حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے پُرعزم

حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے پُرعزم
حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے پُرعزم

  



گزشتہ دنوں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے تربیلا فور توسیعی منصوبے کا افتتاح کیا جوحکومت کی کوششوں سے بروقت اور مقررہ قیمت میں عالمی بینک کی معاونت سے مکمل ہوا۔

اس منصوبے میں جرمنی کے کنٹریکٹرز ، برطانیہ کے کنسلٹنٹ ،چین کے کنٹریکٹرز اور ترکی کے ماہرین کی مدد سے 470 میگاواٹ کا منصوبہ مکمل کیا گیا، جبکہ جون تک1410 میگاواٹ کا توسیعی منصوبہ بھی مکمل کر لیا جائے گا جو توانائی کی ملکی ضروریات کی بروقت تکمیل میں معاون ثابت ہوگا۔

اس سے نہ صرف مناسب وقت پر بجلی کی ضرورت پوری ہو گی بلکہ سستی اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک بجلی فراہم ہوسکے گی۔ تربیلا فور توسیعی منصوبے کے پہلے یونٹ کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ منصوبہ کی تکمیل سے ملین ٹن فرنس آئل کی بچت ہوگی۔ حکومت کوئلے کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ شفاف توانائی کے منصوبوں پربھی توجہ دے رہی ہے، تاکہ فضائی آلودگی کو کم سے کم کیا جا سکے ۔

موجودہ حکومت کے لئے اگرچہ یہ انتہائی مشکل ٹاسک ہے ،لیکن اگر اس نے لوڈشیدنگ کو اپنے دور میں ہمیشہ کے لئے ختم کر لیا تو آئندہ حکومت بھی مسلم لیگ ن کو ہی ملے گی۔ عوام لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں تنگ آ ئے ہوئے ہیں۔

سرمایہ کاروں کو بجلی کی عدم دستیابی سے اپنا بوریا بستر گول کرنا پڑتا ہے ۔ حکومت نے یہ بھی دعوے کئے ہیں کہ وہ نہ صرف لوڈشیڈنگ ختم کرے گی بلکہ سستی بجلی کی فراہم کو بھی یقینی بنائے گی۔

اگر ایسا ہو گیا تو عوام کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ بند کارخانے پھر سے چل نکلیں گے۔ روزگار کے مواقع بڑھ جائیں گے اور ملک تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہو جائے گا۔

اس سے قبل حکومت نے بجلی کی پیداوار کو 13000میگاواٹ سے بڑھا کر 21000میگاواٹ تک پہنچا دیا ہے ۔ایک خبر کے مطابق موسم گرما تک مزید 5000میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل کردی جائے گی ۔ یہ بھی شنیدہے کہ رواں سال اپریل تک نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مکمل کرلیا جائے گا۔

یہ منصوبہ کئی عشروں سے زیرتکمیل تھا، اسے مکمل کرنے سے سستی بجلی سسٹم میں آ جائے گی۔جیسے جیسے الیکشن قریب آ رہے ہیں حکومت نے بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لئے شروع کئے جانے والے مختلف منصوبوں پر کام تیز کر دیا ہے ، 2013ء سے اب تک سسٹم میں 7759میگاواٹ بجلی کااضافہ کیا گیا ہے۔

8600گرڈ سٹیشنز میں سے 5279 سے زائدگرڈ سٹیشن پر کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی، جبکہ واجبات کی وصولی، بجلی چوری کی روک تھام اور زائد بلنگ کے مسئلہ کے حل کے لئے بھی مثبت اقدامات کے اثرات سامنے آ رہے ہیں ۔

بجلی کی پیداوار کے لئے کوئلے ، پانی ، ہوا اور شمسی توانائی کے مختلف منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے، جس کے اثرات لوڈشیڈنگ کی کمی کی صورت میں دکھائی دے رہے ہیں۔

تربیلا توسیعی منصوبے سے قبل تھر کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے دو نئے منصوبوں کا معاہدہ بھی طے پا چکا ہے۔ پرائیویٹ پاور اینڈ انفرا سٹرکچر بورڈ کے مطابق 990 میگاواٹ کے دونوں منصوبے سال 2021 تک بجلی کی پیداوار شروع کر دیں گے ۔ان میں سے660 میگاواٹ کا منصوبہ پورٹ قاسم پر، جبکہ 330 میگاواٹ کا منصوبہ تھر میں لگایا جائے گا۔

دونوں منصوبوں پر 1 ارب 49 کروڑ ڈالر خرچ ہونگے ۔ دونوں پاور پلانٹس 2021 تک بجلی کی پیداوار شروع کر دیں گے ۔اس وقت تھر کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے 7 مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے ۔

ان منصوبوں کی تکمیل سے قومی گرڈ میں لگ بھگ 5 ہزار میگا واٹ بجلی شامل ہوجائے گی۔ اس سے قبل گزشتہ برس دسمبر میں حکومت نے بجلی کے 62 فیصد فیڈرز پر لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم جن فیڈرز پر بجلی چوری ہوتی ہے وہاں لوڈشیڈنگ جاری ہے۔

جہاں حکومت اپنے تئیں اس مشکل سے نکلنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے وہیں عوام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لئے حکومت اور اداروں کا ساتھ دیں ، اپنے بجلی کے بل وقت پر دیں، میٹرز نصب کریں اور اپنے علاقے میں بجلی چوروں کی بھی نشاندہی کریں۔اس وقت ڈیڑھ کروڑ گھروں کو 24 گھنٹے بجلی مل رہی ہے۔

وفاقی وزیر اویس لغاری کے مطابق دسمبر 2013ء کے بعد سے سسٹم میں 7656 میگاواٹ بجلی کا اضافہ کیا گیا۔ ملک میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا کریڈٹ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ہی جاتا ہے۔

موجودہ حکومت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں ہر شعبے میں کامیابی حاصل کی ہے اور ساڑھے چار سال کی انتھک محنت اور جدوجہد سے نہ صرف ملک سے اندھیروں کا خاتمہ کیا ہے بلکہ ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر حقیقی معنوں میں گامزن کر دیا ہے ۔ جب 2013ء میں حکومت برسر اقتدار آئی تو ملک میں بجلی کی پیداوار، طلب اور رسد، اور لوڈشیڈنگ کی صورتحال انتہائی دگرگوں تھی۔

دسمبر 2013ء میں بجلی کی پیداوار 9279 میگاواٹ تھی جب کہ ملک میں بجلی کی طلب 11799 میگاواٹ تھی اور 2520؍ میگاواٹ بجلی کی کمی کی وجہ سے کم از کم 8 سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا شکار تھے ۔ دسمبر 2017ء میں حکومت نے 7465 میگاواٹ کی سطح سے بڑھا کر 16477 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کر دی تھی۔

یہاں یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ اگرچہ سسٹم میں اضافی بجلی موجود ہے تاہم نقصانات اور چوری کے عوامل کی وجہ سے زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر باامر مجبوری لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔

موجو دہ حکومت نے نہ صرف بجلی کی پیداوار کے بہت سے منصوبوں کو مکمل کیا ہے بلکہ بہت سے منصوبے اس وقت بھی زیر غور ہیں، جس سے سسٹم میں بجلی کے اضافہ میں مد د ملے گی ۔

ملک میں چھائے ہوئے اندھیروں کو ختم کرنے میں حکومت سنجیدگی سے اپنا کام کر رہی ہے، جبکہ اس کے برعکس ماضی کے حکمرانوں نے توانائی بحران کے خاتمے کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ بعض سیاسی عناصر کی رکاوٹوں کے باوجود بجلی کے منصوبوں کو ریکارڈ مدت میں مکمل کیا جا رہا ہے۔

تحریک انصاف جیسی سیاسی جماعتوں نے تبدیلی کے لئے اور کرپشن پر سب سے زیادہ شور مچایا، لیکن یہ اپنے صوبے میں رتی بھر تبدیلی نہ لا سکی، جبکہ کرپشن کی داستانیں اس کے لیڈر سے لے کر عام سیاستدانوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔

خود عمران خان کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے صوبے پر توجہ نہیں دے سکے اور انہوں نے یہاں تک کہا کہ شکر ہے کہ ہمیں دو ہزار تیرہ میں وفاق میں حکومت نہیں ملی وگرنہ ہم ناکام ہو جاتے، مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ انہیں خیبرپختونخوا میں جو صوبائی حکومت بنانے کا موقع ملا وہاں وہ کیوں فیل ہوئے۔

دراصل وہ اب بھی شارٹ کٹ کے ذریعے بغیر کچھ کئے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں جو ان کی خام خیالی ہے۔ موجودہ حکومت نے سی پیک، گوادر، لوڈشیڈنگ کے خاتمے، میٹرو بس، اورنج ٹرینز اور سینکڑوں دیگر ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے اپنی جیت کی راہ ہموار کر لی ہے۔

مزید : رائے /کالم