قیامت کی نشانی! نوجوان مغربی لڑکی ایک ایسے جانور کے ساتھ شرمناک فعل کرتی رنگے ہاتھوں پکڑی گئی کہ سوچ کر ہی شیطان بھی شرماجائے

قیامت کی نشانی! نوجوان مغربی لڑکی ایک ایسے جانور کے ساتھ شرمناک فعل کرتی رنگے ...
قیامت کی نشانی! نوجوان مغربی لڑکی ایک ایسے جانور کے ساتھ شرمناک فعل کرتی رنگے ہاتھوں پکڑی گئی کہ سوچ کر ہی شیطان بھی شرماجائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سڈنی (مانیٹرنگ ڈیسک) اہل مغرب کو دنیا میں کس شے کی کمی ہے؟ لیکن پھر بھی بسا اوقات ایسی گری ہوئی حرکت کر جاتے ہیں کہ انسان سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ آخر ان کا مسئلہ کیا ہے۔ اپنے پالتو کتے کے ساتھ شیطانی تعلق استوار کرکے پوری دنیا میں ذلیل و رسوا ہو جانے والی آسٹریلوی طالبہ بھی ایک ایسی ہی مثال ہے، کہ جس پر خود مغربی معاشرہ بھی شرمسار نظر آتا ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق برسبین شہر سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ جینا لوئی کے موبائل فون پر تین ویڈیوز برآمد ہوئی تھیں جن میں وہ اپنے پالتو کتے کے ساتھ شیطانی فعل میں مصروف نظر آتی ہے۔ پولیس جینا پر منشیات رکھنے کے الزامات کی تحقیقات کررہی تھی اور اسی سلسلے میں اس کی تلاشی لے رہی تھی کہ اس کے موبائل فون پر یہ شرمناک ویڈیوز مل گئیں۔

’میں اپنے شوہر کے ساتھ آرام دہ زندگی بسر کررہی تھی کہ ایک دن دماغ میں شیطان آگیا اور۔۔۔‘ پاکستانی خاتون نے ایسا شرمناک اعتراف کرلیا کہ جان کر ہر پاکستانی مَرد کے پیروں تلے واقعی زمین نکل جائے

ویڈیوز دیکھ کر پولیس والوں کے بھی ہوش اُڑ گئے اور وہ لڑکی کو فوری طور پر تھانے لے گئے۔ تفتیش کے دوران ملزمہ نے اعتراف کر لیا کہ وہ اپنے کتے کے ساتھ متعدد بار بے حیائی کرچکی تھی۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنے بوائے فرینڈ کے اصرار پر یہ بیہودہ حرکت کرتی تھی۔

جانوروں کے ساتھ بدفعلی کے الزامات کے تحت جینا کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جج نے اس کے فعل کو نفرت انگیز اور فطری طرز عمل کے خلاف قرار دیا۔ ملزمہ کو اس کیس میں قید کی سزا ہوسکتی تھی لیکن عدالت میں پیش کی گئی نفسیاتی ماہر کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وہ شدید ذہنی دباﺅ کی شکار ہے۔ اس نے نفسیات دان سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس واقعے نے اس کی زندگی برباد کردی ہے اور اس کے لئے جینا مشکل ہوگیا ہے۔ اسی طرح ملزمہ کے وکیل نے اخبارات میں شائع ہونے والی اور ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی متعدد رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ ساری دنیا میں ذلیل و رسوا ہوچکی ہے جس کی وجہ سے وہ بدترین ذہنی دباﺅ کا شکار ہے۔ عدالت نے ان دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمہ کی رہائی کا حکم جاری کردیا، تاہم اسے رہا کرنے سے قبل ایک بار پھر یاد دلایا کہ اس کا فعل انتہائی شرمناک و نفرت انگیز تھا اور فطرت کے اصولوں کی بدترین خلاف ورزی تھا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس