گیارہویں قسط،بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے والی تاریخ

گیارہویں قسط،بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے ...
گیارہویں قسط،بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے والی تاریخ

  

دوسری طرف مسلمانان عرب نے ہندوؤں، آریاؤں اور بدھ مت کے ماننے والوں کو جنگی چھیڑ چھاڑ سے کافی کمزور کر دیا تھا۔ وہ ان پر لشکر کشی کرتے اور فتح حاصل کرکے ان کو اپنا باجگزار بنا لیتے تھے۔ کچھ مدت بعد پھر بغاوت ہوتی اور وہ لشکر کشی کرکے پھر ان پر فتح حاصل کر لیتے یہ سلسلہ جاری رہا۔ ادھر افغانوں کو اس سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ پہاڑوں سے نیچے اتر آئے اور مشرقی جانب توجہ کی اور میدانی علاقوں میں اپنی نو آبادیات قائم کرنے کا خیال پیدا ہوا۔ غوریوں کی ریاست مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی۔ کچھ عرصہ بعد شیخ حمید لودی افغان جو لودی خاندان سے تعلق رکھتا تھا برسراقتدار آیا اور اس نے ہندوؤں کامقابلہ کیا۔ چنانچہ غیر افغانی مورخین فرشتہ اور ٹاڈراجستان یہ حالت یوں بیان کرتے ہیں:

دسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’حضرت عثمانؓ نے عبداللہ بن عامر کی سرکردگی میں ۳۱ھ میں کرمان کی طرف سے اور اخف بن قیس نے سیستان اور قوہستان وغیرہ اور نیشا پور پر قبضہ کیا۔ ان لوگوں(یعنی افغانوں) نے مسلمانوں سے موافقت کی۔ نیز ہرات، بادغیس، غور غرجستان، مرو، طالقان اور بلخ بھی مسلمانوں کے تصرف میں آئے۔ اور قیس بن ہیشم خراسان میں اور احنف بن قیس مرو، طالقان اور نیشا پور میں اور خالد بن عبداللہ ہرات، غور اور غرجستان میں والی ہوئے۔ خالد بن عبدالللہ معزولی کے بعد افغانوں کے ساتھ کوہ سلیمان میں متوطن ہوئے تھے اور اپنی بیٹی ایک معتبر افغان کو جو مشرف بہ اسلام ہوا تھا کے نکاح میں دے دی تھی۔ القصہ قوم افغانان کا گروہ زراعت اور تحصیل فائدہ معاش میں مشغول ہوا۔ اور اسلام کے سبب انہیں امن و سکون نصیب ہوا۔ سیاسی استحکام اور معاشی ترقی ہوئی۔ گائے، بیل، بکری، اونٹ اور گھورے وغیرہ ہر چیز بڑھ گئی اور جو اہل اسلام محمد بن قاسم کے ساتھ آکر ملتان میں متوطن ہوگئے تھے ان سے روابط اور تعلقات کو مستحکم کیا اور جب ان کی طاقت مزید بڑھ گئی اور قوم افغان کی اولاد بھی بکثرت ہوگئی تو انہوں نے ۱۴۳ھ میں قوہستان اور غرجستان وغیرہ کے علاقوں سے نکل کر ہندوؤں کے مقبوضات پر قبضہ و تصرف کا عزم کیا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا بعد میں ’’لاہور‘‘ کے راجہ جے پال نے افغانوں پر لشکر کشی کی۔‘‘

راجہ جے پال

چونکہ افغانوں کی تاریخ میں اس کی بڑی اہمیت ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ’’لاہور‘‘ کے راجہ جے پال کا چند لفظوں میں تعارف کرا دیا جائے۔ جے پال ہندوؤں کے برہمن خاندان سے تھا اس کے باپ کا نام است پال یاست پال تھا اور بیٹے کا نام انند پال۔ سلطنت لاہور کو مشرق میں سرہند تک اور کشمیر سے ملتان تک اور شمال مغرب میں چترال اور لمغان سے کوہ سلیمان تک اپنے قبضہ و تصرف میں رکھتا تھا ور وہ اس مملک کا خود مختار حکمران تھا بلکہ کابل اور قندھار بھی اس کے باجگزار اور زیر اثر تھے۔ اور بہت سے ہندو رائے اور راجے اس کے حکم بردار تھے۔ اس کا دارالحکومت لاہور تھا جو پشاور سے جانب مشرق چھپن (۵۶) میل کے فاصلہ پر دریائے سندھ سے جانب مغرب واقع تھا اور راجہ کے رہائشی محلات اور اس کی حفاظت کے واسطے چھوٹا سا ایک مضبوط قلعہ بھی دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر شہر ہند(باوے ہند، دہند، ہنڈ ، انڈ) کے مقام پر تھا۔ جو دریائے سندھ پر قلعہ اٹک سے سولہ میل شمال کی طرف واقع تھا۔ اور قصبہ ہند سے جانب شمال مغرب قریب چارسو میل کے فاصلہ پر دارالحکومت شہر لاہور تھا۔ ان دونوں مقامات کے درمیان ایک بڑا شہر آریانا آباد تھا۔ یہ تینوں ایک دوسرے سے ایسے لگ ہوئے تھے کہ ایک ہی شہر دکھائی دیتا تھا۔ مقامات مذکورہ کے اب تک یہاں نہ صرف آثار قدیمہ موجود ہیں بلکہ یہ اس وقت بھی سکونتی قصبے ہیں اور اب تک انہی پرانے ناموں سے موسوم ہیں۔ ان قصبوں میں قبیلہ اباخیل منڈر یوسف زئی آباد ہیں۔

جاری ہے۔ بارہویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔

مزید : شجاع قوم پٹھان