگ اسلحہ سے نظریات سے لڑی جاتی ہے اہل حق اور اہل باطل کے مابین عالیہ جنگ لڑی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ صد سالہ اجتماع کا مقصد دینی مدارس کی خدمات کو پیش کرنا اور غیروں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے حوالے سے عوام کو اگاہ کرنا ہے انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ فروغی اختلافات بھلا کر اسلام اور پا کستان کی بقا اور خوشحالی کے لئے جے یوائی کی پیلٹ فارم پر متحد ہوجائیے انہوںے کہا کہ امریکہ اور انکے ہمنواوںے مسلمانوں کی قدرتی وسائل پر قبضہ کے درپے ہیں اور ہمارے حکمران انکے الہ کار بنے ہوئیے ہیں وہ گزشتہ روز صد سالہ اجتماع کو کامیاب بنانے کے حوالے سے کا رکنوں کے اجتماع سے خطاب اور بعد ازں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئیے کہا کہ دینی مدارس اسلام اور پا کستان کے کے قلعے ہیں جسکی وجہ سے قادیانی لابی اور طاغوتی طاقتیں ایک منظم سازش کے تحت مدارس اور ان میں پڑھنے والے طالبان کو بدنام کرنے کی تمام کو ششوں کو بروئے کار لایا لیکن اللہ تعالی کے فضل وکروم سے وہ اپنے مذموم مقصاصد میں ناکام ہوئیے قادیانی لابی اورمغرب نواز لادینی قوتیں مختلف ناموں سے نام نہاد تنظیموں کے ذریعے ملک میں فرقہ واریت کوہوادینے اور انتشارپھیلاانے میں مصروف عمل ہیں جن کامقصد دینی مدارس اور ممبرومحراب کوبدنام کرکے انارکی پیداکرناہینہوں نے کہا کہ دینی مدارس کے لاکھوں طلباء محب وطن ہے ابھی تک کسی ایک مدرسے کے طالب علم ملک دشمن سرگرمیوں میں نہیں پا یا گیا جبکہ روشن خیال طبقے کے نام پر این جی اوز چلانے والے درجنوں نہیں سکینڑوں لوگ ملک اور اسلام کے خلاف کام کرنے اور جاسوسی مین پکڑ گیا انڈیا، امریکہ کے لئے جاسوسی میں کتنے اہم لوگ پکڑگئے انہوں نے کہا کہ مدارس کے لاکھوں طلباء ملک کے مشکلات میں شانہ بشانہ ہونگے انہوں نے کہا کہ صد سالہ اجتماع کا مقصد یہ بھی ہے کہ ہم اسلام کی صیح تصویر پیش کریں تشدد پسند لوگوں نے جو اسالم کی تصویر منظم سازش کے تحت پیش کی اور مغرب نے اپنے مخصوص ایجنڈے کے مطابق پھیلا دیا وہ ہماری تصویر نہیں بلکہ یہ تصویر قادیانی لابی کا ہے جو اسلامی شعائر دینی مدارس ۔ اور جہاد کو بد نام کرنے کے کوششوں میں مصروف ہیں انہوں نے کہا کہ ہمار چہرہ صاف ہے اور اس تصویر میں ہمارے چہرے کو گندہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہم دینا کو بتانا چاہتے ہیں کہ نبی اسلام سے پہلے جو دینا میں انار کی موجودگی تھی اسلام انے کے بعد امن میں تبدیل ہوا انہوں نے کہا کہ اس اجتماع میں 100 سالہ تاریخ بتانا چاہتے ہیں نئے نسل کو انگریزوں کو ہم نے بھگا یا اور شیخ الحہند اس ازادی کا اصل ھیرو ہے کیونکہ انگریز بھاگنے کیوجہ سے پا کستان ازاد ہوا ہے ہم پا کستان کے مالک ہیں کرایہ دار نہیں اور پا کستان کو انکے اصلی خطوط پے ڈالینگے اسلام پا کستان کی بیناد ہے اور اس بنیاد پر قائم ر ہینگا ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر