کیا جنگ کی صورت میں امریکہ ہمارا ساتھ نہیں دے گا؟

کیا جنگ کی صورت میں امریکہ ہمارا ساتھ نہیں دے گا؟
کیا جنگ کی صورت میں امریکہ ہمارا ساتھ نہیں دے گا؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ہمارے وزیرخارجہ ان دنوں خوب دل کھول کر ان امور پر تبصرہ کر رہے ہیں جن کے تحت ہم نے پہلے اپنے پڑوسی ملک افغانستان کی روسی حملہ کے دوران میں مدد کی اور آخرکار کئی سال کی جنگ کے بعد روس جیسی بڑی طاقت کو امریکی اسلحہ کی مدد سے واپس جانے پر مجبور کیا۔ جنرل ضیاء الحق نے یہ لڑائی کچھ اس طریقے سے لڑی کہ بعض دینی جماعتوں کا بھی انہوں نے سہارا لیا۔

ان کے مجاہدین کو تربیت دے کر تیار کیا اور پھر فوجی نقل و حمل، رنگ ڈھنگ، ساز و سامان اور جنگی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اس وقت کے جدید طریقوں کے مطابق افغانستان کی یہ جنگ لڑی۔

اس جنگ نے جہاں پاکستانی فوج کا سکہ ہر جگہ بٹھا دیا، وہاں بڑی بڑی جنگیں لڑنے والے مثلاً برطانیہ، جاپان، فرانس، جرمنی جیسے ممالک بھی ہمارے بارے میں کچھ سوچنے پر مجبور ہو گئے اور انہوں نے اسی وقت سے ہمارا ’’مکو ٹھپ‘‘ کرنے کے بارے میں سوچ و بچار شروع کر دی۔

یہ سلسلہ ابھی جاری تھا کہ جنرل پرویز مشرف نے امریکی پیادہ بلکہ ان کا جنگی ساتھی بن کر افغانستان پر اس کے حملہ کے حوالے سے خاموشی اختیار کر لی

۔ یہی نہیں بلکہ مطلوبہ لوگوں کو عام امریکی فوجی بھی پاکستانی علاقہ سے آسانی کے ساتھ پکڑ کر لے جاتے تھے اور پاکستان کے کروڑوں شہری پورے سکون اور آرام کے ساتھ امریکہ کا یہ کھیل دیکھتے رہے۔

کبھی نہ تو جنرل ضیاء نے یہ بتایا کہ امریکہ بہادر نے روس کو بھگانے میں ہماری کیا مدد کی؟ اور نہ ہی جنرل مشرف کی حکومت نے ایسے اعداد و شمار پاکستانی قوم کے سامنے رکھے جن میں کہا گیا ہو کہ امریکہ نے پاکستانی عوام کی قسمت بدل دی ہے، دودھ کی نہریں بہا دی ہیں۔

امریکی ویزہ ہر شخص کے لئے مفت ہے، وہاں ہر بے روزگار کو کام ملے گا اور امریکہ کا ہر تعلیمی ادارہ ہمارے پاکستانیوں کو مفت تعلیم دے گا۔


ایسا کچھ نہیں ہوا، عوام ہم سے ناخوش ہی نہیں بلکہ دشمنی کی حد تک ناراض ہیں وہاں یہ بات ہمارے ہمسایہ ایران کو بھی بہت بری لگی اور وہ بھی پاکستانی ایرانی بھائی بھائی کا نعرہ ترک کرکے واپس اپنے گھر کی چار دیواری میں جا بیٹھا۔ ہمارے وزیرخارجہ نے صحیح کہا ہے کہ ہم کسی اور کی جنگ لڑتے رہے ہیں اور شاید اب تیس چالیس برس بعد یہ خیال آیا ہے کہ ہم کس قدر بیوقوف ہیں۔

جہاں تک امریکہ بہادر کا تعلق ہے اگر آپ پوری پاکستانی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو 1947ء کے بعد امریکہ بہادر نے قحط کی صورت میں ایک آدھ بار گندم مفت بھیجنے کے علاوہ آپ کی ایسی کوئی امداد نہیں کی جسے آپ قابل ذکر سمجھ سکیں۔ اگر صرف دسمبر 1971ء کے واقعات یاد کریں تو جب 23 نومبر 1971ء کو جگ جیون رام وزیر دفاع بھارت نے مشرقی پاکستان کے خلاف جنگ شروع کر دی تو پاکستان کو لاچار اور بے حد کمزور حالت کا ایک ملک سمجھ کر الگ پھینک دیا گیا، نہ ہی اقوام متحدہ میں اس جنگ بندی کے لئے کوئی کارروائی ہوئی اور نہ ہی امریکہ نے آپ کی کوئی مدد کی بلکہ ساتھ میں امریکی بحری بیڑے کا ایسا رونا رویا گیا کہ آئے روز امریکہ سے ان کی وزارت دفاع اعلانات تو کرتی تھی لیکن جنگی بحری بیڑے کی نقل و حرکت کا پتہ نہیں چل سکا۔ جنگ کے دو ہفتوں میں ہر طرف خبریں تو گشت گرتی تھیں لیکن ساتواں جنگی بحری بیڑہ لاپتہ تھا اور ہمیشہ اس دوران میں لاپتہ ہی رہا۔

امریکہ نے دکھاوے کے لئے قرارداد منظور کرانے کی بھی کوشش کی تو اسے روس کی طرف سے ویٹو کر دیا گیا۔ چین نے اس وقت ہر ممکن مدد کی، لیبیا کے کرنل قذافی نے بھی جنگ کے دوران بیانات دیئے لیکن حقیقت تو آپ کے سامنے ہے کہ پاکستان کو توڑ دیا گیا اور مشرقی پاکستان کا حصہ الگ کرکے الگ ملک بنگلہ دیش کے نام سے بنا دیا گیا جسے دنیا کے اکثر ممالک میں فوراً ایک آزاد، الگ اور خودمختار حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا۔ بعد میں خود پاکستان نے بھی بنگلہ دیش کو تسلیم کر لینے کا اعلان کر دیا اور اپنا سفارت خانہ بھی ڈھاکہ میں قائم کر دیا۔

امریکہ کے اس رویہ کے بعد ہمارے حکمرانوں کا فرض تھا کہ وہ امریکہ سے خود کو آہستہ آہستہ الگ کرنے کی پالیسی اپناتے اور اپنی معاشی ترقی کے بل بوتے پر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

صرف چند برس بعد ہی افغانستان میں ہم اس کی جنگ لڑنے میں مصروف ہو گئے اور وہ جب ختم ہوئی تو ایک دہائی کے بعد مزید تباہی پھیلانے کے کاموں میں امریکہ کے حلیف بن بیٹھے۔

آج بھی اگر آپ پاکستانی عوام سے حق اور سچ کی بات پوچھیں تو وہ آپ کو ضرور یہ بتائیں گے کہ اگر آنے والے چند گھنٹوں، دنوں یا مہینوں میں آپ کا ازلی دشمن آپ کے ساتھ جنگ شروع کر دیتا ہے تو پھر آپ کن ملکوں کی طرف دیکھیں گے۔ آپ نے پڑوسیوں میں سے تو افغانستان اور ایران کو خفا کر رکھا ہے۔ ماسوائے چین کے اب شاید ہی کوئی دوسرا آپ کو دکھائی دے۔

ہر پاکستانی کا حق ہے کہ وہ آنے والے کل کے بارے میں خبردار بھی رہے، تیار بھی رہے اور اسے یہ معلوم بھی ہو کہ عوام یا حکومت کہاں کھڑے ہیں۔ اس وقت موجودہ حکومت تو اپنی آئینی مدت پوری کرکے جانے والی ہے۔

نگران حکومت کے پاس اتنا لمبا چوڑا وقت نہیں ہوگا کہ وہ امریکہ کی پالیسی پر کوئی یو ٹرن لے سکے لیکن ایک بات تو آپ کو ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ امریکہ کو جب بھی کسی سے کام ہوتا ہے وہ اس کا دوست ہوتا ہے جب کام نکل جاتا ہے تو وہ واقف بھی نہیں بنتا۔

امریکہ کے بارے میں تو پالیسی بنانا اس لئے بھی زیادہ آسان نہیں کہ آپ نے کئی کئی دہائیاں اس کے اشاروں پر کام کیا ہے اور آپ جنگ میں اتحادی بھی رہے ہیں لہٰذا اب ضرورت اس بات کی ہے کہ چیک اینڈ بیلنس کی طرف جائیں۔

عوام کو دوست اور دشمن کے بارے میں تو بتانا آپ کا فرض ہے۔ آج اگر عوام سے بھی آپ اس سوال پر ریفرنڈم کرا لیں کہ کیا امریکہ جنگ کی صورت میں ہمارا ساتھ دے گا؟ تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -